← محرابِ جاں
1
کاش مقبول مِری ہو یہ تمنّا آقا
ہر برس اِذنِ حضوری ہو خدارا آقا
2
کیا بگاڑیں گے مِرے دِل کا یہ آلامِ جہاں
آپ لاریب ہیں جب میرے سخیّا⚠️ آقا
3
عام ہے قتلِ کسود⚠️ میں مسلمانوں کا
اِک قِیامت ہے دِل و جاں میں برپا آقا
4
ہر گِرہ دِل کی کھلے فاطمہ زہرا کے طفیل
دیدۂ جاں پہ ہوں آسرار ہویدا آقا
5
بار ور آپ سے ہے کشفِ تمنّائے وجود
رحمتِ حق کا رواں آپ ہیں دریا آقا
6
آپ کے سب یہ کمالات کے آئینے ہیں
حُسنِ یوسف دمِ عیسیٰ یدِ بیضا آقا
7
کب زیارت کا شرف ہو گا عطا ساؔجِد کو
اس دِلِ زار کا کب ہو گا مُداوا آقا