نور و سرور
1

کھڑا ہوں در پر سراپا اِلتجا ہوں یا رسُولؐ اللہ!

غُلامِ کمترین ادنیٰ گَدا ہوں یا رسُولؐ اللہ!

2

سہارا دیجیٔے بے دست و پا ہوں یا رسُولؐ اللہ!

کرم فرمائیے بے آسرا ہوں یا رسُولؐ اللہ!

3

مِرا حالِ زَبُوں محتاج ہے چشمِ عِنایَت کا

پریشاں ہوں گِرفتارِ بلا ہوں یا رسُولؐ اللہ!

4

مجھے دُوری مدینے کی بہت بے چین رکھتی ہے

غم و رنج و الَم میں مُبتلا ہوں یا رسُولؐ اللہ!

5

بِھکاری آپؐ کا ہوں نام لیوا آپؐ کا آقا!

طلبگارِ عطا ہوں بے نواہوں یا رسُولؐ اللہ!

6

بنامِ غوثِؓ اعظم میرے دِل میں روشنی آئے

میں تاریکی میں مدت سے پڑا ہوں یا رسُولؐ اللہ!

7

میں ساؔجِد نام کا ہوں کام کا ساؔجِد بھی بن جاؤں

تَہی دامَن لیے کب سے کھڑا ہوں یا رسُولؐ اللہ!