محرابِ جاں

حق کا محبوب حسین پَیکرِ نورانی ہے

میرا ایماں میرا دین اُن کی ثناخوانی ہے

اہلِ باطِل کا مقدّر ہے ہلاکت آخر

لاؤِ لشکر کے لیے نیل کی طغیانی ہے

ہے تحیّات کا فیضاں پہ مَستی و سرُور

ہم کو تشویش کوئی ہے نہ پریشانی ہے

بارشیں رحمتِ حق کی ہیں وفاداروں پر

اُن کی تقدیر میں کب بے سروسامانی ہے

جو ہے نبیوں کا نبی حاملِ قُرآنِ حکیم

آخری سب سے وہ پیغمبر لاثانی ہے

بہ نظر ربِّ محمّد پہ مِری شام و سحر

اُن سے یہ ربط مِرا میری مسلمانی ہے

ختم ہوتی ہی نہیں ہیں مِرے دِل کی باتیں

داستاں ساجدؔ غمگیں کی طولانی ہے