← نور و سرور
1
نویدِ رحمت پروَردِگار آئے گی
کبھی تو صبحِ شبِ انتظار آئے گی
2
کِھلیں گے غنچے مرادوں کے پھول مہکیں گے
ہَوائے مدینے کی جب عطر بار آئے گی
3
رُخِ نبیؐ کی اگر تیرے دِل میں یاد نہیں
گھڑی جو آئے گی پھر سوگوار آئے گی
4
مریضِ دردِ محبت ہوں لے چلو بَطحا
ہَوا وہیں کی مجھے سازگار آئے گی
5
بہت کریم ہے اُن کی نظر بہت کریم
تِرے سُکوں کو دِلِ بے قرار آئے گی
6
مجھے یقین ہے یُونہی رہی جو یاد اُن کی
دِلِ فسردہ پہ تیرے بہار آئے گی
7
خُدا کرے ہمیں ساؔجِد نصیب خاکِ حِجاز
مزے کی نیند وہاں میرے یار! آئے گی