← محرابِ جاں
مِری زُباں پہ جب نامِ شاہ کا آیا
دِلِ حَزیں کو خُوشی کا عجب مزا آیا
عوض میں اُس کی میں مانگوں گا خاکِ درِ اُن کی
مِرے نصیب میں گر علمِ کیمیا آیا
اُفق سے تا بہ اُفق بام و در ہوئے روشن
رسُول بن کے غمِ دَہر کی دوا آیا
بہت ہی کرب زدہ منزلیں⚠️ تھی جہاں
عِلاجِ درد لیے درد آشنا آیا
سمَجھ میں آہی گیا قول مِن رَّانی⚠️ کا
جہاں میں صاف نظر جلوۂ خُدا آیا
گُل و شجر میں مد و مہر میں ہے نُور اُن کا
اُنہی کا حُسن نِگاہوں میں جا بجا آیا
خطا معاف ہو ساجدؔ کی یا رسُول اللہ!
غلام آپ کا لے کر یہ مُدّعا آیا