← محرابِ جاں
کاش مقبول مِری ہو یہ تمنّا آقا
ہر برس اذنِ حضوری ہو خدارا آقا
کیا بگاڑیں گے مِرے دِل کا یہ آلامِ جہاں
آپ لاریب ہیں جب میرے سخیّا⚠️ آقا
عام ہے قتلِ کسود⚠️ میں مسلمانوں کا
اِک قِیامت ہے دِل و جاں میں برپا آقا
ہر گِرہ دِل کی کھلے فاطمہ زہرا کے طفیل
دیدۂ جاں پہ ہوں آسرار ہویدا آقا
بار ور آپ سے ہے کشفِ تمنّائے وجود
رحمتِ حق کا رواں آپ ہیں دریا آقا
آپ کے سب یہ کمالات کے آئینے ہیں
حُسنِ یوسف دمِ عیسیٰ یدِ بیضا آقا
کب زیارت کا شرف ہو گا عطا ساجدؔ کو
اس دِلِ زار کا کب ہو گا مُداوا آقا