حرفِ نیاز

اُن کے جمالِ جاں فزا کی بات چاہیے

ذکرِ نبیؐ زباں پہ دن رات چاہیے

جس کی فضا خمارِ محبت سے چُور ہو

رحمت لُٹے جہاں وہ خرابات چاہیے

ہر لحظہ آنسوؤں سے گریباں تر رہے

عشقِ نبیؐ کے درد کی بہتات چاہیے

تنہائیوں میں نعتِ نبیؐ کا اثر تو دیکھ

ویران دل کو بارشِ نفحات چاہیے

بھیجا کر اب دُرود کے تحفے نبیؐ کے نام

اے دل! تجھے تلافیِ مافات چاہیے

دہلیزِ آلِ فاطمہؓ ہو اور سرِ نیاز

مجھ کو فقط غلامیِ سادات چاہیے

مضبوط ہو تعلق خاطرِ حضورؐ سے

محکم ہو رابطۂ جاں وہ مناجات چاہیے

ساجدؔ عطا و جود و کرم کا ہے منتظر

تیری نگاہِ قبلۂ حاجات چاہیے