← حرفِ نیاز
نِہاں ہے مصطفیٰؐ کا حُسن پھولوں کی ضیاؤں میں
رچی ہے اُن کی خُوشبو شہرِ بَطحا کی ہواؤں میں
غلامانِ محمدؐؐ کو یوں ہی مت دیکھ بے ساماں
قِیامت کا لئے سامان بیٹھے ہیں نَواؤں میں
جو فُرصت ہو تو تنہائی میں مانگا کر دُعا دِل سے
بڑی تاثیر ہوتی ہے محبت کی دعاؤں میں
جھڑی اشکوں کی اُن کی یاد میں رحمتِ خُدا کی
چھپے ہوتے ہیں موتی قیمتی کالی گھٹاؤں میں
محمدؐؐ کی گلی کے ہیں بِھکاری زوئی و جائی ⚠️
سلاطینِ زمانہ ہیں بھی اُن کے گداؤں میں
خدارا یا نبیؐ! ساجدؔ پہ بھی چشمِ نَوازِش
خُوش قِسِمت شُمار اِس کا بھی ہو مِدحت سراؤں میں