محرابِ جاں

وجہ سُکوں ہے نامِ نبیؐ اِضطِراب میں

میرا ہے یہ وسیلہ خُدا کی جناب میں

یہ اُن کے حُسن اُن کی تخلیق کا فیض ہے

جو بھی جمال اور ہے خُوشبو گلاب میں

اُن کا کرم تمام ہے رحمتِ کریم کی

اُن کا کرم نہیں ہے شُمار و حِساب میں

عاشق ہے جس کے حُسن پر تِری جلیلِ ذات

یارب! دکھا دے صورتِ زیبا وہ خواب میں

ہے اُن کے رُوئے پاک کی بے مِثل دِل کشی

خوبی وہ آفتاب میں نہ ماہتاب میں

محوِ بیان آج تک اُس کا ہے محلِ⚠️ جہاں

حق نے نبیؐ کی نعت لکھی ہے کتاب میں

ساجدؔ نِگاہ سے مِری اُٹھے گا کب حِجاب

رہتا ہوں میں مُدام اسی پیچ و تاب میں