محرابِ جاں

شاہ کا ذِکر لب پہ جاری ہے

کیا عجب فصلِ نو بہاری ہے

ہے حضوری کا شوق شام و سحر

رات دِن دِل میں بے قراری ہے

ہے زمانے کو یاد شوقِ بلال

ماحصل جس کا جاں نثاری ہے

ہیں حبیبِ خُدا سے ہم منسوب

قِسِمت اچھی بہت ہماری ہے

اس کا چارہ ہے بس درود و سلام

یہ لبوں پر جو آہ و زاری ہے

یا نبیؐ! اِک نظر بنامِ علیٰ⚠️

دِن بہت سخت رات بھاری ہے

بڑھ سکیں پھر اداسیاں ساجدؔ

پھر وہی شغلِ انتظاری⚠️ ہے