محرابِ جاں

پرتوِ ذاتِ حقیقت ہے سراپا اُن کا

راستا خاص ہے اللہ کا راستا اُن کا

ہے مُحیط اُن کا کرم سارے جہاں پر لاریب

سارے عالَم پہ ہے چھایا ہوا سایا اُن کا

دِلِ پژمردہ وہاں پھول کی طرح کھلتا ہے

لُطف و نگہیں⚠️ کا ہے گہوارہ مدینہ اُن کا

لازمی ہاتھ خُدا کا ہے ستونِ دیں کا

حق تعالیٰ کی ہے رؤیت یہ نظارہ اُن کا

پھر سے جی اُلفتا⚠️ ہے دِل ذِکرِ رسُولِ حق سے

ہم نشیں! مجھ کو سنا قصّۂ خُدا را اُن کا

اُس سے بڑھ کر نہیں ہے کوئی زمانے میں مخفی⚠️

جو بھی ہوتا ہے نَوازا ہوا بندہ اُن کا

دِل میں تو اُلفتِ سلطینِ بلا لے ساجدؔ

جہاں اُن کا خُدا اُن کا ہے آقا اُن کا