← محرابِ جاں
1
نعت گوئی دِل و روح کا سرمایا ہے
حق کے اَلطاف کا سر پہ مِرے سایا ہے
2
تاج ہے ختمِ نُبُوت کا نبیؐ کے سر پر
حق نے جلوؤں کا لباس آپ کو پہنایا ہے
3
یادِ محبوبِ خُدا بن کے تسلّی آئی
فرطِ آلام سے دِل جب مِرا گھبرایا ہے
4
دفعتاً مجھ پہ نَوازِش کا کھلا تھا جب باب
زِندگی بھر وہ کرم یاد بہت آیا ہے
5
میری اُس غم پہ فِدا عمر کی ساری خُوشیاں
میں نے جو اُن تھی خُوشی کے لیے غم کھایا ہے
6
جو عطا بھی کو ہوا ہے وہ ہوا ہے حق سے
میں نے جو پایا ہے سرکار سے وہ پایا ہے
7
مُشکلیں ہو گئیں حل میری سراسر ساؔجِد
کرم مجھ پر مِرے شاہ نے فرمایا ہے