نور و سرور

درِ شاہؐ پر بندۂ زار آیا

غمِ دردِ کلفت کا بیمار آیا

فقَط آپؐ کا نام ہے جس کے لب پر

گَدا آپؐ کا شاہِ ابرار آیا

ہوا عطر، آئیں فضا نغمۂ پیرا

دِلِ افروز بَطحا کا بازار آیا

محبت نہیں جِس میں شاہِ رُسُلؐ کی

وہ دِل بزمِ عالَم میں بے کار آیا

جو ہے آپؐ کے رُوئے زیبا کا شیدا

درِ پاک پر بہرِ دِیدار آیا

نِگاہوں میں گُنبد کی ٹھنڈک سمائی

مُنوّر مُنوّر وہ مینار آیا

مسیحائے جاں، ساجد دِلِ گرفتہ

جسے ہے محبت کا آزار آیا