محرابِ جاں
1

تَسکین ہے جو یادِ نبیؐ کے شُمار میں

ہرگِز نہیں نِشاط وہ فصلِ بہار میں

2

کیسے کریں گے اُن کی عِنایات کا حِساب

اُن کی نوازشیں نہیں آئیں شُمار میں

3

ہیں جمع اُس چَمن میں بہاریں جہاں کی

سب آ گئی سمٹ کے خُوشی اُس دیار میں

4

اُن کا خِیال اُن کا تَصوُّر انیسِ جاں

شامِل ہے اُن کا لُطف سُکون و قرار میں

5

وہ ایک آن میں کریں مٹّی بھی کیمیا

آ جائے جب خِیالِ شہِ نامدار میں

6

آتے ہیں وہ مدد کو تائیدِ کردگار

جو بھی پکارتا ہے اُنہیں اضطرار میں

7

ساؔجِد ہے بے مِثال خُدا کا حبیبِ پاک

وہ جا منتخب ہے خلقتِ پروَردِگار میں