← کتابیں
محرابِ جاں
111 کلام
۱ہر ایک ذرّے میں ہے جو نِہاں وہی ہے خُدا۲ریشہ ہے برگِ لالہ کا یا نوکِ خار ہے۳روز و شب رہتا ہے دِل کو مِرے لگا تیرا۴ہو شُکر کیسے ادا لُطفِ کبریائی کا۵ہے مجھے یارب اتنے لُطف و عِنایَت کی اُمید۶سمَجھ آیا اُسے رازِ محبت کہرُبائی کا۷محبت کا کہاں چُھپا نہیں ہے۸ساز و آہنگ ہے یا قافیہ پیمائی ہے۹وہ ذاتِ خُداوند کا مظہرِ اللہ۱۰نظرِ حق ہے میرے دِل کی اکثر جن کے ابرو پر۱۱وجہ سُکوں ہے نامِ نبیؐ اِضطِراب میں۱۲لب پر ہے جب سے نامِ رسُولِ کریم کا۱۳کاش بن جائے کوئی لُطفِ نظر کی صورت۱۴پائے شدؐ⚠️ کے بَین⚠️ سے صَحرا گُلستاں ہو گیا۱۵بے تَصوُّر شدِّ⚠️ مومنین کا مقدّم ایسا۱۶جو محرمِ حقیقت خیرالوریٰ ہوئے⚠️۱۷وہ نقشِ⚠️ سرُور سے سَرشار ہو گیا۱۸شہرِ طَیَّبہ پہ دِل نثار کریں۱۹بزمِ کونین میں ایسا کوئی مہتاب نہیں۲۰قبلۂ جاں رسُولِ اکرم۲۱حُسن کا ذاتِ احَد کے دِل میں جلوہ چاہیے۲۲اہلِ ثروت دنگ ہیں شانِ نُبُوت دیکھ کر۲۳دیدہ⚠️ کو جس کا یہ دِل تھا بے قرار آ ہی گیا۲۴رُخِ رسُولؐ سے حق کا سراغ لے کے چلے۲۵رنگین فیضِ شہِ دین آفتاب ہوا۲۶سنگریزے ہیں بنے لعل و بدخشاں کیا کیا۲۷نبیؐ کے در پہ غم سے کوئی جب بھی جاں بلب آیا۲۸جہانِ دِل مِرا رحمت کے اب حِصار میں ہے۲۹شاہِ رُسل پَیام لے حق کا آ گئے۳۰آرام مِری جاں کو اور دِل کو سُکوں ہے۳۱ردِّ غم کی یہ نہایت پُر اثر تدبیر ہے۳۲بروزِ حشر ہر سُو خطرۂ⚠️ میرم⚠️ اہم ہو گا۳۳چارہ اُن کے در پہ ہے ہر بے سر و ساماں کا۳۴آ گیا ماہِ مُبارَک شاہ کے میلاد کا۳۵نبیؐ کا نام ہے لاریب چارہ دردِ بیش⚠️ کا۳۶آپ میں جلوہ نما جو ہے نظارا نُور کا۳۷دامَن بھرے گا کب دِلِ پُر اضطرار کا۳۸سُلطانِ دو عالَم کا شہے⚠️ نام ملا ہے۳۹دامَن رہا برس کے تر اُن کے سحاب کا۴۰عالَم میں سب ہے روشنی عالی جناب کی۴۱رات دِن خاموش وہ حیرت سراپا ہو گیا۴۲شُکرِ حق دِل مصطفیٰ کی یاد سے آباد ہے۴۳سربسر نُورِ خُدا جاں سجا⚠️ آیا۴۴ہے مِری جاں کا محراب بدلنا مشکل۴۵خُدا کے ساتھ ہے تنہا نہیں ہے۴۶آباد دِل نبیؐ کی محبت سے مر⚠️ نہیں۴۷گُل کی وہ انجمن ہے نہ بزمِ قمر میں ہے۴۸سراپا رحمت رسُولِ خُدا ہے۴۹خوشا نصیب اگر وہ مَقام ہو جائے۵۰جو شَرق و غَرب سے آئے ہیں قافلے سارے۵۱خُدا کی ذات کا مظہر نبیؐ ہے۵۲کہکشاں سے بڑھ کے ہے بَطحا کا ہر رستا مجھے۵۳شُکرِ حق وا کرم کا باب ہوا۵۴بزمِ شے⚠️ میں جو باریاب ہوئے۵۵پَیکر وہ بے مِثال سراپائے نُور ہے۵۶ہجوم اُن کے دِلوں میں ہے خُوشی کا۵۷نبیؐ کے وسیلے سے حق مل گیا ہے۵۸شاہ کا ذِکر لب پہ جاری ہے۵۹اُنہیں دیکھے گر خُدا دیکھنا ہے۶۰مدینے کے وہ بام و دیوار دیکھیں۶۱اُونچا ہے ہر اِک در سے دروازہ نُبُوت کا۶۲عِشق ہوتا ہے جن کے سینے میں۶۳نعت گوئی دِل و روح کا سرمایا ہے۶۴تَسکین ہے جو یادِ نبیؐ کے شُمار میں۶۵چاند میں سُورج کا جلوہ دیکھیے۶۶موجزن جس میں سَمُندر ہے وہ قطرہ دیکھو۶۷اُن کے کوچے کی ہوا یاد آئی۶۸صورتِ دریا رواں نعمت رسُولِ اللہ کی۶۹نعت ہم محبوبِ عالَم کی سناتے جائیں گے۷۰مشکل ہے سنگلاخ بہت راہ لے خبر۷۱رحمتِ عالَم صاحبِ کِبریا۷۲ہم پر عطا دمہر⚠️ سب اُس تاجور کی ہے۷۳ذرّہ خاکِ التیر⚠️ تاباں ہوا۷۴اُن کا عالَم میں کہاں ثانی ہے۷۵جس پہ محبوبِ حق مِہرباں ہو گیا۷۶صبیحِ ربِّ جہاں مظہرِ حقائق ہیں۷۷آئینۂ ماہتاب ہے جن کے جمال کا۷۸مِرا قبلۂ جاں حبیبِ خُدا ہیں۷۹راحَتِ سُکون و مُخری⚠️ اِک آن بھی نہیں۸۰حق کی نظر سے حق کی زیارت نصیب ہو۸۱جلوۂ ذات کے وہ پارکھ ہیں۸۲عرب آپ کا ہے عجم آپ کا۸۳چھایا ہے شَرق و غَرب میں میرے حضور کا۸۴دو عالَم کا دلبر دِل آرا محمّد۸۵روزِ مَحشَر میرا ہر مرحلہ آساں ہو گا۸۶کیوں نہ عالَم ہو اُن کا شیدائی۸۷حق کا محبوب حسین پَیکرِ نورانی ہے۸۸پرتوِ ذاتِ حقیقت ہے سراپا اُن کا۸۹نعمت ہے دو جہاں کی دِیدار آپ کا۹۰شاہ آئینہ ہے قرآں کے سی پاروں کا۹۱دیکھوں گا نُور کب میں رُخِ شہریار کا۹۲ہے ہمہ عرش و فرش پہ عالی جناب کا۹۳کاش مقبول مِری ہو یہ تمنّا آقا۹۴مِری زُباں پہ جب نامِ شاہ کا آیا۹۵ہر روز بھیجتا جو نبی پر سلام ہے۹۶اُن کو خبر ہے میرے دِلِ پُر گُداز کی۹۷گرِ مدینے کا مِری قِسِمت میں آب و دانہ ہے۹۸رُخِ نبی کی جھلک روشنی کی بات کریں۹۹جب باد چلے تند غم و جور و ستم کی۱۰۰جو بجاں و دِل نبی کے در پہ حاضِر ہو گیا۱۰۱نصیبِ تشنۂ لباں اُن کا جام ہو جائے۱۰۲خُدا کی شانِ اَتَم ہے رسُولِ ربِّ کریم۱۰۳اُسوۂ شاہِ رُسُل کی پِیرَوی ایمان ہے۱۰۴اِضطِراب و غم اے کوئی نہ فکر و بیم ہے۱۰۵خُدا کی ذات کا وہ جلوۂ مِثال ملے۱۰۶جس کے دِل میں رحمتہ لِلعالَمین کی یاد ہے۱۰۷وہ جب خِیال میں صاحبِ کمال آتا ہے۱۰۸حق اور صداقت کا پَیکر کیسے سے نکل کر آتا ہے۱۰۹باغِ اُلفت کا جمالِ دلستاں رخصت ہوا۱۱۰سیّدِ کونین کا عِرفاں تھا جس کو نصیب۱۱۱نہ کوئی بعد نہ دُوری ہے ذی وقار کمال!