← نور و سرور
1
کِس کی زُباں ثنائے محمدؐ سے تر نہیں
میں ہی جمالِ شاہؐ کا اِک نغمہ گر نہیں
2
راہِ خِرد میں کوئی بھی کیف و اثر نہیں
لگتا ہے میرے ذوق کی یہ رہگزر نہیں
3
نالے میں اِضطِراب فُغاں میں اثر نہیں
میرا جہانِ شوق ابھی معتبر نہیں
4
کب میرے حالِ زار سے ہیں بے خبر حضورؐ
کب میرے حالِ زار کی اُن کو خبر نہیں
5
جب سے ہوئی ہے یادِ نبیؐ مُونس و رفیق
مجھ کو رہِ حیات میں کوئی خطر نہیں
6
وہ میرے کارساز ہیں وہ میرے جاں نَواز
اُن کے سِوا کِسی پہ بھی میری نظر نہیں
7
ہر سِمت جلوہ بار محمدؐ کا نُور ہے
ساؔجِد نبیؐ کا فیضِ تجلّی کدھر نہیں