← محرابِ جاں
1
پرتوِ ذاتِ حقیقت ہے سراپا اُن کا
راستا خاص ہے اللہ کا راستا اُن کا
2
ہے مُحیط اُن کا کرم سارے جہاں پر لاریب
سارے عالَم پہ ہے چھایا ہوا سایا اُن کا
3
دِلِ پژمردہ وہاں پھول کی طرح کھلتا ہے
لُطف و نگہیں⚠️ کا ہے گہوارہ مدینہ اُن کا
4
لازمی ہاتھ خُدا کا ہے ستونِ دیں کا
حق تعالیٰ کی ہے رؤیت یہ نظارہ اُن کا
5
پھر سے جی اُلفتا⚠️ ہے دِل ذِکرِ رسُولِ حق سے
ہم نشیں! مجھ کو سنا قصّۂ خُدا را اُن کا
6
اُس سے بڑھ کر نہیں ہے کوئی زمانے میں مخفی⚠️
جو بھی ہوتا ہے نَوازا ہوا بندہ اُن کا
7
دِل میں تو اُلفتِ سلطینِ بلا لے ساؔجِد
جہاں اُن کا خُدا اُن کا ہے آقا اُن کا