محرابِ جاں

نعت گوئی دِل و روح کا سرمایا ہے

حق کے اَلطاف کا سر پہ مِرے سایا ہے

تاج ہے ختمِ نُبُوت کا نبیؐ کے سر پر

حق نے جلوؤں کا لباس آپ کو پہنایا ہے

یادِ محبوبِ خُدا بن کے تسلّی آئی

فرطِ آلام سے دِل جب مِرا گھبرایا ہے

دفعتاً مجھ پہ نَوازِش کا کھلا تھا جب باب

زِندگی بھر وہ کرم یاد بہت آیا ہے

میری اُس غم پہ فِدا عمر کی ساری خُوشیاں

میں نے جو اُن تھی خُوشی کے لیے غم کھایا ہے

جو عطا بھی کو ہوا ہے وہ ہوا ہے حق سے

میں نے جو پایا ہے سرکار سے وہ پایا ہے

مُشکلیں ہو گئیں حل میری سراسر ساجدؔ

کرم مجھ پر مِرے شاہ نے فرمایا ہے