محرابِ جاں
1

نظرِ حق ہے میرے دِل کی اکثر جن کے ابرو پر

ہیں میرے دین اور ایمان فِدا اُس شاہ کے آبرو پر

2

گُل و ریحان ہوائے کوئے طَیَّبہ پر ہوئے شیدا

فضائے رنگ و بو ہے مست و بیخود اُن کی خُوشبو پر

3

خنک سایہ ہے میرے سر پر اُن کے دستِ رحمت کا

نہیں زِنہَار ٹکیے⚠️ مجھ کو اپنے دست و بازو پر

4

خوشا ہے اُن کے در پر معتکف دِن رات جاں مِری

ہوا ہے شِیفتہ جب سے یہ دِل سُلطانِ خوشرو پر

5

کروں قُربان میں رشحاتِ ابرِ موسمِ خنداں

گرا جو یاد میں اُن کی ہے ایسے ایک آنسو پر

6

اُنہیں کہہ دے کوئی در سے نبیؐ کے خیر بھی مانگیں

لگائے آس جو بیٹھے ہوئے ہیں محض دارو⚠️ پر

7

محبت ہے نبیؐ کی اصل ایمان اصل میں ساؔجِد

نہیں ہے انحصار وَصلِ حق اس شورِ⚠️ حق ہو⚠️ پر