مقطعے
875 اشعار — جن میں ساجدؔ کا تخلّص ہے
ساجدؔ عطا و جود و کرم کا ہے مُنتَظر
تیری نِگاہِ قبلۂ حاجات چاہیے
حرفِ نیاز
آج کل لحظہ لحظہ ساجدؔ کو
انتظارِ پَیام رہتا ہے
حرفِ نیاز
ساجدؔ ہو مِرا وِرد زبانِ نعتِ محمدؐؐ
میرے لبِ گفتار پہ رحمت کی نظر ہو
حرفِ نیاز
اب تلاطم کا غم نہیں ساجدؔ
میری جاں ناخدا محمدؐؐ ہیں
حرفِ نیاز
ایک ساجدؔ کا دِل
اِس میں لاکھوں ہی غم
حرفِ نیاز
حریمِ جان ہے روشن بفیضِ یادِ نبیؐ
بہ جان و دِل ہوا ساجدؔ غلامِ بَطحا کا
حرفِ نیاز
مِرا دِل بھی ہے موردِ لُطف ساجدؔ
مِرے حال پر بھی نظر ہو رہی ہے
حرفِ نیاز
نبیؐ کی نعت میں ساجدؔ مگن ہے شام و سحر
ہے خُوش نصیب بہت دِل جلا محبت کا
حرفِ نیاز
نبیؐ کے شہر سے لوٹے ہیں قافلے ساجدؔ
چلی ہوائے نِشاط آفریں مدینے کی
حرفِ نیاز
ایثار و وفا مشربِ عُشاق ہے ساجدؔ
ایثارِ دِل و جان کا ہم کرتے رہیں گے
حرفِ نیاز
کتنے بیدار بخت ہو ساجدؔ
شاہِ شاہاں کے تم ثناخواں ہو
حرفِ نیاز
ساجدؔ تھے دِل میں لاکھ سُخن ہائے گُفتنی
شعر و سُخن وسیلۂ اظہار ہو گیا
حرفِ نیاز
جان رنجور ہے دِل وقفِ پریشانی ہے
ساجدؔ غمزدہ ہے تیرے حوالے خواجہ
حرفِ نیاز
اب تو ساجدؔ کو ملے اذنِ حضوری شاہا!
سامنے گائے تِرے تیرا ترانہ خواجہ!
حرفِ نیاز
تُو نے ساجدؔ کو عطا کی مَستی
شاہِ ذی شان مدینے والے
حرفِ نیاز
کیا کرے نذرِ ساجدؔ ناچیز
کہ کرے مجھ سا بے ہنر قُرباں
حرفِ نیاز
کس قدر خُوش نصیب ہے ساجدؔ
اِس کے سُلطاں امیرِ مُرسَل ہیں
حرفِ نیاز
دیکھنا آمدِ محبوب پہ ساجدؔ کیسے
سرخوشی سارے جہاں کی میرے گھر آتی ہے
حرفِ نیاز
ساجدؔ ہر اِک گھڑی ہے خُوشی کا پَیامِ نو
اللہ کا حبیبؐ اگر مِہرباں ہے
حرفِ نیاز
یادِ محبوب ہے ساجدؔ مِرے نغمات کی جاں
جذبۂ جاں کا سِوا نغمہ اُبلتا ہی نہیں
حرفِ نیاز
گِرہ جب بھی دِل میں پڑی کوئی ساجدؔ
بہت دِل کو غنچۂ دہن یاد آیا
حرفِ نیاز
میرے حصے میں شُکر ہے ساجدؔ
مِدحتِ شاہِ خسرواں آئی
حرفِ نیاز
نبیؐ کا دامَنِ رحمت وہ بحر ہے ساجدؔ
جو اس میں ڈوب گیا لعلِ ارجمند ہوا
حرفِ نیاز
وہ اِک نظر میں بنا دیں گَدا کو شہ ساجدؔ
حضورؐ کے لیے مشکل نہیں محال نہیں
حرفِ نیاز
ساجدؔ بے ہنر سے اے خواجہ!
تیری توصیف کیا بیاں ہوگی
حرفِ نیاز
روز و شب رہتا ہے ساجدؔ بے خود
چشمِ محشور کا مارا ہو گا
حرفِ نیاز
کتنے عظیم لوگ تھے ساجدؔ نِگاہ میں
جن سے رہی ہے اپنی ملاقات رات بھر
حرفِ نیاز
ساجدؔ بغَل میں غیر ہے لازم ہے احتیاط
آتا کبھی نہ نفس کی ہم ساز باز میں
حرفِ نیاز
جہاں سے مرض اپنا ساجدؔ جُدا ہے
ہماری دوا ہیں ہمارے محمدؐؐ
حرفِ نیاز
رگِ جاں ہے ساجدؔ مجھے ذِکرِ اُن کا
محمدؐؐ کی مِدحت مِری زِندگی ہے
حرفِ نیاز
کر غلامی حضورؐ کی ساجدؔ
بادشاہِ جہاں محمدؐؐ ہیں
حرفِ نیاز
یاد میں تیری مست ہے ساجدؔ
میرے آقا! یہ نقشِ خَوار تِرا
حرفِ نیاز
نبیؐ کا شہر ہے آہستہ سانس لے ساجدؔ
نظر جھکا درِ خیرُالانام آیا ہے
حرفِ نیاز
ساجدؔ میرے احساس میں جو نُورِ طَرَب ہے
یہ جلوۂ اسمائے رسُولِ عربی ہے
حرفِ نیاز
غم نہ کھا ساجدؔ حَزیں مت رو
میرے آقا کا بول بالا ہے
حرفِ نیاز
ساجدؔ میں مبتلائے الَم جب کبھی ہوا
تَسکین بن کے آئی خموشی یادِ مصطفیٰ
حرفِ نیاز
پُرسش جو میرے حال کی ساجدؔ کسی نے کی
میں نے نبیؐ کی نعت کا نغمہ سُنا دیا
حرفِ نیاز
مدت ہوئی ہے ساجدؔ غمکیں ہے مُنتَظر
اس کو بھی حکمِ حاضری بارگاہ ہو
حرفِ نیاز
آپؐ کے دم سے زِندہ ہے ساجدؔ کا دِل
آپؐ ساجدؔ کے ایمان کی جان ہیں
حرفِ نیاز
جو گردِ کف پا کو بنا دیتا ہے اِکسیر ⚠️
اس سوز کا ساجدؔ بھی طلبگار ہے خواجہ ⚠️
حرفِ نیاز
نِگاہِ لُطف سے ساجدؔ کو اپنے پاس بلا
غلام تُجھ سے تِرا دُور ہے رسُولِ خُدا
حرفِ نیاز
نِگاہِ لُطف نے ساجدؔ حیاتِ نو بخشی
عَبث عِلاجِ مِرا کرنے چارہ گر آئے
حرفِ نیاز
غم و الَم سے مِرا دِل ہے خوبچکاں ساجدؔ
تو چھیڑ تذکرۂ کیف زا مدینے کا
حرفِ نیاز
مجھ پہ فیضانِ نعت کا ساجدؔ
رحمتِ ایزدی ہے شُکرِ خُدا
حرفِ نیاز
ساجدؔ کو جس کے لُطف نے بخشا ہے یہ سرُور
ذو جاں کائنات محمدؐؐ کی ذات ہے
حرفِ نیاز
ہے ساجدؔ تِرے در کا ادنیٰ گَدا
خدارا نَوازِش ہو شاہِ حِجاز
حرفِ نیاز
ساجدؔ ہے مجھے نامِ محمدؐؐ کا سہارا
ہے وِردِ مِرا مِدحتِ محبوبِ دو عالَم
حرفِ نیاز
آج ساجدؔ خُوشی مِل کی ہے اوج پر
شہرِ محبوبؐ کوں و مَکاں مل گیا
حرفِ نیاز
کیسے ہو ساجدؔ بیاں وصفِ نبیؐ
جلوۂ حُسنِ خُدا ہیں مصطفیٰ
حرفِ نیاز
"حرفِ نِیاز" تحفۂ ساجدؔ قبول ہو
لایا ہے کتنے شوق سے ڈالی حضورؐ کی
حرفِ نیاز
سمجھائے جاں! تیرا مسکین ساجدؔ
لگا ہے مجھے تیرا آزار آیا ⚠️
حرفِ نیاز
اس چشمِ اِلتِفات کے قُرباں ہیں جان و دِل
ساجدؔ مِرا وجود سراپا سپاس ہے
حرفِ نیاز
ہر سِمت جلوہ بار محمدؐؐ کا نُور ہے
ساجدؔ نبیؐ کا فیض تجلّی کدھر نہیں
حرفِ نیاز
ہیں دریچہ و بامِ نُورِ افشاں
کون ساجدؔ کے آج گھر آئے
حرفِ نیاز
میں ساجدؔ نام کا ہوں کام ساجدؔ مجھے کر دے
غُبارِ راہ کی صورت پڑا ہوں یا رسُول اللہ
حرفِ نیاز
ساجدؔ خُدا کی دین ہے ذوقِ سماع بھی
کرتی ہے رقص روح مِری بزمِ چنگ میں
حرفِ نیاز
زِندگی گذرے تیری محبت کا دم بھرتے گُن گاتے
ہو دم آخر ساجدؔ کے ہونٹوں پر آقا تیری بات
حرفِ نیاز
نغمۂ نعت گائے جا ساجدؔ
مدحِ خیرُالانام شام و سحر
حرفِ نیاز
کتنے خُوش بخت ہو ساجدؔ نغمہ خواں
تُجھ کو بخشا گا ذوقِ نعت و ثَنا
حرفِ نیاز
ساجدؔ نہیں ہے فکر ہمیں یومِ حشر کی
ہوگی نصیب ہم کو شفاعتِ رسُولؐ کی
حرفِ نیاز
ہے جس کی یاد ساجدؔ جانِ میری
نظر وہ خُوش لقا آئے خُدایا!
حرفِ نیاز
مجھوم کے مَستی میں ساجدؔ نے سنایا نغمہ
لب پہ آیا جو تِرا نام سرِ شامِ نبیؐ
حرفِ نیاز
ترنّا ہی ساجدؔ ہے دراصل جینا
یہ اُس کا کرم ہے جو تڑپا رہا ہے
حرفِ نیاز
نبیؐ کے نام پہ ساجدؔ کے سب قصور معاف
ہے تیری ذات رحیم و غفور یا اللہ!
حرفِ نیاز
شبیہ مجھ کو ہوتا ہے اپنے پہ ساجدؔ
پرندہ جو بے بال و پر دیکھتا ہوں
حرفِ نیاز
صلِّ علیٰ محبتِ مہرِ علیؓ کا فیض
ساجدؔ بھی آج شامِل بزمِ شِفا ہوا
حرفِ نیاز
گذرتا ہے مِرے میں وقت ساجدؔ
مدینے کے عجب شام و سحر ہیں
حرفِ نیاز
مِرا دِل مچلتا ہے رہ رہ کے ساجدؔ
مِری آرزو میرا ارمان آیا
حرفِ نیاز
تم ہی عنوانِ شعرِ ساجدؔ ہو
اِس کا موضوعِ گفتگو تم ہو
حرفِ نیاز
اِدھر بھی اِک نظر ساجدؔ بھی شامِل ہے گداؤں میں
ہماری سِمت بھی چشمِ کرم نامِ خُدا آئے
حرفِ نیاز
میں زِندہ ہوں ساجدؔ طفیلِ شِفا
دِلوں کا سہارا ہے نعتِ نبیؐ
حرفِ نیاز
گُزار اپنے دِن رات ساجدؔ خُوشی سے
حبیبِ خُدا ہے نِگہبان تیرا
حرفِ نیاز
بخش ساجدؔ کو نظرِ عِرفاں
ہو عطا لُطفِ جاودداں خواجہؐ!
حرفِ نیاز
وہ مِہرباں مجھے بھی بَلائیں گے ساجدؔ
یا نبیؐ جو تم نے کیا انتظار صلِّ علیٰ
حرفِ نیاز
حشر کے دِن بھی ہو ساجدؔ کی زُباں محوِ ثَنا
لب پہ اِس کے ہو تیرا نغمۂ مِدحت آقا
حرفِ نیاز
خیرات ملے اِس کو بھی حسنینؓ کے صدقے
ساجدؔ بڑا نادار ہے فریاد ہے فریاد
حرفِ نیاز
خُدا کا شُکر ہے ساجدؔ نبیؐ کے گُلشن میں
مجھے مَقام ملا زمزمہ سرائی کا
حرفِ نیاز
یہ منصب ہے ساجدؔ عطا آپؐ کی
محمدؐؐ کی مِدحت بڑی چیز ہے
حرفِ نیاز
رواں ہے قافلہ ساجدؔ بنوئے شہرِ نبیؐ
میں کم نصیب ابھی دِل نگار پھرتا ہوں ⚠️
حرفِ نیاز
ہے دُشوار ساجدؔ ثنائے نبیؐ
ثنائے نبیؐ کو زُباں چاہیے
حرفِ نیاز
تمام رات رہے محوِ نعت ہم ساجدؔ
نبیؐ کے شوق میں دریا بہائے کیا کیا
حرفِ نیاز
خدارا یا نبیؐ! ساجدؔ پہ بھی چشمِ نَوازِش
خُوش قِسِمت شُمار اِس کا بھی ہو مِدحت سراؤں میں
حرفِ نیاز
ساجدؔ خستہ پہ اِک چشمِ عِنایَت خواجہؐ!
در پہ آیا ہے تِرے تیرا ثناخواں مددے
حرفِ نیاز
ہے سُلطانِ رحمت کی خِدمت میں ساجدؔ
گزارش دِل و جان کی عاجزانہ
حرفِ نیاز
خُدا کرے ہمیں ساجدؔ نصیب خاکِ حِجاز
مِرے کی نیند وہاں میرے یار آئے گی
حرفِ نیاز
سدا لب پہ ساجدؔ ہو نعتِ نبیؐ
مِری زِندگی ہو اسی میں تمام
حرفِ نیاز
اے خوشا! یادِ حُسنِ پیغمبرؐ
ساجدؔ اب شاعری کے دِن آئے
حرفِ نیاز
آپؐ کا ذِکر ساجدؔ کی جانِ سُخن
اِس کا موضوعِ حرف و بیاں آپؐ ہیں
حرفِ نیاز
ساجدؔ مجھے ہو یورشِ غم کا مَلال کیا
میری پناہ یادِ نبیؐ کا حِصار ہے
حرفِ نیاز
بڑا حرا ہے محمدؐؐ کی نعت میں ساجدؔ
خُدا نصیب کرے کیف و حال کی باتیں
حرفِ نیاز
علیؓ کا سینہ ہے جلوہ گہِ نبیؐ ساجدؔ
ہے مِشکِ بار ہوا چار سُو مدینے کی
حرفِ نیاز
ساجدؔ بے ہنر کا کیا مقدور
اُن کے حسّاں سے شاخواں ہیں
حرفِ نیاز
یہ جملہ صِدق و یقین کا نشان ہے ساجد
خُدا کی خاص عطا لا إلہٰ إلا اللہ
نور و سرور
نبیؐ کے نام پہ ساجد کے سب قصور معاف
ہے تیری ذاتِ رحیم و غفور یا اللہ!
نور و سرور
لا الہٰ الا ہُو، حقیقتِ اَتَم ساجد
اور جانِ ماء تُو، محمدؐؐ رسُولِ اللہ
نور و سرور
ساجد ہے دِل میں شوق بکثرت پڑھوں درود
کچھ اُن کی نذر کرنے کو سوغات چاہیے
نور و سرور
آج کل لمحہ لمحہ ساجد کو
انتظار پَیام رہتا ہے
نور و سرور
شائستہ و شایستہ ہو زُباں نعت کی ساجد
میرے لب گفتار پہ رحمت کی نظر ہو
نور و سرور
وہ ہیں تمام رحمتِ حق، ساجد
اِک وفا کا پتا، محمدؐؐ ہیں
نور و سرور
حرم کے صحن کی ہیں خاکروب یہ پلکیں
بجان و دِل ہوا ساجد غلام بَطحا کا
نور و سرور
فقَط میں نہیں موردِ لُطفِ ساجد
سب اہلِ جہاں پر نظر ہو رہی ہے
نور و سرور
نبیؐ کی نعت میں ساجد مگن ہے شام و سحر
ہے خُوش نصیب یہ نغمۂ سرا محبت کا
نور و سرور
نبیؐ کے شہر سے لوٹے ہیں قافلے ساجد
چلی ہوائے نِشاط آفریں مدینے کی
نور و سرور
ساجد کو بزم میں کوئی پہچانتا نہ تھا
نعتِ نبیؐ وسیلۂ اظہار ہو گیا
نور و سرور
جانِ ساجد کی غمِ دَہر سے پائے گی نَجات
اپنا اللہ فقیر اِس کو بنالے خواجہؒ!
نور و سرور
اب تو ساجد کے بھی نام آئے حضوریؐ کا پَیام
گائے یہ اُن کا فقیر اُن کا ترانۂ اللہ
نور و سرور
کیا کرے نذر ساجد ناچیز
کیا کرے مجھ سا بے ہنر قُرباں
نور و سرور
کِس قدر خُوش نصیب ہے ساجد
اُس کے سُلطاں، امیرؐ مُرُسُلؐ ہیں
نور و سرور
ساجد نہیں ہے غم کوئی روزِ حِساب کا
اللہ کا حبیبؐ اگر مِہربان ہے
نور و سرور
تپشِ شوق ہے ساجد مِرے نغمات کی جاں
گرمیِ جاں کے سِوا نغمۂ ابلا ہی نہیں ⚠️ [ابلا: شاید "ابلق" یا "ابتدا"]
نور و سرور
وہ شفقت مِرے حال پر اُن کی ساجد
عِلاجِ غمِ دِل شکن یاد آیا
نور و سرور
میرے نَصمے میں، شُکر ہے، ساجد
مِدحتِ شاہِ خُسرواں آئی
نور و سرور
نبیؐ کی ذاتِ کرم کا وہ بحر ہے ساجد
دِل اِس میں ڈوب کے لَو لُوئے ارجمند ہُوا
نور و سرور
جو نام لیوا ہے حق کے حبیبؐ کا ساجد
کسی طرح کا اسے غم نہیں، مَلال نہیں
نور و سرور
تاحقیقت شناس ساجد سے
اُن کی توصیف کیا بیاں ہو گی
نور و سرور
حشر کی سخت گھڑی میں ساجد
اُن کی شفقت کا سہارا ہو گا
نور و سرور
کتنے عظیم لوگ تھے ساجد نِگاہ میں
جن سے رہی ہے اپنی ملاقاتِ رات بھر
نور و سرور
غم ہو کِس بات کا ہمیں ساجد
ہم پہ جب مِہرباں محمدؐؐ ہیں
نور و سرور
نبیؐ کا شہر ہے آہستہ سانس لے ساجد
نظر جھُکا، درِ خیرُالانام آیا ہے
نور و سرور
ساجد مِرے وِجدان کی دُنیا ہے مُنوّر
یہ جلوۂ اسمائے رسُولؐ عربی ہے
نور و سرور
ساجد میں مبتلائے الَم جب کبھی ہُوا
آیا خُوشی ہے بن کے صدا ذِکرِ مصطفیٰؐ
نور و سرور
پُرسش جو مِرے حال کی ساجد نے کی کسی
میں نے نبیؐ کی نعت کا نغمۂ ثَنا دیا
نور و سرور
مدت ہوئی ہے ساجد غمگیں ہے مُنتَظر
اِس کو بھی حکمِ حاضریِ بارگاہ ہو
نور و سرور
آپؐ کے دم سے ہے شادِ ساجد کا دِل
آپؐ ہی اِس کے ایمان کی جان ہیں
نور و سرور
جِس کیف سے محظوظ ہوئے رُویِ وجامیؐ
اِس کیف کا ساجد بھی طلبگار ہے خواجہؒ!
نور و سرور
بسر ہو زِندگی ساجد کی آپؐ کے در پر
کبھی غلام نہ ہو دور یا رسُولؐ اللہ!
نور و سرور
نِگاہِ لُطف نے ساجد کو حیات تو بخشی
عَبث عِلاج کرنے چارہ گر آئے
نور و سرور
دعائیں دے گا یہ قلبِ حَزیں تجھے ساجد
تُو چھیڑ ذِکرِ مُبارَک ذرا مدینے کا
نور و سرور
مجھ پہ فیضانِ نعت کا ساجد
رحمتِ ایزدی ہے صلِّ علیٰ
نور و سرور
ساجد ہے جِس کی چشمِ عِنایَت سے شادِ کام
وہ جانِ کائناتِ خُدا کا حبیب ہے
نور و سرور
مَکاں جس کے دم سے ہے ساجد حَسِیں
وہی لامَکاں کا حَسِیں شاہباز
نور و سرور
ساجد مِرا دِل رہتا ہے مسرور ہمیشہ
ہے وِردِ مِرا مِدحتِ محبوبؐ دو عالَم
نور و سرور
اب تو ساجد بہت بڑھ گئیں رونقیں
اب مجھے اِک دِلِ نغمہ خواں مل گیا
نور و سرور
"نُور و سُرور" تحفۂ ساجد قبول ہو
لایا ہے کتنے شوق سے ڈالیِ حضورؐ کی
نور و سرور
مسیحائے جاں، ساجد دِلِ گرفتہ
جسے ہے محبت کا آزار آیا
نور و سرور
ہر سِمت جلوہ بار محمدؐؐ کا نُور ہے
ساجد نبیؐ کا فیضِ تجلّی کدھر نہیں
نور و سرور
بام و در سے بھی پھُوٹتی ہے بہار
کُون ساجد کے آج گھر آئے
نور و سرور
میں ساجد نام کا ہوں کامِ ساجد بھی بن جاوں
تِری دامَن لیے کب سے کھڑا ہوں یا رسُولؐ اللہ!
نور و سرور
ساجد عجیب چیز ہے ذوقِ سماع بھی
کرتی ہے رقصِ روح مِری بزمِ چنگ میں
نور و سرور
زِندگی گزرے اُن کی محبت کا دم بھرتے گن گاتے
ہو دمِ آخر ساجد کے ہونٹوں پر جاری اُن کی بات
نور و سرور
تُجھ کو ساجد خُدا نصیب کرے
مِدحتِ خیرُالانام، شام و سحر
نور و سرور
اندیشۂ روزِ حشر کا ساجد نہیں ہمیں
ہو گی نصیب ہم کو شفاعتِ رسُولؐ کی
نور و سرور
ہے جِس کی یاد نُورِ دِلِ ساجد
وہ خوشلقا آئے تو دیکھوں
نور و سرور
دِلِ بے نَوا یاد آتا ہے ساجد
پرندہ جو بے بال و پر دیکھتا ہوں
نور و سرور
صلِّ علیٰ، محبتِ مہرِ علیؒ کا فیض
ساجد بھی آج شامِلِ بزم ثَنا ہُوا
نور و سرور
گزرتا ہے مزے میں وقت ساجد
مدینے کے عجب شام و سحر ہیں
نور و سرور
شعرِ ساجد کا آپؐ کا عنواں ہیں
اِس کا موضوعِ گفتگو ہیں آپؐ
نور و سرور
بڑی مدت سے بیٹھا ہے کشکولِ دِل خالی
نِگاہِ لُطف ساجد پر بنامِ کِبریا آئے
نور و سرور
کبھی وہ بھی دِن رات آئیں گے ساجد
میں ہوں گا مدینے میں مہماں نبیؐ کا
نور و سرور
وہ ہیں ساجد انیسِ غمزدگاں
بے نَواؤں پہ مِہرباں ہے رسُولؐ
نور و سرور
تجھے ضرور وہ درؐ پر بَلائیں گے ساجد
نہیں فضول تِرا انتظار، صلِّ علیٰ
نور و سرور
حشر کے روز بھی مصروفِ ثَنا ہو ساجد
اِس کے لب پر ہو یُونہی آپؐ کی مِدحت شاہا!
نور و سرور
خُدا کا شُکر ہے ساجد نبیؐ کے گُلشن میں
مجھے مَقام ملا زمزمہ سرائی کا
نور و سرور
اِسی سے ہیں ساجد بہاریں کبھی
محمدؐؐ کی مِدحت بڑی چیز ہے
نور و سرور
نبیؐ کے شہر کا عزمِ سفر لیے ساجد
ابھی میں محوِ غمِ انتظار پھرتا ہوں
نور و سرور
ہو کِس منہ سے ساجد ثنائے نبیؐ
ثنائے نبیؐ کو زُباں چاہیے
نور و سرور
نبیؐ نے گریبیں مَعارِف کی کھول کر ساجد
علومِ لوح و قلم کے سِکھا دیے کیا کیا
نور و سرور
جو ہو لُطف و عِنایَت کی نظر مسکینِ ساجد پر
شُمار اِس کا بھی ہو سُلطان کے مِدحت سراؤں میں
نور و سرور
ساجد خستہ پہ رحمت کی نظر ہو جائے
مُنتَظرِ لُطف کا قرّب سے ہے ثناخواں مددے
نور و سرور
ہے سُلطانِ رحمت کی خِدمت میں ساجد
گزارش دِل و جاں کی یہ عاجزانہ
نور و سرور
خُدا کرے ہمیں ساجد نصیب خاکِ حِجاز
مزے کی نیند وہاں میرے یار! آئے گی
نور و سرور
آپؐ کا ذِکر ساجد کی جانِ سُخن
اِس کا موضوعِ فکر و بیاں آپؐ ہیں
نور و سرور
بڑا مزا ہے محمدؐؐ کی نعت میں ساجد
خُدا نصیب کرے کیفِ و حال کی باتیں
نور و سرور
ساجد خُدا کا شُکر ہے فیضانِ نعت سے
میرا غریب خانہ شبِستاں ہے آج کل
نور و سرور
رات دِن لکھتا رہوں ساجد ثنائے مصطفیٰؐ
طبعِ موزوں کو مِری ایسی روانی چاہیے
نور و سرور
رات دِن ساجد نظر میں اب بہارِ خُلد ہے
شاہؐ کے دربارِ اَقُدس میں غلام آہی گیا
نور و سرور
ساجد حرمِ حضورؐ کا روشن ہے رات دِن
اللہ، کیا حَسِیں شبِستاں نظر میں ہے
نور و سرور
ساجد ہے ذِکرِ مصطفیٰؐ ہی میری زِندگی
ہے شیفتۂ مِرا دِلِ مُضطَر رسُولؐ کا
نور و سرور
ساجد ہے شوقِ شعر فقَط اُن کے شوق میں
منسوب شاعری ہے مِری اُن کے نام سے
نور و سرور
ہے مُقدّر کا سکندر کا اُس پر فِدا
جِس کو ساجد ملی آپؐ کی روشنی
نور و سرور
پیش کرتے ہیں وہ نذرانۂ ثَنا کے ساجد
مست رہتے ہیں ثناخواں درِ اَقُدس پر
نور و سرور
ہر صبحِ نئی نعت مِرے لب پہ ہے ساجد
تائیدِ خُداوند سے ہے طبعِ رواں اور
نور و سرور
اپنی قِسِمت میں شُکر ہے ساجد
پِیرَوی آنجنابؐ کی آئی
نور و سرور
ذِکرِ اُن کا ہے پاسباں ساجد
رنج و آلام جب ستاتے ہیں
نور و سرور
مٹانے قلب سے ساجد نقوش باطِل کے
دکھانے حُسنِ خُداوند مصطفیٰؐ آئے
نور و سرور
بھرم کے آتے ہیں وہ دامانِ تمنا ساجد
آپؐ کی سِمت جو بادیدۂ تر جاتے ہیں
نور و سرور
ساجد کو خاص اِذنِ حضوری ہو اے کریم!
بیٹھا رہے گا درؐ پہ غلامِ آپؐ ہی کا ہے
نور و سرور
ساجد بشر اسیرِ الَم تھا کہ آنجنابؐ
بہرِ نَجات آئے سویرا لیے ہوئے
نور و سرور
خوب رُو کون ہے ساجد اُن سا
اُن گنت حُسنِ شمائل ہوئے آئے
نور و سرور
دم واپسیں میرے لب پر ہو ساجد
ثنائے محترم کی، اللہ اللہ
نور و سرور
کھا گئی دِل کو تِیرَگی ساجد
روشنی کے گُہر کی بات کریں
نور و سرور
ساجد کو کون پوچھتا تھا بزمِ شعر میں
فیضِ نظر سے اہلِ ہنر تک پہنچ گیا
نور و سرور
ساجد بنام سیّدؐ عالَم درود بھیج
کیسی ہی کیوں نہ تیری طبیعت علیل ہے
نور و سرور
ساجد نبیؐ کی ذات ہے واصِل بہ ذاتِ حق
شامِل وہ خَلق میں ہے مگر بے مِثال ہے
نور و سرور
انہی کے نعت سے ساجد مِرا تعارف ہو
ہو میرے وِرد زُباں اُن کا نام، صلِّ علیٰ
نور و سرور
خورشید و ماہ، انفس و آفاق، خشک و تر
ساجد ہیں سب خلا وَ ملا آپؐ کے لیے
نور و سرور
جِس کے لب پر درود ہے ساجد
شامِلِ بزمِ نُور رہتا ہے
نور و سرور
سُنی ہے نعتِ نبیؐ آج ہم نے ساجد سے
ہمارے قلبِ حَزیں کو بہت قرار ملا
نور و سرور
خُدا مجھ کو ساجد کو توفیق دے
کروں تذکرہ میں رقمِ آپؐ کا
نور و سرور
ساجد فضا میں مِشک و سمن ہیں بسے ہوئے
دِل میں خُوشی ہے زمزمہ خواں اُن کے شہر میں
نور و سرور
سراسر ہے یہ فیضانِ زیارت
شبانہ روز ساجد شادماں ہے
نور و سرور
گھری ہے اُمتِ مسلم یہود میں ساجد
خُدا کرے، مِری فریاد شاہؐ تک پہنچے
نور و سرور
سببِ یہ چشمِ زدن میں بَہَم ہُوا ساجد
تھا دِل میں شوق بہت اپنے مِہرباں کے لیے
نور و سرور
اہلِ ارض و سماوات ساجد سبھی
مِدحتِ شاہِؐ میں زمزمہ بار ہیں
نور و سرور
جو تھا مرغوبِ خُداوند جہاں کو ساجد
چشمِ عالَم نے وہی رنگ نکھرتے دیکھا
نور و سرور
بخت جن کے بُلند ہیں ساجد
واصفِ آنجنابؐ ہوتے ہیں
نور و سرور
بسکہ دُشوار مِرا آنا یہاں تھا ساجد
اِک کریمانہ نظرِ کھینچ لے آئی ہے
نور و سرور
ساجد ہے جِن کے واسطے جاں اِضطِراب میں
ہے بے قرار جِن کے لیے دِل وہ آپؐ ہیں
نور و سرور
چاہتا ہے اُنہیں خُدا ساجد
شاہؐ کی جن کو چاہتیں ہیں بہت
نور و سرور
شُکر ساجد اِس کرم کا میں کروں کیسے ادا
مجھ سا نالائق بھی اُن کا زمزمہ خواں ہو گیا
نور و سرور
اُن کی باتیں ہیں ریلی ساجد
اور ہی کچھ ہے حلاوت اُن کی
نور و سرور
ساجد بروز حشروہ ہوں گے مِرے شفیع
پُرسانِ حال میرے یہاں آپؐ ہی تو ہیں
نور و سرور
ساجد، خُدا کا شُکر ہے محبوبِ ذُوالجلال
میرے شفیق و مُونِسِ جاں رہنما ہوئے
نور و سرور
ساجد مجھے یقین ہے وہ بخشوَائیں گے
کیوں دِل میں خوف کیجئے یومِ نشور کا
نور و سرور
ذِکرِ دُنیا فریب ہے ساجد
نُورِ ربِّ جہاں کی بات کریں
نور و سرور
ساجد نبیؐ کی یاد میں محفِل جمی رہے
ہوں محوِ نعت اُن کے ثناخواں رات دِن
نور و سرور
بوقتِ مرگ ہو ساجد نظر میں رُوئے نبیؐ
ہمیں بھی دولتِ ایماں خُدا نصیب کرے
نور و سرور
خُدا نصیب یہ عز و شرف کرے ساجد
میں اُن کے شہر کا ادنیٰ فقیر کہلاؤں
نور و سرور
نعت کا فیض ہے ساجد ورنہ
تُجھ کو آلام نے گھیرا ہوتا
نور و سرور
اُن کے در پر سناؤں گا ساجد
اِس دِلِ پُرملال کی باتیں
نور و سرور
اب تو ساجد پہ خصوصی ہو کرم
اِس کے اب چہرے سے پیری ہے عَیاں
نور و سرور
دیکھ کر زائرِ بَطحا ساجد
دِل کی دُنیا ہی بدل جاتی ہے
نور و سرور
ساجد کے سر پہ سایۂ رحمت مُدام ہو
یہ سُرخرو رہے، سدا با آبرو رہے
نور و سرور
میں کیا ہوں، ہے اوقات کیا میری ساجد
بفیضِ نبیؐ ہے یہ عزت ہے جو بھی
نور و سرور
شاعرِ نعت پہ دِل میرا فِدا ہے ساجد
اچھے لگتے ہیں اگرچہ مجھے فنکار بہت
نور و سرور
ایک ساجد کے ہی نہیں سب کے
آپؐ ہیں آسرا سلام علیک
نور و سرور
سب تُجھ سے ہیں تیرے ہیں بِجُز تیرے علم ساجدؔ
موجُود بہر صورت ہے تُو عَیاں تیرا
اُن کی یاد اُن کا خیال
ہے یہ گنجینۂ بے بہا ساجدؔ
نسخۂ کیمیا درود شریف
اُن کی یاد اُن کا خیال
خداوندا! تِری توفیق سے ساجدؔ ثَنا خواں ہے
تِری تائیدِ رحمت سے یہ ہے لغوِ سرا واللہ
اُن کی یاد اُن کا خیال
ساجدؔ نعت گو کے ہو لب پر درود ہر گھڑی
حق سے ہے اس کی یہ دُعا صلِّ علیٰ محمدؐؐ
اُن کی یاد اُن کا خیال
فیضان ہے یہ سارا اُن نبیؐ کی نظر کا ساجدؔ
نعتِ رسُول میں جو رقیں بیانیاں ہیں ⚠️
اُن کی یاد اُن کا خیال
میرے دِل کی ہے تمنّا ساجدؔ
عمر اس در پہ بسر ہو جائے
اُن کی یاد اُن کا خیال
کاش کھل جائے مِرا دیدۂ باطِن ساجدؔ
میں جدھر دیکھوں اُدھر نُورِ حقیقت دیکھوں
اُن کی یاد اُن کا خیال
اُن کی وہ چشمِ عِنایَت ساجدؔ
چارۂ کُلفت و غم یاد آیا
اُن کی یاد اُن کا خیال
کرم اور ہو ساجدؔ نعت گو پر
ہو پہلے سے فیضانِ نِسبت زیادہ
اُن کی یاد اُن کا خیال
ساجدؔ طہارتِ دِل و جاں چاہیے اگر
پاکیزگی فکر و تخیّل کی سُو کریں ⚠️
اُن کی یاد اُن کا خیال
مرحبا، شہرِ مصطفیٰ ساجدؔ
اِن در و بام کا جواب نہیں
اُن کی یاد اُن کا خیال
نہیں اور موضوعِ اس کے سُخن کا
یہ ساجدؔ ہے نغمہ سرائے مدینہ
اُن کی یاد اُن کا خیال
اے خُدا! اُن کی نَوازِش ہو مُدام
تیرے ساجدؔ کو یہ نعمت چاہیے
اُن کی یاد اُن کا خیال
سانس لو باادب یہاں ساجدؔ
لب کشائی کی ہے مجال کہاں
اُن کی یاد اُن کا خیال
ساجدؔ نہیں وہ اہلِ وفا ہی کے چارہ گر
سارے جہاں کے ہیں مسیحا مِرے حضور
اُن کی یاد اُن کا خیال
رونقِ بزم ہے یہ اُن کے کرم سے ساجدؔ
دِل شیدا ہے مِرا زمزمہ خواں شام و سحر
اُن کی یاد اُن کا خیال
وہ خیالوں میں ہیں ساجدؔ ہر گھڑی
اب رگِ جاں اُن کی مِدحت ہوگئی
اُن کی یاد اُن کا خیال
ساجدؔ کرم سے خاص ہے میرے کریم کا
پہلے نہیں کبھی تو خوب جو حالت ہے اِن دنوں ⚠️
اُن کی یاد اُن کا خیال
کل جو ساجدؔ اسیرِ غم و دَہر تھا
نظمِ رحمت سے وہ کیا سے کیا ہوگیا
اُن کی یاد اُن کا خیال
آزاد رنج و غم سے بھرتا ہے شاد و خُرّم
ہے جان و دِل سے ساجدؔ اُونا غلام اُن کا ⚠️
اُن کی یاد اُن کا خیال
نہیں مشکل اُن کو کوئی بات ساجدؔ
اُٹھے شاد کر دیں ہے شاہ چاہیں ⚠️
اُن کی یاد اُن کا خیال
شُکرِ حق، اس در کا ساجدؔ ہے فقیر
شاہ کا یہ بندۂ بے دام ہے
اُن کی یاد اُن کا خیال
ہے ساجدؔ کا آقا محبت مجسّم
تخلّی ہے سارے کا سارا وہ پیارا ⚠️
اُن کی یاد اُن کا خیال
مدینے کے باشی مکرّم ہیں ساجدؔ
ہیں سب محترم خاص و عامِ مدینہ
اُن کی یاد اُن کا خیال
مفلس کو غنی، سنگ کو یاقوت بنا دیں
ساجدؔ یہ ذرا بھی انہیں دُشوار نہیں ہے
اُن کی یاد اُن کا خیال
ساجدؔ میں کچھ نہیں ہوں کریم ہے کریم کا
مجھ میں کوئی ہنر ہے نہ کوئی کمال ہے
اُن کی یاد اُن کا خیال
نعت آئی میرے لب پر ساجدؔ
جب بھی دِل مائل فریاد آیا
اُن کی یاد اُن کا خیال
اس درجہ مجھ پہ رحمتِ حق مِہرباں ہو
ساجدؔ تمام عمر میں نعتیں کھلا ⚠️ کروں
اُن کی یاد اُن کا خیال
نبیؐ کے ہو قدموں پہ ساجدؔ مِرا سر
مِری زِندگی ہو نثارِ مدینہ
اُن کی یاد اُن کا خیال
نعت کے فیضان سے سرُور ہے دِل رات دِن
ساجدؔ مِدحت سرا مِدحت کے فن میں مست ہے
اُن کی یاد اُن کا خیال
ساجدؔ کھلا ہے راز بفیضِ شہِ رُسُل
میری نظر میں اور بھی حُسنِ بشر ہے آج
اُن کی یاد اُن کا خیال
چند برسوں سے ہے قیام پنجرے ⚠️
جاں ساجدؔ مِری مدینے میں
اُن کی یاد اُن کا خیال
ساجدؔ دکھا کے شاہ نے اپنا رُخِ حَسِیں
قلبِ جہاں پہ حُسن کا پیمانہ ⚠️ بٹھا دیا
اُن کی یاد اُن کا خیال
اُن کے دم سے ہے دم میں دم ساجدؔ
ہیں مِرے دِل کا مُدّعا جاناں
اُن کی یاد اُن کا خیال
غموں سے ہے گرانی دِل پہ ساجدؔ
ذرا تکلیف دینا نعت خواں کو
اُن کی یاد اُن کا خیال
مِرے احباب کچھ صلّ علیٰ میں غرق ہیں ساجدؔ
کچھ ایسے ہیں تَصوُّر میں جو اُن کے حضور رہتے ہیں
اُن کی یاد اُن کا خیال
بہت تم پہ ساجدؔ عِنایات ہوں گی
تم اُن کا تَصوُّر جما کر تو دیکھو
اُن کی یاد اُن کا خیال
ہم ایسے بے کاروں پر کرم ساجدؔ ہے یہ فیضانِ شاہِ اُمم
عالَم میں کہاں مُونِسِ ایسا سُبحان اللہ سُبحان اللہ
اُن کی یاد اُن کا خیال
حق قبول اِلتجا کرے ساجدؔ
عمر بھر میں لکھوں ثنائے رسُولؐ
اُن کی یاد اُن کا خیال
اب تو ساجدؔ بس اُن کی نعت رہی
ہم نے یوں زِندگی گزاری ہے
اُن کی یاد اُن کا خیال
جو شخص نعت سرا ہے خلوص سے ساجدؔ
بحمدِ نِیاز ہم اُس نفرِ گر کو دیکھتے ہیں ⚠️
اُن کی یاد اُن کا خیال
مُلتَفِت جب ہو نظرِ اُن کے کرم کی ساجدؔ
کب کوئی راستے دُشوار نظر آتا ہے
اُن کی یاد اُن کا خیال
ساجدؔ نہیں گرچہ عِنایات کا در بند
وا اُس پہ ثناؤِ اُمم اور زیادہ ⚠️
اُن کی یاد اُن کا خیال
ساجدؔ ہے نصابِ اُن کا جداگانہ سراسر
یہ لوحِ فقَط اُن کے دبستاں کے لئے ہے
اُن کی یاد اُن کا خیال
فیضان ہے ساجدؔ یہ درود اور ثَنا کا
کچھ بھی تو نہیں ہے غمِ دُنیا مِرے آگے
اُن کی یاد اُن کا خیال
یا رب! درود لب پر ساجدؔ کے رات دِن ہو
اس کی زبان پر ہو اکثر سلام اُن کا
اُن کی یاد اُن کا خیال
لب پہ ساجدؔ مِرے بے ساختہ آتا ہے درود
غم سے جب ہوتا ہے دِل میرا پریشان بہت
اُن کی یاد اُن کا خیال
ساجدؔ جدھر بھی اُٹھ گئی وہ چشمِ مِہرباں
اُس مت رنج کرے بھی برق و شرر کہاں ⚠️
اُن کی یاد اُن کا خیال
کون سی چیز ہے ساجدؔ کی جہاں میں اپنی
کیا کرے آپ پہ قُربان رسُولِ عربی
اُن کی یاد اُن کا خیال
دے کے ساجدؔ مجھے اللہ نے توفیقِ درود
میرے اندوہ زدہ دِل کو طَرَب زار کیا
اُن کی یاد اُن کا خیال
اپنا بھی ہوتا مدینے میں گھروندا ساجدؔ
غیب سے کوئی نکل آئی اُدھر کی صورت ⚠️
اُن کی یاد اُن کا خیال
آج ساجدؔ کا دِل پریشاں ہے
اُن کے لُطف و کرم کی بات کریں
اُن کی یاد اُن کا خیال
ہر اِک دِل میں ساجدؔ ہو نُورِ نُبُوت
ہو ماہِ ہدایت کا گھر گھر اُجالا
اُن کی یاد اُن کا خیال
میں نبیؐ کی نعت ساجدؔ خوب جی بھر کر لکھوں
چاہیے دُنیا نہ مجھ کو زِندگانی اس قدر
اُن کی یاد اُن کا خیال
رات بھر سُنتے رہے ساجدؔ ثَنا
رات بھر سَرشار و سرخوش ہم رہے
اُن کی یاد اُن کا خیال
خُدا کے واسطے چھیڑو نبیؐ کا تذکرہ ساجدؔ
بہت مُدّت ہوئی ہوئے آنکھوں سے ساون کو ⚠️
اُن کی یاد اُن کا خیال
ہے اس کا ذوقِ طبیعت بہت حسین ساجدؔ
پسند دِل سے مجھے دوسن آنجناب آیا ⚠️
اُن کی یاد اُن کا خیال
دِل سے امیرِ حمزہ پہ ساجدؔ میں ہوں فِدا
دشمن ہزار دِل سے مِرا بولب رہے ⚠️
اُن کی یاد اُن کا خیال
طلبوں کے نہیں بس میں یہ ساجدؔ دِل کی ہے چٹنی ⚠️
مِری اس حالتِ دِل کو کوئی درد آشنا سمجھے
اُن کی یاد اُن کا خیال
یہ سرشاری و بے خُودی ساجدؔ
ہے اسمِ اعظم کا فیضان انہی سے ⚠️
اُن کی یاد اُن کا خیال
سانس لیتا ہوں مدینے کی ہوا میں ساجدؔ
راتیں اچھی ہیں یہ دِن اچھے یہ سال اچھا ہے
اُن کی یاد اُن کا خیال
شاداں ہیں شب و روز مِرے اُن کے کرم سے
ہر آنکھ میں ساجدؔ مجھے اُلفت نظر آئی
اُن کی یاد اُن کا خیال
اپنے وِجدان کا طبعی ہے تقاضا ساجدؔ
ذِکر ہم اُن کی محبت اثر کرتے ہیں ⚠️
اُن کی یاد اُن کا خیال
تمام جَلوے ہیں ساجدؔ یہ ذاتِ واحد کے
خِیالِ غیر کا اب ذہن سے نکال دیا
اُن کی یاد اُن کا خیال
منفرد آلِ محمدؐؐ ہے جہاں میں ساجدؔ
لوگ یہ ہوتے ہیں شرم اور شرافت والے
اُن کی یاد اُن کا خیال
نَجات بخشی ہے ساجدؔ کو آپؐ نے غم سے
قسم خُدا کی بڑے غمگسار آقا ہو
اُن کی یاد اُن کا خیال
ہم بھی⚠️ خاص عِنایَت ہو خُدا کی ساجدؔ
محبوبِ خُداوند کی صورت دیکھیں
اُن کی یاد اُن کا خیال
ساجدؔ تِری مراد دِل و جاں بر آئے گی
اُن کے فقیر موج میں آئے ہوئے تو ہیں
اُن کی یاد اُن کا خیال
ہے نعت گوئی بھی ساجدؔ خُدا کی خاص عطا
نیک⚠️ بخت ہے جو نعت خواں ہوتا ہے
اُن کی یاد اُن کا خیال
ساجدؔ میری جاں نعت سے سَرشار ہے اکثر
وہ دِل نہیں جو نعت سے خرّم نہیں ہوتا
اُن کی یاد اُن کا خیال
ساجدؔ نعت گو کی ہے زِندگی کتنی پُر سُکوں
دفتر نعتِ مصطفیٰ⚠️ اس کو نہال⚠️ کر گیا
اُن کی یاد اُن کا خیال
نہیں خبر مجھے کچھ گردشوں⚠️ کی ساجدؔ
مِرا ہے کام نظر سُوئے مصطفیٰ رکھنا
اُن کی یاد اُن کا خیال
فرطِ درد و غم میں بھی ساجدؔ رہے پاسِ ادب
امتحانِ اُلفت و صبر و رضا کچھ اور ہے
اُن کی یاد اُن کا خیال
ساجدؔ ہے عام فیضِ تجلّیِ حضورؐ کا
ہر بزم میں ضیاء⚠️ اسی مہرِ ہدیٰ⚠️ کی ہے
اُن کی یاد اُن کا خیال
ساجدؔ رواں مُدام رہو اُن کی راہ پر
لازم ہے اتّباعِ⚠️ نبیؐ چال ڈھال میں
اُن کی یاد اُن کا خیال
نفیس⚠️ شے نہیں ساجدؔ خُدا بھی مل جاتا
جو دِل سے غم⚠️ کے پردے اُٹھا دیئے ہوتے
اُن کی یاد اُن کا خیال
شاہ سے نِسبت ہے ساجدؔ نعمتِ حق بے بدل
کھولتی ہے بابِ عِرفاں اُن کی یاد اُن کا خِیال
اُن کی یاد اُن کا خیال
سُلطان بھی حیرت سے ہمیں دیکھیں گے ساجدؔ
جب نعتِ محمدؐؐ کا صلہ پائیں گے ہم لوگ
اُن کی یاد اُن کا خیال
رسُولِ حق کے سِوا یاد کچھ نہیں ساجدؔ
بغیرِ حمد و ثَنا میری شاعری ہی نہیں
اُن کی یاد اُن کا خیال
بفضلِ حق تعالیٰ شادماں ہے ہر گھڑی ساجدؔ
شاکر⚠️ اُن کا ہو زار و زَبُوں یہ ہو نہیں سکتا
اُن کی یاد اُن کا خیال
کافی ہے مجھے نامِ شہِ⚠️ دین کا ساجدؔ
گنجینۂ⚠️ گوہر مجھے درکار نہیں ہے
اُن کی یاد اُن کا خیال
سُلطانِ جہاں ایک نظر سے ہمیں ساجدؔ
زندانِ غمِ دَہر سے آزاد کریں گے
اُن کی یاد اُن کا خیال
بھولنا حق کا بھی⚠️ ہے بھلانا انہیں
ساجدؔ ایسا کبھی نہیں ہو گا
اُن کی یاد اُن کا خیال
ساجدؔ کا نام اہلِ قلم میں ہے معتبر
یہ شاہِ انبیاؐ کی عطائے کبیر ہے
اُن کی یاد اُن کا خیال
دِل مِرا ہوتا ہے سرمست ثَنا سے ساجدؔ
غم کی حالت میری تعبیر⚠️ بدل جاتی ہے
اُن کی یاد اُن کا خیال
خُدا کی ذات کے بے پایاں بحر میں ساجدؔ
علی الدوام فقَط ہے شناوری⚠️ اُن کی
اُن کی یاد اُن کا خیال
اے خُدا! اپنے کرم سے دِل بینا⚠️ دے دے
تیرا ساجدؔ ہوا اُس حُسن کا شامِل⚠️ کیا کیا
اُن کی یاد اُن کا خیال
اُن کا چرچا ہو گو⚠️ بلو⚠️ ساجدؔ
اُن کی باتوں کا ذِکرِ عام کریں
اُن کی یاد اُن کا خیال
لطیفِ⚠️ حق ہوا سرمست نعت گو ساجدؔ
بہ فضلِ حق ہوا سَرشارِ⚠️ نعت خوانِ نبیؐ
اُن کی یاد اُن کا خیال
خُدا کا شُکر ادھر مُلتَفِت⚠️ ہیں وہ ساجدؔ
ہے اُن کے مدِّ نظر اب مِرے نصیب کی بات
اُن کی یاد اُن کا خیال
قلم رواں میرا ساجدؔ رہے ثَنا کے لیے
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
اُن کی یاد اُن کا خیال
ساجدؔ خُدا نے نعتِ نبیؐ کا صلہ دیا
طوفان شدید تھا مگر جلتا رہا دیا
اُن کی یاد اُن کا خیال
ساجدؔ ہے نظر سیّدِ کونین کی بس پر
لاریب ہے وہ محترم و خورسند⚠️ ہمیشہ
اُن کی یاد اُن کا خیال
السلام اے کہ ہے ساجدؔ کا فقَط تُجھ سے بھرم⚠️
حق کے محبوب، دِل و جاں میں سمانے والے
اُن کی یاد اُن کا خیال
اسی کا حسن ہے ساجدؔ جہاں کی زیبائی
سبھی جس کی ہیں رعنائیاں وہی ہے خُدا
محرابِ جاں
یارب! طفیلِ مصطفیٰ ساجدؔ کو بخش دے
شام و سحر یہ بندہ تِرا اشکبار ہے
محرابِ جاں
اے خُدا! ساجدؔ حَسرت ہے تِرے در کا فقیر
اس کو دُنیا میں اگر ہے تو سہارا تیرا
محرابِ جاں
معاملہ ہے یہ مخلوق کا عجب ساجدؔ
اِس اپنے خالِقِ برحق سے آشنائی کا
محرابِ جاں
تیرے ہی خوانِ کرم سے چُن رہے ہیں سب مزے
ذائقے کی آس ساجدؔ کو ہے لذّت کی اُمید
محرابِ جاں
نِشاں ملتا نہیں⚠️ ہے خُدا کی ذات کا ساجدؔ
یہ اِک اعلیٰ کرشمہ ہے جمالِ مصطفائی کا
محرابِ جاں
ہے ساجدؔ ذاتِ حق ربِّ محمدؐؐ
یہ محرابِ جاں پھر کیا نہیں ہے
محرابِ جاں
بزمِ مِدحت میں شرف یاب ہوا ہے ساجدؔ
رحمتِ ربِّ جہاں وجہ پذیرائی ہے
محرابِ جاں
ساجدؔ کو ہے درکار نظر اُن کے کرم کی
دِلِ شام و سحر اس کا ہے مُنتَظرِ اللہ
محرابِ جاں
محبت ہے نبیؐ کی اصل ایمان اصل میں ساجدؔ
نہیں ہے انحصار وَصلِ حق اس شورِ⚠️ حق ہو⚠️ پر
محرابِ جاں
ساجدؔ نِگاہ سے مِری اُٹھے گا کب حِجاب
رہتا ہوں میں مُدام اسی پیچ و تاب میں
محرابِ جاں
ساجدؔ درِ رسُولؐ پہ بنتی⚠️ ہیں نعمتیں
پہنچا ہوں میں بھی شُکر ہے ربِّ عظیم کا
محرابِ جاں
کون یہ آن بسا خانۂ دِل میں ساجدؔ
ہو گئی اور ہی دیوار کی زر⚠️ کی صورت
محرابِ جاں
ہے یہ ساجدؔ مصطفیٰؐ کا خاص فیضانِ کرم
اس مِرے تاریک گھر میں بھی چراغاں ہو گیا
محرابِ جاں
ہے خُودی میں یہ مِری زِندگی گزرے ہے⚠️ ساجدؔ
بھر دے دامانِ طلب چشمِ ترحّم ایسا⚠️
محرابِ جاں
ساجدؔ ہے مجھ پر خاص کرم یہ حضور کا
روشن ہوا ہے پھر ہے دیا یہ بجھا ہوا
محرابِ جاں
ساجدؔ خُدا کا شُکر ہے طوفانِ باد میں
بیڑا مِرا بفیض نبیؐ پار ہو گیا
محرابِ جاں
عمر بھر رات ہو کہ دِن ساجدؔ
مِدحتِ شاہِ نامدار کریں
محرابِ جاں
ایک طوفاں ہے نِہاں خانۂ دِل میں ساجدؔ
بات کہنے کو مگر حلقۂ احباب نہیں
محرابِ جاں
مجھ کو کچھ خوف نہیں ہے ساجدؔ
میرا ایمان رسُولِ اکرم
محرابِ جاں
یا نبیؐ! ساجدؔ کو اب حلمِ⚠️ معافی⚠️ چاہیے
اب کشادِ عقدۂ اہم و مہم⚠️ سننے چاہیے
محرابِ جاں
شاہ روزِ حشر ساجدؔ بخشوَائیں گے ہمیں
سب ادھر دوڑیں گے اندازِ شفاعت دیکھ کر
محرابِ جاں
گُنبدِ خضری کا نظارہ ہے ساجدؔ جاں فِزا
دیکھ کر جس کو ہیں آنکھیں کامگار⚠️ آ ہی گیا
محرابِ جاں
یہاں جب آئے غموں کا ہجوم تھا ساجدؔ
یہاں سے لوٹ تو غم سے فراغ لے کے چلے
محرابِ جاں
ہے کامگار جو اُن کا فقیر ہے ساجدؔ
غلام اُن کا دو عالَم میں کامیاب ہوا
محرابِ جاں
نامِ جب شاہ کا آیا مِرے لب پر ساجدؔ
دیکھتے دیکھتے سب تھم گئے طوفاں کیا کیا
محرابِ جاں
وظیفہ جن کا ہے نامِ نبیؐ شام و سحر ساجدؔ
لبوں پر ایسے لوگوں کے غموں کا ذِکر کب آیا
محرابِ جاں
کھڑے ہیں زُہدی⚠️ و عطّار بھی وہاں خاموش
غریب ساجدؔ لب بند کس قطار میں ہے
محرابِ جاں
کیا پُرخلوص لوگ تھے ساجدؔ وہ حق شناس
اُن کے لیے جو جان کی بازی لگا گئے
محرابِ جاں
ساجدؔ ہو زُباں اور قلم نعت میں مصروف
دِن رات یہی شغل رہے دِل کو جنوں ہے
محرابِ جاں
جو بھی ہیں اہلِ محبت رات کو سوتے نہیں
عِشق کی ساجدؔ نشانی غالب⚠️ تشکیر⚠️ ہے
محرابِ جاں
مجھے اس بات کا ساجدؔ یقیں ہے واثق و راسخ
غلامانِ نبیؐ میں نام میرا بھی رقم ہو گا
محرابِ جاں
ہے مِرے دِل کی خُوشی ساجدؔ نبیؐ کا ذِکرِ پاک
فقَط نام آپ کا سرمایہ میری جان کا
محرابِ جاں
ہے مصمّم دِل میں بٹھا⚠️ کے لیے عزمِ سفر
اور ساجدؔ مُنتَظر ہوں آپ کے اِرشاد کا
محرابِ جاں
سرایت کر گیا صلِّی علیٰ جس کے دِل و جاں میں
کوئی کٹکا نہیں ساجدؔ اُسے نارِ جہنّم کا
محرابِ جاں
ایک مُدّت سے نظر محروم ہے دِیدار سے
بہرِ حق ہو شوق پورا ساجدؔ رنجور کا
محرابِ جاں
فرطِ الَم سے جان ہے ساجدؔ کی منتقل⚠️
آقا ہے پُرنم⚠️ غم سے دِل اس خاکسار کا
محرابِ جاں
ہے محوِ توفیقِ خُدا نعت میں ساجدؔ
خُوش بخت ہے کیا خوب اسے کام ملا ہے
محرابِ جاں
ساجدؔ مِرا شفیع خُدا کا حبیب ہے
دِل کو نہیں ہے غم کوئی روزِ حِساب کا
محرابِ جاں
ساجدؔ خُدا نے بھر دیا تاروں میں کیا سرُور
آواز جاں نَواز ہے چنگ و رباب کی
محرابِ جاں
ہے نظر ساجدؔ کی اُٹھتے بیٹھتے اُن پر جمی
حل بدفیضان⚠️ عِنایَت اب معمّا ہو گیا
محرابِ جاں
اے خُدا! ساجدؔ کو دے توفیقِ کارِ خیر کی
عزم میرا شاہ کی پابندیِ اِرشاد ہے
محرابِ جاں
مرحبا! پَیکرِ رحمت کی وہ آمد ساجدؔ
ہرکہ اسمِ خُدا بسم⚠️ نہ تنہا آیا
محرابِ جاں
دِل کے بازار میں سکّہ ہے شہِ دیں کا رواں
اور ساجدؔ کسی سکّے کا ہے چلنا مشکل
محرابِ جاں
مِرا شوقِ شِفا⚠️ تقلّد⚠️ ہے ساجدؔ
ابھی ارماں ہوا پورا نہیں ہے
محرابِ جاں
ساجدؔ غلامِ آپ کا دائم ہے کامراں
آباد و شاد آپ کا نقشِ مر⚠️ نہیں
محرابِ جاں
ہوتی ہیں دِل کی منزلیں طے اُن کی یاد میں
میرا خِیال رات دِن ساجدؔ سفر میں ہے
محرابِ جاں
بفیضِ نظر دِل کو تسکیں ہے ساجدؔ
لبوں پر شِکایت نہ کوئی بھلا⚠️ ہے
محرابِ جاں
کہانی عمر کی ساجدؔ وہیں ہو ختم مِری
درِ نبیؐ پہ یہ قصّہ تمام ہو جائے
محرابِ جاں
بفضلِ حق میرا دِل اب بھی شاد ہے ساجدؔ
ملیں گے حشر کے دِن اور بھی پلے سارے
محرابِ جاں
عِنایَت مجھ پہ ساجدؔ ہو گئی ہے
نبیؐ کی نعت میری شاعری ہے
محرابِ جاں
دِل میں میرے خُلد کی ساجدؔ نہیں کوئی ہوس
چاہیے شاہِ رُسل کا چہرہ زیبا مجھے
محرابِ جاں
راستا اُن کا راہِ حق ساجدؔ
رَہبَرِ اُن کا کامیاب ہوا
محرابِ جاں
ساجدؔ اُن کے گَدا ہیں میر و غنی
حاضِر اس در پہ پیچ⚠️ و شاب ہوئے
محرابِ جاں
ہر شاخسار ہر گھڑی ساجدؔ ہے محوِ ذِکر
مشغول حمد و نعت ہجومِ طیور ہے
محرابِ جاں
نبیؐ کا ذِکر ساجدؔ کی رگِ جاں
ثَنا عنوان اُس کی شاعری کا
محرابِ جاں
نہیں سہل ساجدؔ محمدؐؐ کا عِرفان
بہت مشکل اس کی گشادِ گِرہ ہے
محرابِ جاں
بڑھ سکیں پھر اداسیاں ساجدؔ
پھر وہی شغلِ انتظاری⚠️ ہے
محرابِ جاں
ہے ہر سال ساجدؔ کے دِل کی تمنّا
دیارِ نبیؐ اے خُدا! دیکھنا ہے
محرابِ جاں
خُدا سے ہے اِلتجا اپنی ساجدؔ
محمدؐؐ کا ہر سال دربار دیکھیں
محرابِ جاں
اللہ کرے ساجدؔ عمر اس پہ کٹے ساری
ہو پیشِ نظر دائم دروازہ نُبُوت کا
محرابِ جاں
سارا اُن کا کمال ہے ساجدؔ
ہے بھنور⚠️ خاک مجھ کمینے میں
محرابِ جاں
مُشکلیں ہو گئیں حل میری سراسر ساجدؔ
کرم مجھ پر مِرے شاہ نے فرمایا ہے
محرابِ جاں
ساجدؔ ہے بے مِثال خُدا کا حبیبِ پاک
وہ جا منتخب ہے خلقتِ پروَردِگار میں
محرابِ جاں
روشنی ہے ہر گھڑی ساجدؔ یہاں
شب کو بھی ہر گھڑی اُجالا دیکھیے
محرابِ جاں
یہ وہ دربار کہ ساجدؔ ملیں کیہاں اعزاز
یہ وہ در ہے کہ ہر آتی یہاں اعلیٰ دیکھو
محرابِ جاں
وہ درود اُن پہ بکثرت ساجدؔ
وہ غمِ دِل کی دوا یاد آئی
محرابِ جاں
رات دِن ساجدؔ کے ہونٹوں پر ہے یہ حرفِ دُعا
اے خُدا! کر دے عطا اُلفت رسُولِ اللہ کی
محرابِ جاں
آج ہم ساجدؔ کریں گے نعت خوانی رات بھر
جام پر جامِ مِدحت کا لٹاتے جائیں گے
محرابِ جاں
ساجدؔ کا اور مُونِس و غمخوار کون ہے
میرے انیس جان و دِل اللہ لے خبر
محرابِ جاں
خَلق سے ساجدؔ جُدا کب حق ہوا
مِرے⚠️ ہیں ہیں سمَجھ دونوں جُدا
محرابِ جاں
ساجدؔ یہ لُطفِ خاص ہے ربِّ جہاں کا
رحمت جو شَرق و غَرب میں پیغمبر کی ہے
محرابِ جاں
ساجدؔ اُن کا تذکرہ صلِّی علیٰ
شاعری کا اب مِری عنوان ہوا
محرابِ جاں
تخت اور تاج سے بڑھ کر ساجدؔ
اُس درِ پاک کی دربانی ہے
محرابِ جاں
مل گیا آج ساجدؔ کو اذنِ سفر
تھا جو مجبور دِل شادماں ہو گیا
محرابِ جاں
سلام کرتے ہیں ساجدؔ اُنہیں فرشتے بھی
اُنہی کے در پہ پڑے بندگانِ خالِق ہیں
محرابِ جاں
ساجدؔ نہیں خزانۂ قارون کی طلب
کافی مجھے ہے ایک ہی لقمۂ حلال کا
محرابِ جاں
عَدُوّ کا نہیں کوئی ساجدؔ ہمیں ڈر
ہمارے نِگہباں حبیبِ خُدا ہیں
محرابِ جاں
ساجدؔ ہے نعت گوئی ادب کی وہ صفِ خاص
مشکل اگر نہیں ہے تو آساں بھی نہیں
محرابِ جاں
ساجدؔ ہو مہر و ماہ سے تابندہ تر نصیب
وِرد درود مجھ کو یہ کشفت⚠️ نصیب ہو
محرابِ جاں
مظہرِ اسم ایک جا ساجدؔ
جیسے آبِ حیات و ساغَر ہیں
محرابِ جاں
زمیں تھی یہ ساجدؔ نہ تھا آسماں
عمرِ نُور تھا مرحم آپ کا
محرابِ جاں
ساجدؔ کریں گے میری شفاعت مِرے حضور
کھٹکا نہیں ذرا مجھے یومِ نشور کا
محرابِ جاں
ہے شُکرِ خُدا غم نہیں کوئی ساجدؔ
ہے مشکل میں اپنا سہارا محمّد
محرابِ جاں
موجِ بے مایہ کا جائے گا مقدّر ساجدؔ
مِہرباں اس پہ جو وہ شاہِ سلیماں ہو گا
محرابِ جاں
ہے زمینوں اور آسمانوں پر
ساجدؔ اُن کی عجب پذیرائی
محرابِ جاں
ختم ہوتی ہی نہیں ہیں مِرے دِل کی باتیں
داستاں ساجدؔ غمگیں کی طولانی ہے
محرابِ جاں
دِل میں تو اُلفتِ سلطینِ بلا لے ساجدؔ
جہاں اُن کا خُدا اُن کا ہے آقا اُن کا
محرابِ جاں
ساجدؔ یہ خُدا رہے اِن گیسوؤں کی چھاؤں
پیشِ نظر ہو جلوۂ رخسار آپ کا
محرابِ جاں
میرے سرکار کا ہے ذِکر مُداوا ساجدؔ
عالَمِ کون و مَکاں کے سبھی آزاروں کا
محرابِ جاں
مِرے حضور! آپ ہی ساجدؔ کے ہیں اُنیس
ہے اور کون آپ کے اس جاں نثار کا
محرابِ جاں
ساجدؔ بہ نُورِ دیدہ رُخِ ماہ و نیشیں⚠️
جلوہ جو دیکھنا ہے تجھے آفتاب کا
محرابِ جاں
کب زیارت کا شرف ہو گا عطا ساجدؔ کو
اس دِلِ زار کا کب ہو گا مُداوا آقا
محرابِ جاں
خطا معاف ہو ساجدؔ کی یا رسُول اللہ!
غلام آپ کا لے کر یہ مُدّعا آیا
محرابِ جاں
نِسبت ہے اُس کی قادری ساجدؔ کہیں سے تے⚠️
آلِ نبی کا دِل سے وہ ادنیٰ غلام ہے
محرابِ جاں
ساجدؔ بڑی خُوشی سے بسر ہو رہے ہیں دِن
رحمت ہے مجھ پہ خواجۂ مکّیں⚠️ نَواز کی
محرابِ جاں
کام ساجدؔ کر گئی اُن کی نِگاہِ اِلتِفات
دِل مِرا تیسرِ⚠️ غمِ عالَم سے اب بے گانہ ہے
محرابِ جاں
مِرا اِمام مُعصیری⚠️ ہے بالیقیں ساجدؔ
بہ ایں حوالہ مِری شاعری کی بات کریں
محرابِ جاں
ساجدؔ یہ گُل و رنگ مہ و مہر تیرے خُوشبو
سب جلوہ طرازی ہے یہ اُس نُورِ اَتَم کی
محرابِ جاں
مصطفیٰ کی یاد ساجدؔ روح میں پیوست ہے
خالِقِ ارض و سما کا دِل یہ شاکر ہو گیا
محرابِ جاں
ہیں چوکیدارِ ادب سے جو اُن کے در پہ کھڑے
اُنہی غلاموں کا ساجدؔ غلام ہو جائے
محرابِ جاں
نبی کا اُسوہ رہِ مستقیم ہے ساجدؔ
کمالِ حُسنِ قسم ہے رسُولِ ربِّ کریم
محرابِ جاں
بھیجے⚠️ ہے اُن کے درِ اَقُدس پہ ساجدؔ رات دِن
ہرگھڑی اُن کا پھیلا رحمت کا دستر خان ہے
محرابِ جاں
اِک الف کی ہے تمنّا ہر گھڑی ساجدؔ مجھے
آرزوئے بار⚠️ مجھے کوئی نہ شوقِ جیم ہے
محرابِ جاں
حضور حق ہے مِری اِلتجا مِری ساجدؔ
کرے جو دِل کو مِرے مست وہ خِیال ملے
محرابِ جاں
آ گیا ساجدؔ مہینۂ شاہ کے میلاد کا
مشرق و مغرب میں اِک شورِ مبارکباد ہے
محرابِ جاں
بہارِ جاں وہ بن کر ہے لوٹا ساجدؔ
درِ نبی پہ جو غم سے نڈھال آتا ہے
محرابِ جاں
ہے اہلِ بیتِ محمّد پر یہ جاں قُرباں ایماں قُرباں
ساجدؔ ہے غلام اودنی⚠️ اُن کا شاعر اُن کا کہلاتا ہے
محرابِ جاں
بچتے⚠️ نبی کی نظروں میں ہو گیا رخصت کمال
اپنے دِل سے وہ مگر ساجدؔ کہاں رخصت ہوا
محرابِ جاں
دیتا ہے تُجھ کو واسطے، تیرے حبیبِ پاک کا
ساجدؔ کی سُن لے اِلتجا، اے ربِّ ذاتِ مصطفیٰ ﷺ!
جانِ جہاں
یہ ہر اِک درد کا ساجدؔ ہے عِلاجِ شافی
روح پر بارشِ اَنوار ہے آقا ﷺ پر درود
جانِ جہاں
ساجدؔ زر کا شوق نہیں ہے، لعل و گُہر کا ذوق نہیں ہے
سر میں فقَط ہے اُن کا سودا صلّی اللہ علیہ وسلّم
جانِ جہاں
خوفِ عصیاں کا نہیں ہم کو ذرا بھی ساجدؔ
جب سے سرکار ﷺ کا پیغامِ شفاعت پایا
جانِ جہاں
اُن پہ ساجدؔ ہے مِری جاں نثار
کچھ نہیں لعل و گُہر پیشِ نظر
جانِ جہاں
اکثر درود جس کی ہے ساجدؔ زُباں پر
اُس پر ہے درِ رسُول ﷺ خُدا کا کھلا ہوا
جانِ جہاں
شرم و غیرت نہ جس میں ہو ساجدؔ
وہ غلامِ آپ ﷺ کا نہیں ہوتا
جانِ جہاں
ساجدؔ نہ جس میں حُبِّ نبی ﷺ ہو، وہ دِل نہیں
خُوشبو نہ جس میں ہو نبی، وہ گُلستاں نہیں
جانِ جہاں
فکر کیا ساجدؔ عذابِ قبر کا
ہیں سرِ مدفن محمّد مصطفیٰ ﷺ
جانِ جہاں
ساجدؔ منی⚠️ جو خونِ شہیداں کی داستاں
آنکھوں سے میری خون کے آنسو نچھل گئے
جانِ جہاں
میں لکھوں نعت رات دِن ساجدؔ
میرے حق میں دُعا کرے کوئی
جانِ جہاں
دِل کے معاملات بھی ساجدؔ عجیب ہیں
کیسے اُنہیں بیاں کریں، یہ داستاں نہیں
جانِ جہاں
وہ مِری جان کی ساجدؔ محراب
مِرے دِل کا ہیں مقصد، اللہ
جانِ جہاں
اُس کی تعظیم دِل و جاں سے کریں اے ساجدؔ!
جو خُوشِ خوانِ شاہِ عالَم ﷺ کا ثناخواں ہوں!⚠️
جانِ جہاں
ساتھ ساجدؔ کو بھی لے جائیں ضرور
جانا جو چاہیں مدینے کی طرف
جانِ جہاں
ساجدؔ شرفِ رسُول ﷺ کا اللہ کی ہے شاں
اِدراک کیا کرے کوئی اُن کی صِفات کا
جانِ جہاں
جن کی نِسبت نبی ﷺ سے ہے ساجدؔ
عالی اُن کا مَقام ہوتا ہے
جانِ جہاں
اِک توجّہ ہی سے بھر جائے گا دامَنِ اس کا
آج خُوش نغمتی⚠️ سے ساجدؔ بھی شادخواں ہو گا
جانِ جہاں
شانِ حق ساجدؔ ہے محبوبِ خُدا
مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ حق کا راز ہے
جانِ جہاں
ساجدؔ ہے رحمتوں کا نزول اُن پر رات دِن
جن پر شفیقِ سرُورِ عالَم ﷺ کی آل ہے
جانِ جہاں
نبی ﷺ کون ساجدؔ ہے اِس شاں کا
محبّت کا دِلکش وہ پَیکر ہو
جانِ جہاں
جو سایۂ کنعاں عالی و عارِف پہ ہے ساجدؔ
وہ سلسلہ ہے لُطف کا گیسوئے محمّد ﷺ
جانِ جہاں
اِلتِفات آپ ﷺ کریں ساجدؔ پر
اِک نظر میرے مکرّم آقا ﷺ!
جانِ جہاں
جن سے ظاہر انبیا کا ہے جمالِ جاں فِزا
ساجدؔ اُن پھولوں کا اِک جامعِ گُلستاں آپ ﷺ ہیں
جانِ جہاں
حُبِّ محبوب ﷺ خُدا کو چاہیے مہر و نِیاز
کام کیا ساجدؔ یہاں ہے بحث و دستار کا
جانِ جہاں
پسندِ خاطِرِ مستانِ سُخن ہو ساجدؔ کا
قبولِ اہلِ نظر یہ کلام ہو جائے
جانِ جہاں
مُل خزانوں کی کلیدیں دی گئیں ساجدؔ جسے
سیّد و سرُورِ اِمامِ انبیا پیدا ہوا
جانِ جہاں
مُختَصَر اُن کے کرم پر ہے پہنچنا اُن تک
ساجدؔ اس راہ میں کچھ حجّتِ فریاد نہیں
جانِ جہاں
سر پہ ساجدؔ کے رکھیں دستِ نَوازِش اے کریم!
اب نہ دیکھا جائے اُس کا زورِ پُر غم، الغِیَاث
جانِ جہاں
اُن کے آگے نہ چلی بات کسی کی ساجدؔ
سامنے آپ ﷺ کے لاکھوں ہی سخنور آئے
جانِ جہاں
خُدا را ادھر بھی نظرِ جاں عالَم!
یہ ساجدؔ پریشان و اندو گیں⚠️ ہے
جانِ جہاں
دِل سے ساجدؔ حَسرت و ارماں سارے مٹ گئے
فضلِ حق سے شاہِ بلھی⚠️ ﷺ کا سرمایا دیکھ کر
جانِ جہاں
ساجدؔ رہے کی بزم یہ آباد رات دِن
کو انجمن سے اِن دنوں کچھ آشنا چلے
جانِ جہاں
ساجدؔ گئی رہی جھیڑی⚠️ رحمت کی رات بھر
شوقِ ثنائے خواجہ ﷺ میں ہم نقد خواں رہے
جانِ جہاں
فقَط طہارتِ دِل چاہیے یہاں ساجدؔ
عَبث تجائیں⚠️ ہیں بے فائدہ کلاہیں ہیں
جانِ جہاں
لبوں پہ جب سے صلوٰۃ و سلام ہے ساجدؔ
کبھی نہ دِل کو مِرے صدمہ و گزند ہوا
جانِ جہاں
اُن کے اِک حرفِ تسلّی سے میں ساجدؔ جی اُٹھا
تھا جو دِل برسوں سے گھلتیں⚠️، شاد و فرحاں ہو گیا
جانِ جہاں
ساجدؔ غم و الَم کی ہوئیں جب بھی یورشیں
نامِ امیرِ اہلِ⚠️ ﷺ مِری سپر ہوا
جانِ جہاں
ہمیں حبیبِ خُدا بخشوَائیں گے ساجدؔ
ہمیں پلائیں گے وہ آب، حوضِ کوثر کا
جانِ جہاں
سُکونِ دِل کی دولت ذِکرِ حق میں ہے نِہاں ساجدؔ
اگر شک ہو حقیقت پوچھیے، کیا گر⚠️ سے
جانِ جہاں
یہ آرزو ہے دِل کی، لکھوں نعتِ مصطفیٰ ﷺ
ساجدؔ ہوں نہیں ہے چشم و جاہ کی
جانِ جہاں
جب سے نبی ﷺ کا نام ہے ساجدؔ زُباں پر
دِل میں کوئی خلش نہ کوئی اِضطِراب ہے
جانِ جہاں
اس کو ساجدؔ ہے کہاں فکرِ حِسابِ فَردا
ہاتھ میں جس کے ہوا گوشۂ دامانِ رسُول ﷺ
جانِ جہاں
گم ہوئی ذاتِ نبوی ﷺ ذاتِ خُدا میں ساجدؔ
کیا عجب وَصل کا معیار تھا مِعراج کی رات
جانِ جہاں
نبی ﷺ کی ذات ساجدؔ کعبۂ دِل، قبلۂ جاں ہے
رہے اِکسیرِ اعظم، خاکِ پائے سروِ عالَم ﷺ
جانِ جہاں
اُن کے گیسوئے معنبر کی ہے خُوشبو دَہر میں
نُور ہر سُو ساجدؔ اُن کے ہے رُخِ⚠️ نوبار⚠️ کا
جانِ جہاں
ساجدؔ خزاں میں ٹھہرتے ہیں برگ و ثمر ضرور
رہتا ہے ہر گھڑی کھلا گُلزارِ مصطفیٰ ﷺ
جانِ جہاں
جو چیزی⚠️ مصطفیٰ ﷺ کی کچھ بھی نہ کر قبول
ساجدؔ خُدا سے مانگ اِطاعَتِ رسُول ﷺ کی
جانِ جہاں
بھٹکے⚠️ تھے ابد ساجدؔ غم دَہر کے
لب پہ جب ذِکرِ شاہِ شہباں⚠️ آ گیا
جانِ جہاں
ساجدؔ خُدا نصیب کرے حبِّ مصطفیٰ ﷺ
شاہِ رُسُل ﷺ کی پِیرَوی شام و سحر کریں
جانِ جہاں
ساجدؔ اِنعام شہِ دیں ﷺ کی زیارت کا مجھے
میری اس زِندگی و موت کے مابین ملے
جانِ جہاں
وہ بھی وقت آئے گا ساجدؔ پہ بفضلِ رحمٰن
وہ کمربستہ کھڑا آپ ﷺ کے ذر⚠️ پر ہو گا
جانِ جہاں
سیّد السّادات کعبۂ دِل کے ہیں میرے ﷺ ہم⚠️
چشمِ جاں سے دیکھ ساجدؔ احمد ﷺ ہے مقیم⚠️ کو
جانِ جہاں
جلووں کی بہاریں ہیں جہاں سارے میں ساجدؔ
یہ دیکھے گا مطلعِ اَنوار کہاں ہے
جانِ جہاں
بیٹھے ہیں سانس روک کر عطّار و بولہبی⚠️
ساجدؔ گناہگار یہاں کس شُمار میں
جانِ جہاں
شوقِ نعتِ مصطفیٰ ﷺ ساجدؔ رگِ جاں بن گیا
جب سے میری طبع، فکرِ شعر کی عادی ہوئی
جانِ جہاں
دِل تَشنَگی دے سے رہتا ہے بے قرار
ساجدؔ! جنابِ ساقیِ کوثر ﷺ کی بات ہو
جانِ جہاں
ساجدؔ کریم کا ہے فضل و کرم یہ سارا
دیوانِ مِرا⚠️ بیانِ آسرارِ مصطفیٰ ﷺ ہے
جانِ جہاں
طوفانِ غم سے رہنما⚠️ حق نے بچایا
ہاکنتی⚠️ تھا حال اس ساجدؔ حقیر کا
جانِ جہاں
ساجدؔ میرا معبود ہے خلّاقِ دو عالَم
کعبہ ہے مِرے سامنے دِل سوئے نبی ﷺ ہے
جانِ جہاں
مَکاں و لامَکاں میں آپ ﷺ کی پرواز ہے ساجدؔ
ورائے عرش ہے لا ریب جائے شاہِ محبوباں ﷺ
جانِ جہاں
تھوڑی سی جگہ چاہیے کوچے میں نبی ﷺ کے
ساجدؔ کو نہیں شوق کوئی باغِ ارم کا
جانِ جہاں
ساجدؔ ابھی یہ شوق تِرے دِل کا خام ہے
تیری فُغاں ہے بے اثر، نالہ رسا نہیں
جانِ جہاں
ساجدؔ، نہیں ہے خوف مجھے یومِ حشر کا
گزری ہے زِندگی مِری آلِ عبا کے پاس
جانِ جہاں
یہ جی چاہتا ہے مدینے کو ساجدؔ
ہر بار جائیں کئی بار دیکھیں
جانِ جہاں
رسُولِ پاک ﷺ کے ساجدؔ جو نام لیوا ہیں
ضرور ہوں گے بفضلِ خیرِ حوضِ کوثر پر
جانِ جہاں
سیّد اس کا حق تعالیٰ کی تجلّی کا اُفق
جس کے دِل میں نُور ہے ساجدؔ نبی ﷺ کی چاہ کا
جانِ جہاں
ہمیں بھی اپنے مقدّر پہ فخر ہے ساجدؔ
گدائے کوئے شہِ نامدار ﷺ ہم بھی ہیں
جانِ جہاں
شغلِ برزخ میں جو مصروف ہیں اکثر ساجدؔ
صورتِ ماہ وہ بخت اپنا مُنوّر سمجھیں
جانِ جہاں
بُلند دین کا پرچم سدا رہے ساجدؔ
یونہی ہو ذِکر سدا شانِ مصطفائی کا
جانِ جہاں
بازارِ عنبروں سے ہیں ساجدؔ بھرے پڑے
جوہرِ نِشاں⚠️ کوئی خریدار چاہیے
جانِ جہاں
ساجدؔ مِرے مشامِ جاں میں عطر ہے بسا
نعتِ نبی ﷺ سے دِل برا⚠️ سَرشار ہو گیا
جانِ جہاں
ساجدؔ پہ ہوں گی رحمتیں بے حد و بے حِساب
دیوانِ نعت لے کے وہ زیرِ بغَل گیا
جانِ جہاں
اُن کی چشمِ لُطف کا ساجدؔ یہ سب فیضان ہے
میرے دِل میں راحتیں ہیں اور خُوشیاں آج کل
جانِ جہاں
قوسِ فکر ہے ساجدؔ کا بہت تیز، خوشا
شعر کے فن میں بھی اس کو یہ بطولی⚠️ ہو گا
جانِ جہاں
ساجدؔ بغیضِ⚠️ شان کریمی قبول ہو
نعتِ رسُول ﷺ ایک ہی اپنا یہ کام ہے
جانِ جہاں
اِک نظرِ لُطف و عِنایَت کی اِدھر بھی شاہا!
دِل ہے ساجدؔ کا پریشان مدینے والے!
جانِ جہاں
خُدا توفیق دے نعتیں سدا لکھتا رہوں ساجدؔ
مِرا ایمان و جِسم و جان قُرباں شاہ ﷺ کے اُنو⚠️ پر
جانِ جہاں
جو بشر نُورِ مجسّم ساجدؔ
وہ رسُولِ آخری ہم مانتے ہیں
جانِ جہاں
ساجدؔ ہے زوجِ مصطفیٰ سارے جہاں میں
ایسا جہاں میں ذات کا مظہر کوئی نہیں
جانِ جہاں
کچھ بھی ساجدؔ نہ مِرا کام ہو بِجُز نعتِ رسُول
روح میں میری ہو پیوست یہ مقصد ایسا
جانِ جہاں
الٹیں⚠️ اسے توڑ دے، ممکِن نہیں ساجدؔ
مضبوط ہے اُلفت کی یہ زنجیرِ نبی ﷺ کی
جانِ جہاں
شُکرِ حق، ساجدؔ عطا ہے شوقِ نعتِ مصطفیٰ ﷺ
غم نہیں گر فکر کا قوسِ مِرا کم تاز⚠️ ہے
جانِ جہاں
دِل ہے ساجدؔ شبانہ روز وہاں
مرنج⚠️ بھول جو آستانہ ہوا
جانِ جہاں
خون و عرق⚠️ ہے اسے کوئی نہ رنج و غم
ساجدؔ نبی ﷺ کی آل کا خِدمت گُزار ہے
جانِ جہاں
کب کتابوں سے ساجدؔ بگریہ⚠️ کے کھلے
کیا بنوس⚠️ کوئی علامۃ طوس⚠️ ہے
جانِ جہاں
اثرِ نعتِ نبی ﷺ، دِل کو یقیں ہے ساجدؔ
عرش اور فرش سے تا بخت⚠️ ملتقی⚠️ ہوتا ہے
جانِ جہاں
شُکر، بے نِسبت⚠️ مِری ساجدؔ علمبردار سے
فخر مجھ کو ہے پلاس⚠️ کے ہے سب سلام⚠️ پر
جانِ جہاں
حق کے محبوب ہیں بے مِثل پَیمبر ﷺ ساجدؔ
کب یہ ممکِن ہے کوئی اُن کے برابر ہوتا
جانِ جہاں
کعبۂ زرد⚠️ حق پر نظر اپنی جمائیں ساجدؔ
حق اَتَم درجے میں جس دِل سے عَیاں ہوتا ہے
جانِ جہاں
ہر گھڑی ساجدؔ رُخِ مقصود ہو پیشِ نظر
ہو رہا ہے ملے سفر تیزی سے ماہ و سال کا
جانِ جہاں
اللہ، شہِ دیں ﷺ کی امامت ہو میسّر
ساجدؔ ہو خوشا، شامِل صف سروِ عالَم ﷺ
جانِ جہاں
نبی ﷺ کی نعت لکھوں رات ہو کہ دِن ساجدؔ
نصیبِ اِلٰہی! سعادت مُدام ہو جائے
جانِ جہاں
دِل کو تَسکین یہ بے وجہ نہیں ہے ساجدؔ
میری جانِب وہ کوئی ناقۂ سوار آتا ہے
جانِ جہاں
خوب آتا ہے مزا ساجدؔ خُدا کے ذِکر میں
جب خیالوں میں ہے ابروئے حضرتِ مصطفیٰ ﷺ
جانِ جہاں
ساجدؔ خُدا قبول کرے نعتِ مصطفیٰ ﷺ
گو جانتا ہوں نعت کے قابلِ زُباں نہیں
جانِ جہاں
ساجدؔ، خُدا کا شُکر ہے دِل کی گِرہ کھلی
رستا بخشیں⚠️ شاہِ رُسُل ﷺ مُختَصَر ہوا
جانِ جہاں
تُجھ کو ساجدؔ چشمِ حق میں ہو عطا
دیکھنا اُن کو ہے حق کا دیکھنا
جانِ جہاں
ساجدؔ! کروں میں شُکر کے سجدے تمام عمر
مل جائے چومنے کو اگر در رسُول ﷺ کا
جانِ جہاں
وہی ساجدؔ وہی معبود برحق
وہی مُطلِق مقیّد سر بسر حق
شوقِ فراواں
غمِ دُنیا کی کڑی دُھوپ میں ساجدؔ ہم نے
جب لیا نامِ نبی سایۂ رحمت پایا
شوقِ فراواں
ساجدؔ ہیں مہربانیاں اُن کی شبانہ روز
کب مملکت⚠️ وہ دیدۂ شاہِ جہاں نہ تھا
شوقِ فراواں
ساجدؔ نوشتِ⚠️ نعت کو سجدے میں ہے قلم
اکثر ٹھمٹلا⚠️ ہے بنو⚠️ دُعا منہ دوات کا
شوقِ فراواں
جامِ جمشید پہ کب اُن کی نظر ہے ساجدؔ
ہو گیا جن کو عطا ساغَرِ عِرفان اُن کا
شوقِ فراواں
اللہ محافظ شہِ لولاک⚠️ کا ساجدؔ
سردارِ رسولوں کا نِگہبان ہے ہمارا
شوقِ فراواں
شاہ کے فیض سے ساجدؔ ہے سلامت الست
حق کا محبوب ہوا سیّد و سرُور اپنا
شوقِ فراواں
بنامِ خواجہ کمل⚠️ جائے بکرہ⚠️ علمِ حقیقت کی
کرم ہو ساجدؔ دِل گیر پر شاہِ وِلایت کا
شوقِ فراواں
جنہیں اپنی⚠️ لقب سے یاد کرتا ہے جہاں ساجدؔ
وہی رحمت کا پَیکر ہے سہارا نیک اور بد کا
شوقِ فراواں
درودِ پاک ہم کثرت سے بھیجیں آپ پر ساجدؔ
انہی کے نام سے ہے قفلِ⚠️ کھلتا دِل کے مقصد کا
شوقِ فراواں
آنکھ جو آقا کی ساجدؔ ہے خُدا کی آنکھ ہے
قوّتِ حق سر بسر بازوئے فجرِ انبیا
شوقِ فراواں
وَصلِ حق چاہتے اگر ساجدؔ
دامَنِ پاک تھامِ⚠️ احمد کا
شوقِ فراواں
ساجدؔ نبی کا شہر بنے دِل کائنات کا
سارے جہاں کا حُسن ہے گُلزارِ مصطفیٰ
شوقِ فراواں
نبی کی بزم میں ساجدؔ کی شاعری ہو قبول
کرم وہ طرف ہو میرے خُدا! کہ صلِّ علیٰ
شوقِ فراواں
دِل میں ساجدؔ اِک اُنہی کا ہو خِیال
کچھ نہ لکھوں بِجُز ثنائے مصطفیٰ
شوقِ فراواں
رات دِن مشتقِ⚠️ تَصوُّرِ مشغل⚠️ ہو ساجدؔ مِرا
حق کے پیغمبر کا وہ مِثلِ⚠️ پَیکر دیکھنا
شوقِ فراواں
عالَمِ ایجاد کی ہیں غیب سے سب روشنیں
دِل کی ہے ساجدؔ ضِیا⚠️ دِل سے لگانا غیب کا
شوقِ فراواں
ساجدؔ جو باادب ہے وہی باانصیب⚠️ ہے
جو بے ادب ہے رایگاں اُس کا عمل گیا
شوقِ فراواں
حق نے محبوب کو ہر چیز عطا کی ساجدؔ
کرمِ اَلطاف کا بازار تھا مِعراج کی شب
شوقِ فراواں
سرُورِ عالَم کا شہرِ پاکِ فِردَوس نظر
ہم ہیں ساجدؔ صِدقِ دِل سے زمرد خوانِ عرب⚠️
شوقِ فراواں
دِل فقَط طالبِ دِیدارِ نبی ہے ساجدؔ
میرا ہرگِز نہیں مقصود عبادت بخت
شوقِ فراواں
نعت گوئی کام ہے دِن رات اب ساجدؔ مِرا
پہلے وقت اپنا بزلِ⚠️ گوئی میں ہے کھویا بہت
شوقِ فراواں
کب پنچھے⚠️ گی جاں مِری مشقِ⚠️ فَراواں کا مزا
اوج پر آئے گی ساجدؔ کب محبت الغِیَاث
شوقِ فراواں
نہ چھیڑ ساجدؔ سرمست کو بہت مغرور!
نہ کر غلامِ غلاماں دلپذیر سے بحث
شوقِ فراواں
ساجدؔ تھی ہر اِک چیز حَسِیں پہلے سے بڑھ کر
ذرّہ بھی بڑا تھا نہ کامِل⚠️ شبِ مِعراج
شوقِ فراواں
محراب و در و بامِ زمرّد کے بنے تھے
ساجدؔ تھی فضا خوب معطّر شبِ مِعراج
شوقِ فراواں
رنگِ رو⚠️ جدّہ سے تا شہرِ نبی ہے تابناک
ساجدؔ اُس کا ذرّہ ذرّہ طُورِ سینا کی طرح
شوقِ فراواں
دِل میں ساجدؔ جب اُتر جاتی ہے کف⚠️ مصطفیٰ
سرخوشی سے نعتِ سُلطاں جہاں گاتی ہے روح
شوقِ فراواں
غوثِ اعظم ہے تحقیقی⚠️ حقیقت ساجدؔ
گولڑہ میں بھی ضِیا بار ہے اُس نُور کی شاخ
شوقِ فراواں
دِن رات معطّر ہے حرمِ شاہ کا ساجدؔ
کیا خوب معمّر ہیں وہ لگوئے⚠️ محمدؐؐ
شوقِ فراواں
آنکھوں میں رہے صبح و مسا اُن کا درِ پاک
دِل ساجدؔ مسکیں کا ہے شیدائے محمدؐؐ
شوقِ فراواں
ٹھنکا⚠️ ہے سجدے میں کعبے کہ ساجدؔ آج ہوئی
خُدا کے مُرسَل سجدہ گُزار کی آمد
شوقِ فراواں
نعت سن کر دِل میں ساجدؔ بس گیا نُور و سرُور
شہد کی صورت ہر اِک حرفِ شاہنشاہ⚠️ ہے لذیذ
شوقِ فراواں
ساجدؔ نبی کی حاضری کو آئیں فوج فوج
موجُود ہیں جو لشکرِ حق آسماں پر
شوقِ فراواں
امّت کے نِگہبان و محافظ ہیں وہ ساجدؔ
دِل ہونے نہ دیں غم کا ہدف احمدِ مُختار
شوقِ فراواں
ساجدؔ کو نعت گوئے محمدؐ سے ہے غرض
گرچے ہیں بے شُمار سخنور زمیں پر
شوقِ فراواں
ساجدؔ غم و آلام کی اِس دُھوپ میں صد شُکر
ہیں سایۂ کنتاں⚠️ سیّدنا احمدِ مُختار
شوقِ فراواں
آنکھ کھل جائے مِرے دِل کی یقیں ہے ساجدؔ
گر مجھے چہرۂ آں والا جار⚠️ آئے نظر
شوقِ فراواں
نَجات مل گئی ساجدؔ غمِ جہاں سے ہمیں
یہ سب کشائشیں⚠️ ہیں نعتِ مصطفیٰ کا اثر
شوقِ فراواں
دِل میں ساجدؔ کچھ نہیں بِجُز حیرت و والہی⚠️
جان ہے سَرشار نوئے⚠️ والجی⚠️ کو دیکھ کر
شوقِ فراواں
اے شہِ کون و مَکاں! ساجدؔ پریشاں حال ہے
ہو نِگاہِ لُطف اِس صیدِ⚠️ غم و آزار پر
شوقِ فراواں
ساجدؔ مِرے خِیال کو ہیں قربتیں نصیب
شہرِ رسُول گرچہ ہے میرے وطن سے دُور
شوقِ فراواں
کیوں گوشۂ تاریک میں کھپکیں⚠️ اے ساجدؔ
اِس ٹوٹے ہوئے دِل سے بنائیں گے نیا ساز
شوقِ فراواں
دِل میں ساجدؔ داغِ اُلفت ہے نبی کی آل کا
کیا عجب ہے رنگِ⚠️ روشنی اِس تنِ لاغر کے پاس
شوقِ فراواں
پسند دِل کو ہے طرزِ امیرِ مینائی⚠️
مجھے ہے ساجدؔ اُسی جاں فِزا نَوا کی تلاش
شوقِ فراواں
ساجدؔ کو حق سے شاہِ رُسُل بخشوَائیں گے
گردن خمیدہ ہو گا وہ جب شرمسار پیش
شوقِ فراواں
ہم سنتے ہیں جب نعتِ شہِ پاک کی ساجدؔ
آتا ہے دِل و جاں کو سرُور اور مزا خاص
شوقِ فراواں
ساجدؔ سمجھا غزل ہے سمجھا نعتِ مصطفیٰ
جو نعت گو ہے اِس کو تغزّل سے کیا غرض
شوقِ فراواں
شُکرِ خُدا نصیب ہوئی اُلفتِ⚠️ رسُول
ساجدؔ خُدا کے فضل سے ہے ریزہ خَوار فیض
شوقِ فراواں
جس میں ہے تحریر ساجدؔ کے دِلِ مُضطَر کا حال
شاہ کے ہے نامِ⚠️ اُن کے ایک فریادی کا خط
شوقِ فراواں
دِل تھے ساجدؔ صورتِ گُل شاداں
مل مٹے گُلشن کے گُلشن الحفیظ
شوقِ فراواں
منزِلِ مقصود ساجدؔ ہے بہت نزدیک اُسے
جس کو رہتی ہے سدا سرکار کے در کی طمع
شوقِ فراواں
وسوسوں سے دِل ساجدؔ ہو خُدایا! خالی
بسکہ پر درد ہوتے⚠️ سینے کے چاسوں⚠️ کے داغ
شوقِ فراواں
اِک نظر سے دیکھتا ہوں اُن کی آلِ پاک کو
دِل میں ہے ساجدؔ مِرے اُن کی عقیدت نِصف نِصف
شوقِ فراواں
دِل میں ساجدؔ ہے فقَط یادِ نبی
ہے نظر جب سے مدینے کی طرف
شوقِ فراواں
ساجدؔ کسی کو تخت ملا ہے کسی کو خن⚠️
بخشا مجھے خُدا نے ہے آلِ عبا کا عِشق
شوقِ فراواں
اب تو ساجدؔ کو ملے اذنِ حضوری آقا!
دردِ ہجراں کے قِیامت کی اُٹھائیں کب تک
شوقِ فراواں
قدرتِ خُدا کی دیکھیے ساجدؔ قدم قدم
یہ چاندنی یہ پھول یہ تاروں بھرا فلَک
شوقِ فراواں
نعتِ آقا کی رواں ساجدؔ ہے نوکِ کلک پر
لکھ نہیں سکتا میں کچھ بھی اُن کی مِدحت سے الگ
شوقِ فراواں
اے ساجدؔ میسّر دولتیں دونوں جہاں کی ہیں
جو خُوش قِسِمت ہوا مِدحت سرائے احمدِ مُرسَل
شوقِ فراواں
مال کی حرص ہے ساجدؔ نہ اسے زر کی ہوس
شاد رہتا ہے شب و روز ثناخوانِ رسُول
شوقِ فراواں
ساجدؔ اُن کی شانِ نزالی⚠️ وہ دونوں عالَم کے والی
خَلقِ جہاں میں سب سے برتر، صلّی اللہ علیہ وسلّم
شوقِ فراواں
درودِ پاک ہمارا وظیفہ ہے ساجدؔ
بفضلِ ربِّ جہاں اس کے ہیں حِصار میں ہم
شوقِ فراواں
اسوۂ شاہِ رُسُل کے ہیں جو پیرو ساجدؔ
چومیے⚠️ اُن کے عقیدت سے پُر اَنوار قدم
شوقِ فراواں
آپؐ کے ہاتھ سے خیرات ملے رحمت کی
ساجدؔ اپنے بھی سرِ عرشِ مقدّر پہنچیں
شوقِ فراواں
ساجدؔ قسم خُدا کی اسے خوف ہے نہ غم
ذِکرِ درود جس کے ہے فرضِ⚠️ حِساب میں
شوقِ فراواں
پڑے ہیں شاہ کے کوچے میں جو ژولیدہ⚠️ مو ساجدؔ
گِرہ کتنی ہی پیچیدہ ہو دِل کی کھول لیتے ہیں
شوقِ فراواں
انہیؐ کے کھاتے ہیں ساجدؔ دیئے ہوئے لقمے⚠️
حبیبِ ربِّ جہاں ہم کو دان⚠️ دیتے ہیں
شوقِ فراواں
شُکرِ اللہ کا ساجدؔ ہے بالیقین درود
ہم غم و کرب نہ کچھ درد و الَم جانتے ہیں
شوقِ فراواں
شہرِ نبیؐ کی آب و ہوا دِل نَواز ہے
ایسی فضائے جاں فِزا ساجدؔ کہیں نہیں
شوقِ فراواں
ٹکری⚠️ آپؐ کے کٹ جاتے ہیں لیکن ساجدؔ
ثمرے⚠️ لبوں⚠️ کا الزام نہیں لیتے ہیں
شوقِ فراواں
ساجدؔ کرے گا آج بیاں دِل کا ماجرا
اس بادشاہِ لُطف و عطا کی جناب میں
شوقِ فراواں
جمالِ حق انہیں ساجدؔ دکھاتا ہے
جنہوں نے کیں⚠️ رُخِ سرکار پر نثار آنکھیں
شوقِ فراواں
جب سے ساجدؔ ہے مِرا وِردِ زُباں نامِ رسُولؐ
صورتِ جامۂ آلودہ دُھلا جاتا ہوں
شوقِ فراواں
ناخنِ خاص سے سمجھتے ہیں یہ عُقدے ساجدؔ
اتنے آسان کوئی معنیِ قوسین نہیں
شوقِ فراواں
نعت گوئی ہے کرم آپؐ کا ساجدؔ مجھ پر
آپؐ اگر چاہیں تو بے ساختہ پتھر بولیں
شوقِ فراواں
روزِ مَحشَر اُس کو ساجدؔ کوئی اندیشہ نہیں
ہے دروودِ پاک جس کے دفترِ اَعمال میں
شوقِ فراواں
آپؐ کے سوچے میں ہو بستر خاکی ساجدؔ
میرے اللہ! ملے گوہرِ مقصد مجھ کو
شوقِ فراواں
شُکرِ حقِ نعت ساجدؔ مجھے تسکیں بخشی
مار ہی ڈالا تھا شوریدہ سری نے مجھ کو
شوقِ فراواں
یادِ اُن کی ہے سہارا میرے دِل کا ساجدؔ
کوئی مُونِس کوئی دمساز نہیں ہے تو نہ ہو
شوقِ فراواں
حسین ابن علی ساجدؔ مِرے ایمان کی جاں ہیں
خُدا رکھتے سلامت آپؐ کے پُرنور پرچم کو
شوقِ فراواں
یہ محبوبِ خُدا کا خاص ہے ساجدؔ مجھ پر
کہ مجھ نادار و بے کس سے بھی خوف آتا ہے دشمن کو
شوقِ فراواں
عالَمِ کی چھ⚠️ جہات میں ساجدؔ انہیؐ کا نُور
پھیلی ہوئی جہاں میں ہے اُن کے وطن کی یو
شوقِ فراواں
جانِ و ایمان فِدا آلِؓ عبا پر ساجدؔ
کیا ہی خُوش لگتی ہے یہ گھر کی شرافت مجھ کو
شوقِ فراواں
آقاؐ کے دو پاک پہ کیا جَلوے ہیں ساجدؔ
جائی کو بھی ہمیشہ روئی⚠️ و عطّار کو دیکھو
شوقِ فراواں
لائیں گھر میں جب گزرے تشریف ساجدؔ آخوذؐ⚠️
خاک رہِ کا ذرّہ ذرّہ عالَمِ تاب ہو
شوقِ فراواں
نیم جاں⚠️ راہگور پر میں پڑا تھا ساجدؔ
مل گیا رحمتِ باری کا سہارا مجھ کو
شوقِ فراواں
رکھل⚠️ اُٹھتے ہیں ساجدؔ وہر⚠️ میں مِری خوشیوں سے
سُفنا ہوں جو احوال دِل افزائے مدینہ
شوقِ فراواں
ساجدؔ نبیؐ کے بام پہ جیتے ہیں جو طیور
اُن پر ہے شاہبازوں کے لشکر کا اشتیاق
شوقِ فراواں
غلامِ خاص میں دربار میں رہوں ساجدؔ
یوکی⚠️ رہے میری اولاد یا رسُولؐ اللہ!
شوقِ فراواں
کچھ اور نہیں شغلِ برا، دَہر میں ساجدؔ
لکھتا ہوں وصفِ گُل ریّانِ⚠️ مدینہ
شوقِ فراواں
صحیح خاطِر یقارِ⚠️ ساجدؔ ہے یقین ہے
شاہِ کونین کے ہی یمنِ قدم سے ہو گی
شوقِ فراواں
ساجدؔ حریمِ جاں میں ہے بسی ہے یادِ نبیؐ
اُن کے ہیں وصفِ داماں پر کڑھتے ہوئے
شوقِ فراواں
یہاں ہر فصل ہر فصلِ گُل ہے ساجدؔ
زمیں ہے میں ہیرِ نبیؐ کی گُل زمیں ہے
شوقِ فراواں
ان سے ہی روشنیاں دَہر میں ساجدؔ ہر ساری
نُور کے لیے سُلطانِ⚠️ کے گھر والے
شوقِ فراواں
آپؐ کے نُور سے موجُود ہے عالَم ساجدؔ
خَلق میں کون تھا تلقین⚠️ لقب سے آگے
شوقِ فراواں
کیا یقیں ہیں ساجدؔ معین کی باتیں
تَذکِرے اُن کے اِک کتاب ہوئے
شوقِ فراواں
اُن کی بَخشِش کی کوئی حد نہیں ہے ساجدؔ
بھیک جب دیتے ہیں دیتے ہیں نہیں تصوری⚠️ سی
شوقِ فراواں
کب آئے گا وہ دِن مِرے ارمان یہ ساجدؔ
باندھے ہوئے سب رنجتِ دِل سے چلیں
شوقِ فراواں
آرامِ سنّد⚠️ شاہِ ادب گاہِ ساجدؔ
ساجدؔ ہے یہ حکمت کا دبستاں مِرے آگے
شوقِ فراواں
ساجدؔ نبیؐ کو پہیئے⚠️ تخت درود کے
مانی ہوئی ہے یہ دوا طبعِ ملول کی
شوقِ فراواں
ساجدؔ نہیں پسند مجھے قُرب تاجور
حضرتِؐ شہِ جہاں کی عقیقت کے سامنے
شوقِ فراواں
فردِ اَعمال کو کر روشن گئے ساجدؔ
گو شبِ نعت و مناجات گزر جائے گی
شوقِ فراواں
ساجدؔ اُن کے لُطف نے تھاما ہمیں
ورنہ ہم اس راستے میں گِر⚠️ چلے
شوقِ فراواں
نہیں پہنا وہ ہوئے ذیتِ⚠️ زمین ساجدؔ
نقشِ اُنامِ⚠️ پرتی⚠️ کا منانے والے
شوقِ فراواں
فضائے شہرِ نبیؐ عطر بیز ہے ساجدؔ
ہر اِک گھڑی ہے بڑی جاں فِزا مدینے کی
شوقِ فراواں
ساجدؔ سزائے تار نارِ جہیم اُن کے واسطے
تاریک دِل، رحمتِ یزداں سے پھر گئے
شوقِ فراواں
ساجدؔ بیاں و دِل ہے غلام جنابِ خرؐ⚠️
سرکش تھے جو حسینؓ کے فرمان سے پھر گئے
شوقِ فراواں
فکرِ ساجدؔ پہ برستا ہے عطا کا بادل
ہاتھ میں جب وہ پے نعتِ قلم لیتا ہے
شوقِ فراواں
کہاں سے آئیں گے ساجدؔ نظافت⚠️ و رودی⚠️
کہ حالِ آج وگرگوں⚠️ ہے درگاہوں کی
شوقِ فراواں
ساجدؔ نبیؐ نے کھولا در آگہی کا ہم پر
ہم پر کے ہیں روشنِ آسرار کیسے کیسے
شوقِ فراواں
ساجدؔ والائے آلِ نبیؐ دِل میں ہے بسی
اللہ کا کرم ہے عِنایَتِ رسُولؐ کی
شوقِ فراواں
ساجدؔ حبیبؐ نے ہمیں ہے بلا دیا
ہم اپنے گھر شادماں شُکرِ خُدا چلے
شوقِ فراواں
مِرا ہے کام فقَط نعت مصطفیٰؐ ساجدؔ
قبولِ درگہِ حق میں یہ کام ہو جائے
شوقِ فراواں
نعتیں ساجدؔ ہیں مِثل آفاق کی گُل عالمیں⚠️ کے لے
آپؐ ہی کے واسطے گُل عالمیں⚠️ پیدا ہوئے
شوقِ فراواں
روِ خُدا میں جو قُرباں ہو گئے ساجدؔ
نبیؐ سے اُن کی محبت وہ چاہ کیا ہو گی
شوقِ فراواں
ساجدؔ کی عمر گزرے شاہِ رُسُل کے در پر
سب جانِ و مال و گوہر آپؐ پر صدقے
شوقِ فراواں
تھملے⚠️ گی جب گِرہ توحید کی تائید قدرت سے
معا مٹ جائے گی ساجدِ⚠️ لبوں پر جھٹ تم ثم کی
شوقِ فراواں
تھا یہ اللہ کی حکمت کے خلاف اے ساجد
ریگبور خیر کی ہوتی نہ رہ شر ہوتی
شوقِ فراواں
ہم ہوئے ساجد سِک سار اُن کی رحمت سے فقَط
اور ہوں گے اپنے جو باربارِ گَراں سے گر پڑے
شوقِ فراواں
ساجدؔ خُدا کے اذن سے آقا ہیں دیگر
اندیشہ دِل میں کیونکہ ہو روزِ حِساب کا
شوقِ فراواں
ساجدؔ نبیؐ کے خوان کرم کا ہے ریزہ خَوار
کیا ذِکر رحمتوں کے حِساب و شُمار کا
شوقِ فراواں
آپؐ کا فرمان عالی حاکمِ ربّ العالمین
حرف کیوں بدلے گا ساجدؔ آپؐ کے مذکور کا
شوقِ فراواں
نزول رحمت باری ہو ہم پر رات دِن ساجدؔ
کریں جمع و ما ہم شُکر نعمتِ ذاتِ ارحم کا
شوقِ فراواں
دِل کا جو صاف ہے اے ساجدؔ نہیں غم
اُس نے پڑھا نہیں ہے سبق ہیر پھیر کا
شوقِ فراواں
جب مکان و لامکان میں غیر بھی کوئی نہیں
پھر یہ ساجدؔ وہم کیا ہے غیر کی اِمداد کا
شوقِ فراواں
جب مکان و لامکان میں غیر بھی کوئی نہیں
پھر یہ ساجدؔ وہم کیا ہے غیر کی اِمداد کا
شوقِ فراواں
شہرِ دیں نے جھنکھتے ہیں تاج و تاج و ساجدؔ مندیں
کھلا رہتا ہے روشن باب اُس عالی دوارے کا
شوقِ فراواں
جس گھڑی باب شفاعت کا نُکلے گا ساجدؔ
کام ہو جائے گا آساں گنہگاروں کا
شوقِ فراواں
نہیں ہے کوئی بھی خوف و ہراس ساجدؔ
نِگہباں سدا اے خُدا ! ہے تُو میرا
شوقِ فراواں
ہیّ بغداد کا خطِ خاطی ذوقِ غلامی رکھتا ہے
اِسی باعث زمیں میں اُس کی ساجدؔ ہے قدم میرا
شوقِ فراواں
ہنقِ شاہِ عالَم ذورِ ساجدؔ ظُلمتیں ہوں گی
یقیناً دِل یہ ہو جائے گا آزادِ الَم میرا
شوقِ فراواں
میرے احباب بھی خوں روئیں گے ساجدؔ شب بھر
ہو گا فریاد یہ لب جب دِل سوزاں میرا
شوقِ فراواں
مِرا وِجدان ساجدؔ دِل نقشیں الفاظ کو ڈھونڈے
کیا کرتا ہے نعتِ مصطفیٰؐ تحریر دِل میرا
شوقِ فراواں
میرے موٗس ساجدؔ مکرّم شاہِ عالَم وہ غم خَوار مِرے
مشکل میری سہل ہوئی ہے جب بھی اُن کا خِیال کیا
شوقِ فراواں
ساجدؔ اے نصیب ہوا ساحلِ مُراد
موجوں میں رحمتوں کی شنا خواں بہہ گیا
شوقِ فراواں
روندوں میں رات دِن کہتے ہیں ساجدؔ آج کل
ہنگلِ نعتِ مصطفیٰؐ دِل کا سہارا ہو گیا
شوقِ فراواں
ساجدؔ گئے گا ڈوب کر حیرت میں روز حشر
یکسر سفید کیسے یہ فردِ ہو گیا
شوقِ فراواں
ساجدؔ اصنِ و راستی دستورِ عالَم ہو گئے
گُل جہاں میں مصطفیٰؐ کا بول بالا ہو گیا
شوقِ فراواں
ساجدؔ کبھی خُدا نہ دکھائے وہ بد سحر
خوانِ کرم سے کھا کے کے ندیدوں میں مل گیا
شوقِ فراواں
فکر و خِیال کا کریں ساجدؔ محاسبہ
اپنے دِل خاموش سے کیوں کر یہ دِل ہوا
شوقِ فراواں
ساجدؔ بیفیضِ لُطف ہو روشن ہِرا نصیب
اے کاش جل اُٹھے مِرے دِل کا نجھا ہوا
شوقِ فراواں
میں حقیقت میں کسی بھی کام کا ساجدؔ نہ تھا
مجھ پر درویشوں کی صحبت کا اثر اچھا ہوا
شوقِ فراواں
ماوراءَ فکر ہے عالی مَقامِ مصطفیٰؐ
کیا کہیں ساجدؔ اُسے جو معتزل⚠️ پیدا ہوا
شوقِ فراواں
دیکھتا اصم⚠️ و صفتِ کی مجھ میں ساجدؔ
سردی نُور سے دِل ضرور واصِل ہوتا
شوقِ فراواں
ہے جو آج کیف و مَستی یہ کبھی نہ ہوتی
کوئی اس جہاں میں ساجدؔ نہ یہ وجود ہوتا
شوقِ فراواں
مِرے سے زِندگی بسر ہوتی بیسرا پیٹا میں اے ساجدؔ
جو قِسِمت میں مِری وہاں کا آب و تاں ہوتا
شوقِ فراواں
آپؐ ساجدؔ پامینے ہیں کشور و تاج
رکھتے ہیں تقسیم کو گنجینہ زر زیر پا
شوقِ فراواں
سائے میں پاک ساجدؔ ہو سر ہِرا
چمپ جاؤں زیر دامَنِ زو پوش نقش پا
شوقِ فراواں
ساجدؔ خُدا کی ذات ہے اللہ سے ہیں عَیاں
اللہ کا تو شاہِ رُسُلؐ سے ہے سراغ باغ پا
شوقِ فراواں
ہے صنف نعت نہایت لطیف صنفِ سُخن
ہیں ساجدؔ اس کے سُخن ورِ خُدا ادیبِ خُدا
شوقِ فراواں
حضرتِ فاروقؑ کا مجھ پر بڑا اِحسان ہے
یہ نہیں ممکِن کہ ساجدؔ ہو سر تاج ہو سرِ خُدا
شوقِ فراواں
ذاتِ یزداں سے ظہور مصطفیٰؐ ساجدؔ
جذب ہیں در یک دگر دونوں بَہَم دونوں خُدا
شوقِ فراواں
ساجدؔ کہ بہت شِیفتہ تھا صنفِ غزل کا
یہ لطیف پَیمبرؐ سے شناخواں نکل آیا
شوقِ فراواں
ادیب اُن سا نہ عالَم ہے کوئی ساجدؔ میں
صحیفِ حق سے پڑھے اس کے تاریخ و ادب آیا
شوقِ فراواں
ملتا نہیں ہے حکمِ خُداوند کا ساجدؔ
کب سامنے تقدیر کا لکھنا نہیں آتا
شوقِ فراواں
یہ جہاں محفِل اُٹھائے خُدا ہے ساجدؔ
اور سب وہم ہے یہ وہم بھلانا اچھا
شوقِ فراواں
دِل میرا ہے تنہائی کا مارا ہوا ساجدؔ
آغوش میں رحمت کے یہ بل⚠️ جائے تو اچھا
شوقِ فراواں
شاہِ کونین کا ہے ساجدؔ فیضان
ہم جہاں بھی جھنجھے وہاں ثُجُع⚠️ احباب بنا
شوقِ فراواں
یہ خاک کی کی مٹ سنتِ ساجدؔ ہو وہیں کی
دِل پہلے سے بعد زمیں ہو ہی چکا تھا
شوقِ فراواں
یہ یقینِ حق الیقیں اُن میں ہے وہ حق میں ہیں
ساجدؔ اپنا یہ عقیدہ جانِ ایمان ہی رہا
شوقِ فراواں
نُور ہے مادہ تخلیق اے ساجدؔ جہاں
ہے اسی نُور سے فِردَوس کے فِردَوس⚠️ معطّر پیدا
شوقِ فراواں
بے ساختہ کہتا ہوں جو آئے مِرے دِل میں
ساجدؔ میں ذرا سا بھی تکلّف نہیں کرتا
شوقِ فراواں
توفیقِ خُداوند سے ہوتی ہے رقم نعت
ساجدؔ سے بغیر قلم ورنہ اُٹھ نہیں سکتا
شوقِ فراواں
تِرا ساجدؔ خُدایا! تُجھ پہ قُرباں
تِری رحمت سے اس نے کیا نہ پایا
شوقِ فراواں
شہر میں جب ہوئی آہ کڑھلبلی⚠️ ساجدؔ برپا
میں نے دیوان شا⚠️ اپنی بغَل میں مارا
شوقِ فراواں
بہت ہے حمد و نعت و منقبت کی شاعری ساجدؔ
بغیر حرفِ حق میں نے جو سر مارا تو کیا مارا
شوقِ فراواں
ذرہ بن کر میں لپٹ جاؤں گا دار سے ساجدؔ
لے کے دیوان بھی میں زیرِ بغَل جاؤں گا
شوقِ فراواں
میں تو مر جاتا غم و کرب و بلا سے ساجدؔ
حق نہ اس باغ کی گر نغمہ سرائی دیتا
شوقِ فراواں
مصوروں کے قلم دَم بخود ہوتے ساجدؔ
بنایا حق نے وہ نرغ⚠️ اُنؐ کا ڈھال کے کیا
شوقِ فراواں
ہر اِک تھے اپنی اصلیت کی جانِب ہے رواں ساجدؔ
مسافِر جو نظر آیا وہ محوِ جُستجو نکلا
شوقِ فراواں
ساجدؔ اگر درود وہ پڑھتا شبانہ روز
ارماں نہ وَصل کا دِل بُھل میں لوٹا
شوقِ فراواں
باب اُن کے لُطف کا ساجدؔ کُھلا ہے رات دِن
ہر کوئی اُن کی پناہ آستاں لینے لگا
شوقِ فراواں
کاسبِ شاہِ وِلایتؒ ہوئے عبدالقادرؒ
جن کی ساجدؔ ہے جہاں مدح سرائی کرتا
شوقِ فراواں
زِندگی گزری درِ مہرِ علیؒ پر ساجدؔ
اپنا دربان مجھے آلِ عبا⚠️ نے رکھا
شوقِ فراواں
خُتم ہو یا کہ خُوشی⚠️ حال ہو جیسا ساجدؔ
وہ ہے مومن بھی کبھی جاتے جو باہر نہ ہوا
شوقِ فراواں
بغیرِ شوقِ فَراواں اور سامانِ مجھے کچھ نہیں
تیرے ساجدؔ نے یہ زادِ سفرِ ربِّ جہاں باندھا
شوقِ فراواں
ساجدؔ ہو جس میں نہ کوئی سر نہ کوئی سوز
کیونکر صدا یہ نالہ پُرغم سے کم نہیں
شوقِ فراواں
ساجدؔ زُباں وہ کیا زُباں جس پر نہیں درود
آہوئے⚠️ دِل وہ کیا ہوا جو گرمِ غم نہیں
شوقِ فراواں
ساجدؔ اب اپنے وطن کے لیے باندھیں سامان
عبید⚠️ پیری میں غریب الولنی⚠️ خوب نہیں
شوقِ فراواں
آپؐ کے بعد نبیؐ کوئی نہیں ہے ساجدؔ!
اب کسی جھوٹی بیعت کی اَڑی خوب نہیں
شوقِ فراواں
نعت گوئی ہے ساجدؔ میرے دِل کی زِندگی
میں تو مر جاؤں اگر آپؐ پر مِرے مِدحت نہیں
شوقِ فراواں
ساجدؔ لگے ہیں ڈھیر مضامینِ نعت کے
حق کے کلام خُوش بیاں ہم کو یقین ہوں میں
شوقِ فراواں
نبیؐ کی ذات کی محفِل ہے ساجدؔ نُورِ کی مجلس
سنائیں اور سنیں نقشِ شاہِؐ دیں ہم آپس میں
شوقِ فراواں
مصطفیٰؐ کے شہر میں ساجدؔ سُکوں کا سانس لیں
ہم رہیں گے تا کیے اس کوثرِ⚠️ بے گانہ میں
شوقِ فراواں
نبیؐ کی راہ پہ چلتا رہوں سدا ساجدؔ
اَلٰی! عمر مِری گزرے نعت خوانی میں
شوقِ فراواں
آج اس بزم میں ساجدؔ ہے فزودوں سرشاری
طُوطئی⚠️ باغِ نبیؐ نغمہ سرا ہے اس میں
شوقِ فراواں
نبیؐ تو اب بھی نبیؐ ہی دو جہاں والے
وہ ساجدؔ اب بھی سلام و پَیام لیتے ہیں
شوقِ فراواں
رِہ رسُولؐ پہ ساجدؔ جو رات دِن ہے رواں
وہ رہگزار نہ زیر و زبر کو دیکھتے ہیں
شوقِ فراواں
وہ اِک نِگاہ میں ساجدؔ کہا گو شاہ کریں
ذیل⚠️ مرغِ نہ شمسِ و قمر کو دیکھتے ہیں
شوقِ فراواں
مصرِ حق نے کی بہر نبیؐ ہر چیز ساجدؔ
نبیؐ حق میں مکمل جذب قالو⚠️ اس کو کہتے ہیں
شوقِ فراواں
ذِکرِ خاموش فقَط کام ہمارا ساجدؔ
ہائے ہم کارِ مجلل⚠️ میں نہ ہو کرتے ہیں
شوقِ فراواں
کوئی ساجدؔ ہمیں ستاتا رہے
اُس رُخِ لاجواب کی باتیں
شوقِ فراواں
ساجدؔ میرا ایمان حسینؒ اور حسنؒ ہیں
گر پہنچے کوئی اُس کو یہ تحریر دکھا دو
شوقِ فراواں
خُدا میں جذب ہے ساجدؔ خُدا کا پاک نبیؐ
مگر خُدا کے لیے اُن کو مت خُدا سمجھو
شوقِ فراواں
یہ نعت نگاری بھی کرم خاص ہے ساجدؔ
گو لاکھ سخنور ہوئے شہروں کے زقم⚠️ کو
شوقِ فراواں
اس سے بڑھ کر ہمیں کیا ہو گی خُوشی اے ساجدؔ!
مل گیا آج پتا اپنے خُدا کا ہم کو
شوقِ فراواں
کوئی چپّی⚠️ ہی نہیں اپنی نظر میں ساجدؔ
جب سے آیا ہے نظر وہ رُخِ زیبا ہم کو
شوقِ فراواں
دِل و جاں کے وہی کہیے اِمام کُلّی وہی ساجدؔ
وہی جلا وہی ماوٰی وہی آقاؐ کا مولا ہو
شوقِ فراواں
حق کی تحریر میں خوبی ہے سراسر ساجدؔ
کچھ بھی ناخوب نظر آیا نہ لکھا ہم کو
شوقِ فراواں
کبھی بھی رہوں اُن ہی سے وابستہ رہوں ساجدؔ
نظر مجھ پر مِرے آقاؐ کی دائم لُطف فرما ہو
شوقِ فراواں
قلم میرا اُٹھائے سر نہ سجدے سے کبھی ساجدؔ
خداوندا! شا لکّھتا⚠️ رہوں میں لُطف ایسا ہو
شوقِ فراواں
ہو یہی تو ساجدؔ نعت گو کے دِل کی آرزو
یہ غلام اُن کا اُنہیؐ کے صدقے فنا ذات ہو
شوقِ فراواں
سُکون دِل میں ساتا⚠️ ہے ساجدؔ خوب ہے
نبیؐ کی نعت مجھے جب بھی تم سناتے ہو
شوقِ فراواں
ساجدؔ اُن کی اِک تَوَجُّہ سے سنور جائے نصیب
لاکھ دِل ہو یہ نیم جاں اور جاں زار و خستہ ہو
شوقِ فراواں
دم آخر مِرے ہونٹوں پر ساجدؔ نعت جاری ہو
یکی⚠️ لکھا ہو قِسِمت میں یہی میرا مُقدّر ہو
شوقِ فراواں
ہو یہی تو ساجدؔ نعت گو کے دِل کی آرزو
یہ غلام اُن کا اُنہیؐ کے صدقے فنا ذات ہو
شوقِ فراواں
خِردِ درویش سے اُس کی کوئی نِسبت نہیں
گو قبا سُلطاں کی ساجدؔ بے بہا دیا سے ہو
شوقِ فراواں
سُکون دِل میں ساتا⚠️ ہے ساجدؔ خوب ہے
نبیؐ کی نعت مجھے جب بھی تم سناتے ہو
شوقِ فراواں
مِشک و عنبر کی بیاں کرتے ہیں ساجدؔ رودادِ⚠️
یہ شکتہ⚠️ سے جو تم کچھ و ذر دیکھتے ہو
شوقِ فراواں
کوئی مشکل ہی نہیں ساجدؔ سنورنا بخت کا
شاہؐ کے دربار میں منظور مِدحت ہو تو ہو
شوقِ فراواں
ساجدؔ ہو لحد میں بھی ثَنا میری زُباں پر
آہوئے⚠️ قلم کا ہو یہ رم اور زیادہ
شوقِ فراواں
ساجدؔ نبیؐ کے در سے میں لِپٹا رہوں سدا
وابستہ یہ غلام رہے محبین کے ساتھ
شوقِ فراواں
کب گوارا مجھے ساجدؔ یہ تھا نعتوں کے عوض
لے کے تقدیر مِری دولت قارون چلتی
شوقِ فراواں
نصیب ذائقہ⚠️ کیا زُباں کیا ساجدؔ
یہ جب سے منہ میں مِرے نعت کی زبان گئی
شوقِ فراواں
تختہ نبیؐ کی آل کا ساجدؔ ہے سر کا تاج
کالی گاہ یہ مِرے سر پر گلی⚠️ ہوئی
شوقِ فراواں
ہنگامہ چار جانِب ساجدؔ ہے اِک قِیامت
دیتی نہیں صدا اب کانوں پڑی سُنائی
شوقِ فراواں
دِل کی دُنیا ہی بدل جاتی ہے ساجدؔ
میں فِدا جاؤں کوئی نعتِ نبیؐ سنائے تو سی
شوقِ فراواں
ساجدؔ کلام اُنؐ کا فصاحت ہے سر بسر
دفتر ہیں حکمتوں کے یہ باتیں جناب کی
شوقِ فراواں
مجھ کو ساجدؔ کیا خبرتھی اُن کی محفِل ہے جبھی
یاد آئی اُن کی اور مجھ کو بلا کر لے گئی
شوقِ فراواں
نیت ہے جس کی صاف وہ ساجدؔ ہے پاک جاں
بے کار اُس کے لیے کار اُس کی شہرت پرست ہے
شوقِ فراواں
چاہیے سوزِ درون ساجدؔ نبیؐ کی نعت کو
رائیگاں اس بزم میں سب ساز اور سرتال ہے
شوقِ فراواں
مجھ پہ ساجدؔ حق تعالیٰ کا کرم ہے بے حِساب
میرے جان و دِل کا مُونِس مصطفیؐ کی آل ہے
شوقِ فراواں
ساجدؔ اُس کو نار دوزخ کی کوئی سمکا⚠️ نہیں
صِدق دِل سے سروردیں کی جو نعتیں گائے ہے
شوقِ فراواں
اِک آپؐ کے در پر ہے ساجدؔ کا نظر دائم
اِک آپؐ سے ہے نِسبت کیا دیر لگائی ہے
شوقِ فراواں
ساجدؔ زُباں صاف ہو شیریں⚠️ ذہلی⚠️ ہوئی
شاعر وہی ہے خوب جو مضمون تراش ہے
شوقِ فراواں
ساجدؔ کرم خُدا کا ہے اُس کا رفیق جاں
نیت ہے جس کی صاف اور دِل پاکباز ہے
شوقِ فراواں
اس ست قدم رنجہ وہ فرمائیں گے ساجدؔ
یہ خانہ کبھی کا اسی مہماں کے لئے
شوقِ فراواں
محمدؐؐ کا ہمسر نہیں کوئی ساجدؔ
محمدؐؐ سا عالَم میں کوئی نہیں ہے
شوقِ فراواں
خُدا نے رقمیں⚠️ بجھیں اُن کے نام کو ساجدؔ
یہاں پر مصطفیؐ کا ذِکر صبح و شام چاتا ہے
شوقِ فراواں
ساجدؔ نبیؐ کی نعت کے قابل ہے جو زُباں
قُربان جائیں ایسی زُباں جس کے ذہن میں ہے
شوقِ فراواں
ساجدؔ مِرا وِردِ زُباں نعتِ نبیؐ کی
کیا خوف نبیؐ شوقِ نبیؐ راہ نموں ہے
شوقِ فراواں
بیٹھا چاتا ہوں تَصَوُّر میں نبیؐ کے ساجدؔ
جس گھڑی کام کوئی اُلجھا ہوا لگتا ہے
شوقِ فراواں
ساجدؔ ضرور اُس طرف اَنوار نظر آئیں گے
بارات⚠️ خُدا کے لُطف و کرم کا ادھر تو ہے
شوقِ فراواں
مجھے سوغات دروودوں کی نبیؐ کو ساجدؔ
زِندگانی سے جو بے زار نظر آتا ہے
شوقِ فراواں
لاکہ⚠️ دیوانہ محبت میں ہو ساجدؔ کوئی
آپؐ کے در پر وہ ہشیار نظر آتا ہے
شوقِ فراواں
آپؐ کا نام ہے ہر اِک زُباں پر ساجدؔ
ہر کوئی عاشق سرکارؐ نظر آتا ہے
شوقِ فراواں
اب کے ساجدؔ گُل⚠️ عطر گُل
آپؐ کے خُوشبو بھرے بازار سے ہے
شوقِ فراواں
زمرہ خواں میں ہوائیں ساجدؔ اُن کے شوق میں
آئے خُوشبو خُلد کی آقا کی کی خاک سے
شوقِ فراواں
اللہ عطا اُس کو کرے نعمت دارین
ساجدؔ نے سیکھا ہے جس⚠️ نے بنر⚠️ اہل ہنر سے
شوقِ فراواں
ہم شاہؐ وِلایت پہ فِدا دِل سے ہیں ساجدؔ
ہاتھ آئی یہ دولت ہمیں اللہ کے گھر سے
شوقِ فراواں
زمرہ⚠️ خواصِ⚠️ میں ہوائیں ساجدؔ اُن کے شوق میں
آئے خُوشبو خُلد کی آقاؐ کی آقاؐ کی خاک سے
شوقِ فراواں
اللہ عطا اُس کو کرے نعمت دارین
ساجدؔ نے سیکھا ہے جس اہل ہنر سے
شوقِ فراواں
یہ لازم ہے کہ نیت صاف ہو حق پر بھروسہ ہو
کوئی بھی بات ہو ساجدؔ وہ بنتی⚠️ ہے بنانے سے
شوقِ فراواں
ابھی تو رائیگزر⚠️ آساں ہے ساجدؔ
پریشاں ہیں مِرے ہمدم ابھی
شوقِ فراواں
شرف حق کی محبت کا ملا صادِق کو ساجدؔ
امیر انبیاؐ محبوبؐ داوَر کی رفاقت سے
شوقِ فراواں
یہ کیا کیا نعمتیں عالیؐ سے جا کے ملتی ہیں
عقیدت خاص ہے ساجدؔ کو شاہؐ وِلایت سے
شوقِ فراواں
غوثِ⚠️ اعظم شاہ گیلانی کا ساجدؔ فیض ہے
کھل گئے عُقدے ہمارے دِل کے سب مطلب ہے
شوقِ فراواں
توفیق حق رفیق ہے ساجدؔ ہزار شُکر
اہل جہاں کو نعتِ نبیؐ ہم سنا چلے
شوقِ فراواں
آیت مُطلِق پر ساجدؔ جب پڑے دِل کی نظر
خوب دِل لیتا ہے میرا یوں عبادت کے مِرے
شوقِ فراواں
جن کی صحبت میں سُکوں ملتا ہے دِل کو ساجدؔ
بندے ہوتے ہیں خُدا کے وہ سعادت والے
شوقِ فراواں
ہمیں ساجدؔ نظر آئے بہت کم طالبِ مولیٰ
یہ اہلِ زہد سارے طالبِ خُلدِ بَریں نکلی
شوقِ فراواں
سہارا اور نہیں چاہیے مجھے ساجدؔ
نبیؐ کا نام ہے کافی مجھے اماں کے لیے
شوقِ فراواں
ساجدؔ وظیفہ جب سے ہمارا درود ہے
دردِ و الَم سے دامَنِ دِل ہم بچا چکے
شوقِ فراواں
نعت خوانی ہی مُقدّر ہوا ساجدؔ جن کا
نعت پڑھتے ہوئے جائیں گے ادھر⚠️ جائیں گے
شوقِ فراواں
وہ معزز نہیں ہو سکتا جہاں میں ساجدؔ
آپؐ کے اہلِ قرابت کی جو عزت نہ کرے
شوقِ فراواں
ساجدؔ جہاں میں آپؐ معزز ترین ہیں
رسواِ⚠️ جہاں سے اُن کے سبھی مددی چلے
شوقِ فراواں
اپنے بیگانے ہمیں بھول بھی جائیں ساجدؔ
عمر بھر ہم کو مدینے کا پتا یاد رہے
شوقِ فراواں
فضلِ اِیزَد سے ہے وِلائے نبیؐ
ساجدؔ نعتِ گو کا سرمایا
شوقِ فراواں
محاسنِ فضائلِ محمدؐؐ کے
شب و روز ساجدؔ سناتا رہے گا
شوقِ فراواں
یا نبیؐ! ایک نظر ساجدؔ پر
یہ خَذف⚠️ گوہرِ یم کی ہے گا⚠️
شوقِ فراواں
ہو نہ ساجدؔ جو شوق⚠️ سے معمور
لمحہ ایسا بھی بسر نہ کیا
شوقِ فراواں
شوقِ یہ اُن کو نہیں تھا کہ زیارت ہو نصیب
حقِ کے جلووں سے وہ ساجدؔ بھی مجبور نہ تھا
شوقِ فراواں
چشمِ جاں کب تک کٹھلے گی ساجدؔ کی
وہ کرمِ! مِرے خُدا! ہو گا
شوقِ فراواں
ساجدؔ وہ فرد کیا ہے جو پڑھتا نہیں درود
دِل میں جو آپنے⚠️ نجؑ کی خُوشبو کا بو سکا
شوقِ فراواں
دِن رات میرے دِل پہ ہیں سرشاریاں مُحیط
ساجدؔ غلام میں بھی ہوں عالَمِ پناہ کا
شوقِ فراواں
ساجدؔ رہی نہ فکر نہ گردِ و پیش مجھے
ان کے خِیال نے مجھے یوں بے خبر کیا
شوقِ فراواں
ساجدؔ بلالؑ نام کا اِک عام سا غلام
فیضِ نبیؐ سے قوم کا سردار ہو گیا
شوقِ فراواں
ممکِن نہیں ہے تم ہو ذمرہِ عشاق میں شامِل
ساجدؔ ہے تجھے ذوقِ ذوقِ ہوں سم و گھر کا
شوقِ فراواں
آج کل ساجدؔ عجیب ہے خُودی
زِندگانی کا الوکھا⚠️ مرجا⚠️
شوقِ فراواں
کبھی کعبہ کبھی بھی بھی ہوتے نِگاہوں میں
یہی دراماں فقَط ساجدؔ ہے مِرے دیدہ نم کا
شوقِ فراواں
ہے دروودِ پاک ساجدؔ دِل کا چین
نعت سے دِل اور ہی لہرا گیا
شوقِ فراواں
لِپٹا رہا نبیؐ کے جو درِ سے بعد نِیاز
آزادِ دو جہاں سے ساجدؔ ہو گیا
شوقِ فراواں
ہو مزا تُجھ کو عطا مَستی حق کا ساجدؔ
باغِ جنت کا تِرے میں میں وہ پھل پل کے آئے
شوقِ فراواں
ساجدؔ نہیں جُدا رہے آقا سے ہم کبھی
جاں اپنی اُن کے در پہ رہیں ہم جہاں رہے
شوقِ فراواں
یہ کیا اندھیر ہے ساجدؔ نجف میں
فضا آلود بارودی دُخاں سے
شوقِ فراواں
نبیؐ کا نام دِل اَفِزا لبوں پہ ہو ساجدؔ
خِیال میں وہ جمالِ رُخِ پُرآب رہے
شوقِ فراواں
ساجدؔ نہیں جُدا رہے آقا سے ہم کبھی
جاں اپنی اُن کے در پہ رہیں ہم جہاں رہے
شوقِ فراواں
مجھ کو یقیں ہے مغفرت ہو گی مِرے لیے
ساجدؔ نبیؐ کی نعت کا دیواں بغَل میں ہے
شوقِ فراواں
فقَط نِسبت ہی کام آئے گی ساجدؔ کے
وسیلہ میری بَخشِش کا شعرِ دیں کی ولاء ٹھہرے
شوقِ فراواں
فقَط نِسبت ہی کام آئے گی ساجدؔ کی
وسیلہ میری بَخشِش کا شعرِ دیں کی ولاء ٹھہرے
شوقِ فراواں
نعت و ثَنا میں پایا اُس کو اکثر مدہوش
جامِ ولانبیؐ کا ساجدؔ پئے ہوئے ہیں
شوقِ فراواں
گزاری عمر پاکستان میں ساجدؔ نے تکلف
پا آخر چلا جاں اُس کی طَیَّبہ میں نہیں نکلی⚠️
شوقِ فراواں
حاضری دیتے ہیں ہم آپؐ کے در پر ساجدؔ
اکتسابِ اُن سے تجلّی ہدایت کرنے
شوقِ فراواں
آنکھیں حِجاب میری چشمِ جاں سے بھی ساجدؔ
مِرے نصیب میں طَیَّبہ کا گر غُبار آئے
شوقِ فراواں
بات اتنی ہے کہ حق ملتا نہیں اُن کے سِوا
ساجدؔ اُن سے یہ کہیں بات یہیں⚠️ تھوڑی سی
شوقِ فراواں
کشمریں⚠️ تقسیم ساجدؔ ہوں سدا
آستانِ سیّدِؐ ابرار سے
شوقِ فراواں
ساجدؔ کرے گی رحمتِ حق سرخرو مجھے
آئے گی نظر اُسے جب کٹھوری⚠️ گناہ کی
شوقِ فراواں
روکتِ حق نے اُن کو نصیب ہو ساجدؔ
جن کے دِل کے در پہ ہیں تالے پڑے
شوقِ فراواں
اگر ملنا خُدا سے ہے نبیؐ سے ہم ملیں پہلے
اگر ساجدؔ ہمارے ہیں بس میں ہم سب کو سمجھاتے
شوقِ فراواں
منشائے ایزدی سے میں ساجدؔ ہوں مسلمان
منظور مجھ کو دیر ہو خواہے سویر ہے
شوقِ فراواں
نبیؐ کے پاک بیت کا ساجدؔ خاندانی ہے
نہیں ہے اس جہاں میں اس شرف کا خاندان کوئی
شوقِ فراواں
شوق ہے ساجدؔ پرانا، ذوق بھی پارینہ ہے
تا ابد آقا وہی ہیں باقی ہیں ہم نئے
شوقِ فراواں
ادائے شُکر کو ساجد کہاں سے زِندگی لاؤں
کرم اِتنا بڑا مجھ پر ہُوا خاتونِ جنت کا
ذوقِ جمال
فقَط خوشنودی حق ہو تِرا مقصود جانِ ساجدؔ
خِیال آئے تو ذرا سا بھی نہ دِل میں باغِ جنت کا
ذوقِ جمال
ادائے شُکر کو ساجدؔ کہاں سے زِندگی لاؤں
کرم اِتنا بڑا مجھ پر ہُوا خاتونِ جنت کا
ذوقِ جمال
خُدا کی کُل خدائی کے وہ خیر اندیش ہیں ساجدؔ
رسُول اللہ کا حقِّ دینِ اللہ کی ، پَیکر ہیں رحمت کا
ذوقِ جمال
اسلام کا بلتہ⚠️ ہو جہاں سارے میں جاری
ساجدؔ یہی اِک حرف تمنا ہے ہمارا
ذوقِ جمال
نقشِ کف ، یا حضرتِ شیرِ⚠️ کا ساجدؔ
روشن وہ نشانِ منزِل جاں کا ہے ہمارا
ذوقِ جمال
میں ہوں ساجدؔ غوثِ اعظم کا مرید
میرا نیک انجام ہو ہی جائے گا
ذوقِ جمال
خُدا کا شُکر ادا اِس طرح کروں ساجد
محبت آپؐ کی میرا عقیدہ ہونا تھا
ذوقِ جمال
لو فصلِ ربیع آئی ساتھ اپنے خُوشی لائی
ساجدؔ بیں موسمِ پا، جب شاہِ کاں⚠️ آیا
ذوقِ جمال
خُدا نے بخشی ہے ساجد آلِ کردہ عطا
دِل و جگر نے مِرے ارمیدہ⚠️ ہونا تھا
ذوقِ جمال
جان دی آپؐ پر ساجد نے بعد شوق و نِیاز
یہ فقیر آپؐ کا تھا، آپؐ کے قُرباں گیا
ذوقِ جمال
اِک پچھائی کہ وہی تختِ پر ہے ساجد اُن کا
کُل جہاں میں ہے رواں بکقہ⚠️ دارائی دوست
ذوقِ جمال
ٹھکرحق حتملین⚠️ جاں ساجد مجھے حاصل ہوئی
خار جو پیوست جاں تھا وہ نکل آخر گیا
ذوقِ جمال
سرخوش و سَرشار ہے جاں اور دِل سرمست ہے
جب سے ساجدؔ نے دیکھا وہ سرایا نُور کا
ذوقِ جمال
حال اُنت⚠️ دیکھ کر روتا ہے ساجد رات دِن
کاش پر جائے ادھر بھی ایک چھینا نُور کا
ذوقِ جمال
کُل گلیِ طَیَّبہ کی خُوشبو سب سے ہے ساجد
کیا عجب دَہر میں ہے رنگِ گلستانِ عرب
ذوقِ جمال
حوالے آپؐ کے ساجد کی کشتی
اِسے اب کیا غمِ ساحل ہے یا غوث!
ذوقِ جمال
خُدائے جہاں کی زیارت پہ ساجد
عجب شانِ مسکرائے محمدؐؐ
ذوقِ جمال
آپ ہیں شاہِ وِلایت کے مدیر اے ساجد!
سَرِ باطِن ہیں ظاہر بھی ہیں عَبد القادرؒ
ذوقِ جمال
اپنا معبود فقَط ذات ہے خُدا ہے ساجد!
جو نِہاں زوح⚠️ میں ہے جلوۂ رعنا ہو کر
ذوقِ جمال
ساجدؔ عبور کیسے کرے گا یہ ظُلمتیں
طیبۂ کی خندی روشنی کے ماہ! لے خبر
ذوقِ جمال
اِک بے خُودی سی رات دِن طاری ہے زوح⚠️ پر
ساجدؔ بیاں و دِل ہے غلام حسینؑ پاک
ذوقِ جمال
خُدا نے دی اے ساجد یہ رفعتِ اِس لیے
مُدام سجدہ گزاری ہے خاص ادائے فلَک
ذوقِ جمال
لکھ کر نبیؐ کی نعت ہم ساجد ہم بارہ مراد
رہتے ہیں ہم نعت ہم کھلے ہوئے شاداں مِثالِ گُل
ذوقِ جمال
مدفون ہو ساجدؔ تن خاکی کی بھی، تمنّا
طیبۂ کی زمیں میں ہے مِری جاں کا وطن پھول
ذوقِ جمال
شُکر صد شُکر توفیق ملی، مجھکو ساجد بخشی⚠️ گئی
نعتیں کیا! جو میرا مقدّر نہیں، ذاتِ بے مِثل ربِّ اعلا کی قسم کی
ذوقِ جمال
ساجدؔ اُن کے در سے کیا پایا نہیں
اُن سے لائے قِسِمت بیدار ہم
ذوقِ جمال
ساجدؔ مرید ہوں، میں اِمامِ حسینؑ کا
میں اِمتحانِ زِندگی میں کامیاب ہوں
ذوقِ جمال
اللہ کا سُو شکرگزروں، میں ساجد اُن کے در کا رہوں
کچھ خوف نہیں رَہبَر کے نہ رہنے پر، جب میرا ہے سرا جانا
ذوقِ جمال
واپسی کا اب خِیال آئے، نہیں ساجدؔ نہیں
میں تو پہنچا ہوں مدینے میں رگڑ کر ایڑیاں
ذوقِ جمال
یہ وہ اِکسیر ہے ساجدؔ کہ نہیں اِس کا جواب
میری قِسِمت میں ہو آقاؐ کا غُبار دَاسَن
ذوقِ جمال
شاہِ رُسُلؐ کے احساں ہیں بے شُمار ساجدؔ
بنجر زمیں میں کیا کیا گُلشن کِھلا دیے ہیں
ذوقِ جمال
خاطِر ہے ساجدؔ جمع، شُکر ہے ساجدؔ ہزار شُکر
اِحسانِ مندِ حضرت ابنِ⚠️ خطاب ہوں
ذوقِ جمال
کوئی مانع کہ ہو گَدا ساجدؔ
آپؐ کے نقشِ خَوار پھرتے ہیں
ذوقِ جمال
ساجدؔ ہے یہ بانمہ آ، ہاتھ میں ہے گنج⚠️ بے بہا
چھوڑے کے در رسُولؐ کا اور کہیں یہ جائے کیوں
ذوقِ جمال
اللہ وحدہ کے ہیں مَظہرؐ، رسُولِؐ حق
ساجدؔ ادھر جو ہم تو نہ گریں رُخ کریں
ذوقِ جمال
آج ہے ساجدؔ اپنا دم قیدی دردِ غم و غم
عمر تمام جھیل میں ہم نے عبادت گنوائی کیوں
ذوقِ جمال
ساجدؔ انہیؐ کے ہیں کف پا کی یہ روشنی
قدیم جان و دِل کا اُجالا کہوں اُنہیں
ذوقِ جمال
جب پلیں اِعمال ساجدؔ حشر کو میزاں پر
ہو مطا فردِ عمل⚠️ داعیں⚠️ سوالی ہا تھ میں
ذوقِ جمال
اس میں آتی ہیں نظر ارض و آسماں کی وسعتیں
یہ ہے دِل موسٰی⚠️ کا ساجدؔ، کوئی جام مہ نہیں
ذوقِ جمال
ساجدؔ عطا نہیں ہمیں ہو توفیقِ ایزدی
ہر رات ذِکرِ آپؐ کا ہم تا سحر کریں
ذوقِ جمال
اِک ذرا اِنتظار، اے ساجدؔ!
تیرے لیل و نہار پھرتے ہیں
ذوقِ جمال
غلامِ اُن کے ہیں جو بھی ساجدؔ
وہ اِک جماعت میں سب جڑے ہیں
ذوقِ جمال
نعت گو شاعروں کے آپؐ ہیں مُونِسِ ساجدؔ
رہتے دیتے نہیں وہ ہم بے سروساماں ہم کو
ذوقِ جمال
بزِ آسرار ہے یہ مصرعِ رضا ساجدؔ
کعبہ تو دیکھ کے چُکے، کعبہ کا کعبہ دیکھو
ذوقِ جمال
تختہ⚠️ لائے مصطفیؐ ساجدؔ ہمارے واسطے
کس قدرتی اوج پر قِسِمت ہماری، واہ واہ
ذوقِ جمال
جلوہ حق ہے ساجدؔ وجود آپؐ کا
ہے بڑی شاں والا ہمارا نبیؐ
ذوقِ جمال
روبرو آپؐ ہوں مِرے ہر دم
ساجدؔ اِس کے سِوا دُعا نہ کرے
ذوقِ جمال
اِس کرم کا شُکرِ حق، ساجدؔ ادا کیسے کروں
میرے لب پر ہے سدا مِدحتِ رسُولؐ اللہ کی
ذوقِ جمال
آپؐ رہتے ہیں غلاموں کے دِلوں میں ساجدؔ
بات کچھ اور ہی ہے آپؐ کی آقائی کی
ذوقِ جمال
ہم خِیالِ مصطفیؐ میں ڈوب کر شام و سحر
جانِبِ حق ساجدؔ اپنی رہ بناتے جائیں گے
ذوقِ جمال
خُوب سے کیا خُوب تر ساجدؔ ہیں منظَر آنکھ میں
شُکر میرا دیدہ بخت اِن دنوں بیدار ہے
ذوقِ جمال
ساجدؔ نعت گو کرے کیسے بیاں وصفِ پاک
گئے جُو سے لامَکاں اور اِس کی شاں ہے
ذوقِ جمال
ہم خِیالِ مصطفیؐ میں ڈوب کر شام و سحر
جانِبِ حق ساجدؔ اپنی رہ بناتے جائیں گے
ذوقِ جمال
شِکایت کوئی فیروں سے نہ ساجدؔ اِن بتوں سے
خُدا کا فضل ہے مجھ پر نبیؐ کی مہربانی ہے
ذوقِ جمال
بے ساختہ لکھوں میں آپؐ کی ساجدؔ آپؐ کی
سب بات مہربانی، خیرالبشرؐ کی ہے
ذوقِ جمال
ساجدؔ نبیؐ کو بیچ تحائف درود کے
یہ زِندگی تو جو ہے پھر دو پہر کی ہے
ذوقِ جمال
خیر اگر درکار ہے ساجدؔ تمہیں
مت کسی کی بھی شِکایت کیجیے
ذوقِ جمال
بخشیں نعت رہے شاد کام ہم ساجدؔ
تمام رنج و الَم سے فراغ لے کے چلے
ذوقِ جمال
یہ ساجدؔ اَنمی کا ہے خاکداں
یہ ہفت آسماں اَنمی کے لیے
ذوقِ جمال
یہ ہیں ساجدؔ ان کے ہی سمجھے
کہ خزواں بھی آج کے بہار ہے
ذوقِ جمال
مرتے میں نے یہ خُدا ہیں ساجدؔ
اس کا اِدراک مسلمانی ہے
ذوقِ جمال
چھوٹا منہ نہ ، بات بڑی ہے ساجدؔ
کیا بیاں مجھ سے ہو عظمت ماں کی
ذوقِ جمال
ساجدؔ یہاں ہے شام ، ہر اتوار کی حسین
پڑھتے ہیں ہم ''سلامِ رضا'' ذوق و شوق سے
ذوقِ جمال