محرابِ جاں
1

وجہ سُکوں ہے نامِ نبیؐ اِضطِراب میں

میرا ہے یہ وسیلہ خُدا کی جناب میں

2

یہ اُن کے حُسن اُن کی تخلیق کا فیض ہے

جو بھی جمال اور ہے خُوشبو گلاب میں

3

اُن کا کرم تمام ہے رحمتِ کریم کی

اُن کا کرم نہیں ہے شُمار و حِساب میں

4

عاشق ہے جس کے حُسن پر تِری جلیلِ ذات

یارب! دکھا دے صورتِ زیبا وہ خواب میں

5

ہے اُن کے رُوئے پاک کی بے مِثل دِل کشی

خوبی وہ آفتاب میں نہ ماہتاب میں

6

محوِ بیان آج تک اُس کا ہے محلِ⚠️ جہاں

حق نے نبیؐ کی نعت لکھی ہے کتاب میں

7

ساؔجِد نِگاہ سے مِری اُٹھے گا کب حِجاب

رہتا ہوں میں مُدام اسی پیچ و تاب میں