← محرابِ جاں
نظرِ حق ہے میرے دِل کی اکثر جن کے ابرو پر
ہیں میرے دین اور ایمان فِدا اُس شاہ کے آبرو پر
گُل و ریحان ہوائے کوئے طَیَّبہ پر ہوئے شیدا
فضائے رنگ و بو ہے مست و بیخود اُن کی خُوشبو پر
خنک سایہ ہے میرے سر پر اُن کے دستِ رحمت کا
نہیں زِنہَار ٹکیے⚠️ مجھ کو اپنے دست و بازو پر
خوشا ہے اُن کے در پر معتکف دِن رات جاں مِری
ہوا ہے شِیفتہ جب سے یہ دِل سُلطانِ خوشرو پر
کروں قُربان میں رشحاتِ ابرِ موسمِ خنداں
گرا جو یاد میں اُن کی ہے ایسے ایک آنسو پر
اُنہیں کہہ دے کوئی در سے نبیؐ کے خیر بھی مانگیں
لگائے آس جو بیٹھے ہوئے ہیں محض دارو⚠️ پر
محبت ہے نبیؐ کی اصل ایمان اصل میں ساجدؔ
نہیں ہے انحصار وَصلِ حق اس شورِ⚠️ حق ہو⚠️ پر