محرابِ جاں

عِشق ہوتا ہے جن کے سینے میں

وہ ہیں آنکھوں مہر⚠️ مدینے میں

ہے لفظوں⚠️ میں آج تک خُوشبو

وہ جو تھی آپ کے پسینے میں

پیکراں بحر کا ہے آپ دلال

جانِ عالَم⚠️ کے آئینے میں

دسترسِ رحمت میں کیا نہیں اُن کے

کیا نہیں آپ کے خزینے میں

موج و گرداب کا اُنہیں کیا ڈر

بیٹھے اُن کے ہیں جو سفینے میں

رحمتیں بے حِساب نبیؐ کی ہیں

اُن کے میلاد کے مہینے میں

سارا اُن کا کمال ہے ساجدؔ

ہے بھنور⚠️ خاک مجھ کمینے میں