نور و سرور
1

کاش ایسی بھی اِک سحر آئے

میرا محبوبِؐ جاں نظر آئے

2

کوئی اُن سا حَسِیں نہیں دیکھا

لاکھ گُل چہرہ سِیمبر آئے

3

مجھ کو جب یوں ہُوا خیال اُن کا

یاد اب اُن کی بیشتر آئے

4

ہر طرف رنگ و نُور و نعمت ہے

شاہِؐ عالَم کے بام و در آئے

5

روشنی ہے اُنہی کی ہر جانِب

دِل کو ہر سُو وہی نظر آئے

6

ہم کو دُنیا سے کچھ نہیں لینا

ہم یُونہی گھومنے اِدھر آئے

7

بام و در سے بھی پھُوٹتی ہے بہار

کون ساؔجِد کے آج گھر آئے۔۔ آج ساجدؔ کے کون گھر آئے