← حرفِ نیاز
1
نِہاں ہے مصطفٰےؐ کا حُسن پھولوں کی ضیاؤں میں
رچی ہے اُن کی خُوشبو شہرِ بَطحا کی ہواؤں میں
2
غلامانِ محمدؐ کو یوں ہی مت دیکھ بے ساماں
قِیامت کا لئے سامان بیٹھے ہیں نَواؤں میں
3
جو فُرصت ہو تو تنہائی میں مانگا کر دُعا دِل سے
بڑی تاثیر ہوتی ہے محبت کی دعاؤں میں
4
جھڑی اشکوں کی اُن کی یاد میں رحمت خُدا کی
چھپے ہوتے ہیں موتی قیمتی کالی گھٹاؤں میں
5
محمدؐ کی گلی کے ہیں بِھکاری رومی؟ و جامی؟ ⚠️
سلاطینِ زمانہ ہیں بھی اُن کے گداؤں میں
6
خدارا یا نبیؐ! ساؔجِد پہ بھی چشمِ نَوازِش
خُوشا قِسِمت، شُمار اِس کا بھی ہو مِدحت سراؤں میں