← محرابِ جاں
1
اُونچا ہے ہر اِک در سے دروازہ نُبُوت کا
آفاق میں گونجا ہے آوازہ نُبُوت کا
2
قائم ہے نظام اس کا اللہ کی قدرت سے
مضبوط نہایت ہے شیرازہ نُبُوت کا
3
سرسبز سدا شاخیں شاداب سدا سمجھے⚠️
ہر فصل میں یہ گُلشن ہے تازہ نُبُوت کا
4
ہے ذات کے جَلوے سے حیران جہاں سارا
کیا کوئی لگائے گا اندازہ نُبُوت کا
5
دِل والے سمجھتے ہیں اُلفت کی زُباں شیریں
خُوش بخت ہی سنتے ہیں آوازہ نُبُوت کا
6
اللہ کرے ساؔجِد عمر اس پہ کٹے ساری
ہو پیشِ نظر دائم دروازہ نُبُوت کا