← محرابِ جاں
1
ہے ہمہ عرش و فرش پہ عالی جناب کا
اللہ کے حبیبِ رِسالت مآب کا
2
پھر سے وہ برقِ سوختۂ گُلشن لب اُٹھا⚠️
چھینا پڑا جو اُن کے کرم کے حِساب کا
3
وہی خُدا کی شرح میں اُن کی زِندگی
خَلقِ اُن کا تَرجُماں ہے اُمّ الکتاب کا
4
یاد اُن کی دو جہاں کے آلام کا عِلاج
چارہ ہے ذِکرِ شاہ غم و اِضطِراب کا
5
رنجش رسُولِ پاک کی حق کا عذاب ہے
ناری ہے جو حرف بنا اُن کے عتاب کا
6
کرتا ہوں کارِ خیر بتوفیقِ کردگار
میں کیوں صلہ طلب کروں کارِ ثواب کا
7
ساؔجِد بہ نُورِ دیدہ رُخِ ماہ و نیشیں⚠️
جلوہ جو دیکھنا ہے تجھے آفتاب کا