محرابِ جاں
1

نعمت ہے دو جہاں کی دِیدار آپ کا

نُورِ خُدا ہے حُسنِ نگار آپ کا⚠️

2

پڑ جائیں مانند دُھوپ کی جاں سوز شدّتیں

قِسِمت میں گر ہو سایۂ دیوار آپ کا

3

سارے جہاں کی تازگی اس میں جا گئی⚠️

بلا سدا بہار ہے گُلزار آپ کا

4

شو بار جس سے آگہی کی شمعِ دِل فروز

سینہ ہے وہ خزینۂ آسرار آپ کا

5

اللہ نے سجائی ہے برکات کی دکاں

دِن رات پُر بجھم⚠️ ہے بازار آپ کا

6

دستِ کرم نے بھر دیے دامَن تھی جو تھے⚠️

برسا ہے خوب ابرِ گہربار آپ کا

7

ساؔجِد یہ خُدا رہے اِن گیسوؤں کی چھاؤں

پیشِ نظر ہو جلوۂ رخسار آپ کا