محرابِ جاں
1

شاہ آئینہ ہے قرآں کے سی پاروں کا

نُور ہے مظہرِ حق آپ کے رخساروں کا

2

بخشتے⚠️ خوبی ہے دِل حاشیہ برداروں کا

جنّت ہوتا ہے ٹھکانا⚠️ اُن کے طلب گاروں کا

3

آپ کے در پہ بھرے جاتے ہیں داماں تھی⚠️

اور پلٹا ہی نہیں کوئی تہی گاروں کا

4

کون احوال کی پرسش مِرے یوں کرتا ہے

کب ہے یوں بار اُٹھاتا کوئی ناداروں کا

5

اُن کی اِمداد کو آئیں گے سرِ مَحشَر بھی

حال جب سخت بُرا ہو گا یہ کاروں کا

6

زِندگیِ خُلد کی حاصل ہو مجھے دُنیا میں

سایہ مل جائے اگر شاہ کی دیواروں کا

7

میرے سرکار کا ہے ذِکر مُداوا ساؔجِد

عالَمِ کون و مَکاں کے سبھی آزاروں کا