← موضوعات
منقبت
176 کلام
۱جمالِ حسینؓ و حسنؓ یاد آیا۲رنگِ جمال حُسنِ چَمن نُورِ ماہ ہو۳شاہِ کونین کا آستاں مل گیا۴صلِّ علیٰ یہ شانِ نزالی حضورؐ کی۵غموں کا ستایا دِلِ زار آیا۶کاش ایسی بھی اِک سحر آئے۷لب پہ نامِ نبیؐ دِل میں یادِ خُدا۸مِری نظر میں ہے محسنِ بہار صلِّ علیٰ۹نبیؐ کی یاد نے گُلشن کھلا دیئے کیا کیا۱۰جلوۂ زارِ ذاتِ ہو، محمدؐؐ رسُولِ اللہ۱۱بنامِ شاہِ رُسُلؐ ساز اُٹھا محبت کا۱۲دِل ہے تاریک، مِرا روشنی والے خواجہؒ!۱۳درِ شاہؐ پر بندۂ زار آیا۱۴گدائے شہرِ ہُوا شہریار، صلِّ علیٰ۱۵نُورِ جاں، جاں، جہاں، ختمِ رسولاں مددے۱۶حُسنِ عالَم ہیں حق کا نِشاں آپؐ ہیں۱۷شُکرِ ایزدی کا اب پَیام آہی گیا۱۸ثانی نبیؐ کا کوئی نہ کوئی مثیل ہے۱۹نُورِ خُدا ہے مصطفیٰ صلِّ علیٰ محمدؐؐ۲۰غیر کا جب بھی ستم یاد آیا۲۱شاہ کے نام کا جواب نہیں۲۲کیا شان ہے شانِ رسُولِ خُدا سُبحان اللہ سُبحان اللہ۲۳ایک ایک کر کے ہیں نکلے مِرے ارمان بہت۲۴دِل میں خِیالِ سیّدِ لولاک جب رہے۲۵اُن کی یاد اچھی ہے اور اُن کا خِیال اچھا ہے۲۶عالَم کی جان، ذاتِ ستودہ⚠️ دو سرا⚠️ کی ہے۲۷تنہائیوں میں اُن کا کرم دستگیر ہے۲۸مُحیطِ سارے جہاں پر ہے خواجگی⚠️ اُن کی۲۹بُلند عرش بَریں سے ہے آستانِ نبیؐ۳۰رحمت سے رہے دِل کا یہ پیوند ہمیشہ۳۱سمَجھ آیا اُسے رازِ محبت کہرُبائی کا۳۲ساز و آہنگ ہے یا قافیہ پیمائی ہے۳۳وہ نقشِ⚠️ سرُور سے سَرشار ہو گیا۳۴شہرِ طَیَّبہ پہ دِل نثار کریں۳۵رُخِ رسُولؐ سے حق کا سراغ لے کے چلے۳۶ردِّ غم کی یہ نہایت پُر اثر تدبیر ہے۳۷بروزِ حشر ہر سُو خطرۂ⚠️ میرم⚠️ اہم ہو گا۳۸نبیؐ کا نام ہے لاریب چارہ دردِ بیش⚠️ کا۳۹دامَن بھرے گا کب دِلِ پُر اضطرار کا۴۰رات دِن خاموش وہ حیرت سراپا ہو گیا۴۱شُکرِ حق دِل مصطفیٰ کی یاد سے آباد ہے۴۲شاہ کا ذِکر لب پہ جاری ہے۴۳مدینے کے وہ بام و دیوار دیکھیں۴۴چاند میں سُورج کا جلوہ دیکھیے۴۵موجزن جس میں سَمُندر ہے وہ قطرہ دیکھو۴۶نعت ہم محبوبِ عالَم کی سناتے جائیں گے۴۷مشکل ہے سنگلاخ بہت راہ لے خبر۴۸جلوۂ ذات کے وہ پارکھ ہیں۴۹ہر روز بھیجتا جو نبی پر سلام ہے۵۰رُخِ نبی کی جھلک روشنی کی بات کریں۵۱جب باد چلے تند غم و جور و ستم کی۵۲اُسوۂ شاہِ رُسُل کی پِیرَوی ایمان ہے۵۳اِضطِراب و غم اے کوئی نہ فکر و بیم ہے۵۴جس کے دِل میں رحمتہ لِلعالَمین کی یاد ہے۵۵حق اور صداقت کا پَیکر کیسے سے نکل کر آتا ہے۵۶باغِ اُلفت کا جمالِ دلستاں رخصت ہوا۵۷سیّدِ کونین کا عِرفاں تھا جس کو نصیب۵۸ہم پر کھلے درِ لُطف کا اے ربِّ ذاتِ مصطفیٰ ﷺ!۵۹آقا، مولیٰ، ملجا، ماوی اصل اللہ⚠️ علیہ وسلّم۶۰اطہر و احسن محمّد مصطفیٰ ﷺ۶۱دِل پر ہمارے سیّدِ⚠️ شاہ پہ دئیے⚠️ ﷺ چلے۶۲چمکتی شمعِ نبی ﷺ کی جو شاہراہیں ہیں۶۳صورتِ رسُولِ پاک ﷺ کی وہ آفتاب ہے۶۴بیکراں خوشیوں کا اظہار تھا مِعراج کی رات۶۵تذکرہ کیسے ہو اُس کے طالعِ بیدار کا۶۶منّی کو کیا وہ خَذف⚠️ کو گوہر کریں۶۷مژدۂ لُطف و کرم، اے شہِ کونین ﷺ ملے۶۸سر جھکائے انبیا نے آپ کی تعظیم کو۶۹دِل سے جو ہے غلامِ بشیر ﷺ و نذیر ﷺ کا۷۰حرم کے در و بام و مینار دیکھیں۷۱جس کو ہے بخشا گیا عِرفانِ رسُول اللہ ﷺ کا۷۲عبدہٗ، فخرِ بشر، نُورِ مصوّر سمجھیں۷۳شُکرِ خُدا میں حاضِرِ دربار ہو گیا۷۴چاند اور سُورج فِدا اس پَیکرِ اَنوار پر۷۵مدحِ سرکار ﷺ میں جو زمزمہ خواں ہوتا ہے۷۶اِک چشمِ کرم میری طرف سروِ عالَم ﷺ۷۷ذاتِ نبی ﷺ سے ذاتِ کیا حق کی عَیاں نہیں۷۸ہم پہ عُقدہ کھل گیا مِعراج کا۷۹محبوبِ خُدا نُورِ دِل و جاں ہے ہمارا۸۰عزم ہے دِل میں مدینے کا برابر اپنا۸۱خُدا کے دین کا وہ رہنما کہ صلِّ علیٰ۸۲جو ہوا دِل سے فدائے مصطفیٰ۸۳حق نے بخشا ہے شہِ دیں کو خزانۂ غیب کا۸۴فیضِ سُلطاں ہے رواں دِن رات دریا کی طرح۸۵احَد ہے کوہِ عجب مُسَلسَلِ نُور کی شاخ۸۶دیکھا جو مہ پہ شاہ کا حق آسماں پر۸۷شاہِ رُسُل کا کون ہے ہمسر زمیں پر۸۸وہ صورتِ حق نشانِ خُدا احمدِ مُختار۸۹جنّ ہر دم اُنس و قُدسی اُن کے ہیں دربار پر۹۰رَہبَر و جو ہٹ⚠️ گئے ہیں رہ پٹھتن⚠️ سے دُور۹۱رحمتوں کے ہیں خزینے سیّد و سرُور کے پاس۹۲ہے درودوں کا جواب خاص جو بادی کا خط۹۳پہلوئے دِل میں نہیں زِنہَار دُور کی طمع۹۴ہے جتا⚠️ کے برگ میں رنگِ شہادت نِصف نِصف۹۵دِل ہے وہ دِل ہو جس میں رسُولِ خُدا کا عِشق۹۶ذِکرِ نبی ہے جا بجا از خاکِ تا فلَک۹۷فقَط ارض و سما ہی کیا برائے احمدِ مُرسَل۹۸ہادی رَہبَرِ سیّدِ سرُورِ⚠️ مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلّم۹۹با ادب ہوئے حرم انہیں خُوش اطوار قدم۱۰۰یوں جامِ زِندگی میں شہد کا رس گھول لیتے ہیں۱۰۱بسرِ⚠️ حضورؐ کا سر روئے زمیں نہیں۱۰۲آنکھیں جھپکتی⚠️ ہیں ماہِ لقا کی جناب میں۱۰۳جانِبِ شہرِ نبیؐ صلّی علیٰ جاتا ہوں۱۰۴ہم قسم کھاتے ہیں جو عاشقِ سُلطان نہیں۱۰۵با ادب آپؐ سے مہر و مہ و اختر بولیں۱۰۶ملا فیض مسیحائی انہیؐ سے ابنِ مریم کو۱۰۷صلّ علیٰ⚠️ کے جہاں میں گُل و نسترن کی یو۱۰۸شہرِ نبیؐ پہ باغِ معطّر⚠️ کا اشتیاق۱۰۹کیے بیاں ہو شانِ فضیلت بتول کی۱۱۰بُلند تر ہے فلَک سے ہے جا مدینے کی۱۱۱راہِ جنابِ سیّدِ دوراں سے پھر گئے۱۱۲رسُولؐ کی پاک جاں بخشی گناہگاروں کی۱۱۳مرحبا اعلیٰ⚠️ و صلّاؐ شاہِ دیں پیدا ہوئے۱۱۴کیا مہربانیاں ہیں دِلِ شاہِ⚠️ صدقے۱۱۵اگر رحمت ہے مَستی جاں کہاں غم ہے سہارے کا۱۱۶ہیّ دیں کی زیارت کے لئے مُضطَر ہے دم میرا۱۱۷بُرے آقاؐ ! ہے مُدّت سے یہ دِل وقفِ الَم میرا۱۱۸اُن کی چشمِ مِہرباں سے دِل ستارا ہو گیا۱۱۹کاش ہو شاہِ رُسُلؐ کے یہ ہِرا سرِ زیر پا۱۲۰طاق ابرویہ شہر دیں میری محراب بنا۱۲۱یا نبیؐ! میرا عَدُوّ دِل کی تواں لینے لگا۱۲۲ہے خِیالِ شہِؐ دیں راہنمائی کرتا۱۲۳دِل کو شاداب مدینے کی ہوا نے رکھا۱۲۴سنگِ طَیَّبہ سے یہ لعل یعنی خوب نہیں۱۲۵وِلائے مصطفیٰؐ بُس جانے ہمارے دِل کے اُس میں۱۲۶ہے ہجومِ کیف و مَستی شاہِؐ دیوانہ میں۱۲۷یوں کس نے کیا دَہر کو تجویزِؐ⚠️ دکھا دو۱۲۸نبیؐ پر جو ہوا شیدا⚠️ اُسے کیا خوف مُحشر ہو۱۲۹سیدؐ کونین سے ہم کو محبت ہو تو ہو۱۳۰ہم کو ہے اُنس ہر شہر شئے⚠️ خُوش دھن کے ساتھ۱۳۱خونی ہے بے مِثال جو شاہؐ زماں میں ہے۱۳۲روضہ سیدؐ ابرار نظر آتا ہے۱۳۳کریں اللہ کو دِل کو جس کا حسن نیت سے۱۳۴اس قدر روشن ہمارے بخت کا کوکب ہے۱۳۵نبیؐ کی خاک در کے ذرے انجم بنیں نکلی⚠️۱۳۶شاہؐ رُسُلؐ کی یاد دِل میں بسا چکے۱۳۷زِندگانی کا طَرَب خیز مِرا یاد رہے۱۳۸نامِ آپؐ کا عِلاج دِل زار ہو گیا۱۳۹کچھ شوقِ مِرے دِل میں نہیں گوہر و زر کا۱۴۰جب سمیٹا آپؐ جہاں میں آئے درود آشنا۱۴۱نہیں اندیشہ رہن کا نہ رہ کا نہ خرم کا۱۴۲ذِکرِ حق رُخِ روشن وہ بتلا گیا۱۴۳محمدؐؐ محمدؐؐ ہم بے کسوں کے آشنا ٹھہرے۱۴۴محمدؐؐ محمدؐؐ ہم بے کسوں کے آشنا ٹھہرے۱۴۵جو اُن کی خاک در کے ذرے روشن جنہیں نکلی۱۴۶کیوں نہ لپٹیں آپؐ کی دیوار سے۱۴۷در شہرِؐ دیں کا نہ چھوڑیں ہم پہ یہ شیمِر⚠️ ہے۱۴۸محبوبِ خُدا، صاحبِ اِدراک اعلیٰ۱۴۹دُنیا سے سفر کر گئے سیّدِ سرُور۱۵۰دِل مہر علی شاہؒ پہ سُو جاں سے نثار۱۵۱نذرانۂ عقیدت۱۵۲جس کو سیراب کیا تُو نے ، سدا سبز رہا۱۵۳دستِ شہِ دین لُطفِ کا دریا ہے ہمارا۱۵۴حدیثِ مصطفیٰؐ میں ہے مزاِ⚠️ کرحلاوت کا۱۵۵بشر کو مُخلِ عالَم میں چیدہ ہونا تھا۱۵۶قُرآن طبِ آیا، عِرفانِ بہاں⚠️ آیا۱۵۷ہے کہاں عالَم میں ایسا قد رعنا نُور کا۱۵۸عالَمِ ایجاد میں ہر سُو ہے چار نُور کا۱۵۹دفتر حرفِ شجاعت ہے بیابانِ عرب۱۶۰مِری جاں پر بھی مشکل ہے یا غوث!۱۶۱روح اور قلب کے ناظر بھی ہیں عَبد القادرؒ۱۶۲بالا ہے فکر و فہم سے بام حسینؑ پاک۱۶۳درود خواں ہے شب و روز آسمائے فلَک۱۶۴میں شانِ شاہِ رُسُل کروں مِرے منہ میں ایسی زُباں نہیں۱۶۵ادنے غلام شاہِ رِسالت آب ہوں۱۶۶سیّدِ کونین کی ہیں جلوہ پَیکر ایڑیاں۱۶۷رات دِن سوگوار پھرتے ہیں۱۶۸چشمہ رحمت کی موج جاں فِزا کا ساتھ ہو۱۶۹حق عطا کر دے اگر ساغَرِ عِرفاں ہم کو۱۷۰دِل میں ہے شوق اگر، ہبرِ⚠️ نبیؐ کا دیکھو۱۷۱شاہِ حسن کا یہ دیار ہے۱۷۲اُن کے چہرے کی صباحت پر نثار۱۷۳سلسلۂ قادریہ امامیہ۱۷۴ابوالفرح طرطوسی عالی نظر ، روشن گُہر۱۷۵حضرت اسحاق ختلانی⚠️ حسنی کے لیے۱۷۶بجتی ہے ''بزم ذِکرِ خُدا'' ذوق و شوق سے