← محرابِ جاں
1
لب پر ہے جب سے نامِ رسُولِ کریم کا
کٹکا⚠️ نہیں ہے مجھ کو عذابِ جحیم کا
2
دِل میں ہو جب نبیؐ کا تَصوُّر بپا ہوا
کس کو خِیال آئے ریاضِ نعیم کا
3
اُتِرا خزاں کی رُت میں جو خُوشبو کا قافلہ
چھوٹکا⚠️ ہے یہ مدینے کی یادِ نسیم کا
4
اُن کے پردے⚠️ ہیں مِرے سارے معاملے
القصّہ ختم قصّہ ہوا خوف و بیم کا
5
شاہ و گَدا عام ہے رحمتِ حضور کی
چھایا ہے ابر چار سُو لُطفِ عمیم کا
6
رُوئے نبیؐ کی روشنی ہے گُل جہاں میں
جلوہ ہے شَرق و غَرب میں نُورِ قدیم کا
7
ساؔجِد درِ رسُولؐ پہ بنتی⚠️ ہیں نعمتیں
پہنچا ہوں میں بھی شُکر ہے ربِّ عظیم کا