← محرابِ جاں
ہے ہمہ عرش و فرش پہ عالی جناب کا
اللہ کے حبیبِ رِسالت مآب کا
پھر سے وہ برقِ سوختۂ گُلشن لب اُٹھا⚠️
چھینا پڑا جو اُن کے کرم کے حِساب کا
وہی خُدا کی شرح میں اُن کی زِندگی
خَلقِ اُن کا تَرجُماں ہے اُمّ الکتاب کا
یاد اُن کی دو جہاں کے آلام کا عِلاج
چارہ ہے ذِکرِ شاہ غم و اِضطِراب کا
رنجش رسُولِ پاک کی حق کا عذاب ہے
ناری ہے جو حرف بنا اُن کے عتاب کا
کرتا ہوں کارِ خیر بتوفیقِ کردگار
میں کیوں صلہ طلب کروں کارِ ثواب کا
ساجدؔ بہ نُورِ دیدہ رُخِ ماہ و نیشیں⚠️
جلوہ جو دیکھنا ہے تجھے آفتاب کا