محرابِ جاں
1

حق کا محبوب حسین پَیکرِ نورانی ہے

میرا ایماں میرا دین اُن کی ثناخوانی ہے

2

اہلِ باطِل کا مقدّر ہے ہلاکت آخر

لاؤِ لشکر کے لیے نیل کی طغیانی ہے

3

ہے تحیّات کا فیضاں پہ مَستی و سرُور

ہم کو تشویش کوئی ہے نہ پریشانی ہے

4

بارشیں رحمتِ حق کی ہیں وفاداروں پر

اُن کی تقدیر میں کب بے سروسامانی ہے

5

جو ہے نبیوں کا نبی حاملِ قُرآنِ حکیم

آخری سب سے وہ پیغمبر لاثانی ہے

6

بہ نظر ربِّ محمّد پہ مِری شام و سحر

اُن سے یہ ربط مِرا میری مسلمانی ہے

7

ختم ہوتی ہی نہیں ہیں مِرے دِل کی باتیں

داستاں ساؔجِد غمگیں کی طولانی ہے