← محرابِ جاں
1
دیکھوں گا نُور کب میں رُخِ شہریار کا
دِل سے پٹے گا کب مِرے غمِ انتظار کا
2
چھیڑے بھی ذِکر کوئی سُکون و قرار کا
غمِ رسُولِ پاک کے لیل و نہار کا
3
ہوتا ہے زادِ راہ بَہَم ایک آن میں
ہوتا ہے جب کرم شمعِ والا تبار کا
4
لیتے ہیں آپ میری خبر اِضطِراب میں
کرتے ہیں وہ عِلاج مِرے حالِ زار کا
5
اِک اِک رہنوار⚠️ کی تصویرِ یاد ہے
نقشہ بسا ہے دِل میں نبی کے دیار کا
6
لے جائے گا حضور کی خِدمت میں ایک دِن
مجھ کو ضرور کریے⚠️ ذرا بار بار کا
7
مِرے حضور! آپ ہی ساؔجِد کے ہیں اُنیس
ہے اور کون آپ کے اس جاں نثار کا