← محرابِ جاں
1
مِری زُباں پہ جب نامِ شاہ کا آیا
دِلِ حَزیں کو خُوشی کا عجب مزا آیا
2
عوض میں اُس کی میں مانگوں گا خاکِ درِ اُن کی
مِرے نصیب میں گر علمِ کیمیا آیا
3
اُفق سے تا بہ اُفق بام و در ہوئے روشن
رسُول بن کے غمِ دَہر کی دوا آیا
4
بہت ہی کرب زدہ منزلیں⚠️ تھی جہاں
عِلاجِ درد لیے درد آشنا آیا
5
سمَجھ میں آہی گیا قول مِن رَّانی⚠️ کا
جہاں میں صاف نظر جلوۂ خُدا آیا
6
گُل و شجر میں مد و مہر میں ہے نُور اُن کا
اُنہی کا حُسن نِگاہوں میں جا بجا آیا
7
خطا معاف ہو ساؔجِد کی یا رسُول اللہ!
غلام آپ کا لے کر یہ مُدّعا آیا