محرابِ جاں
1

شاہ کا ذِکر لب پہ جاری ہے

کیا عجب فصلِ نو بہاری ہے

2

ہے حضوری کا شوق شام و سحر

رات دِن دِل میں بے قراری ہے

3

ہے زمانے کو یاد شوقِ بلال

ماحصل جس کا جاں نثاری ہے

4

ہیں حبیبِ خُدا سے ہم منسوب

قِسِمت اچھی بہت ہماری ہے

5

اس کا چارہ ہے بس درود و سلام

یہ لبوں پر جو آہ و زاری ہے

6

یا نبیؐ! اِک نظر بنامِ علیٰ⚠️

دِن بہت سخت رات بھاری ہے

7

بڑھ سکیں پھر اداسیاں ساؔجِد

پھر وہی شغلِ انتظاری⚠️ ہے