محرابِ جاں
1

نعت ہم محبوبِ عالَم کی سناتے جائیں گے

بزمِ میلادِ نبیؐ گھر گھر سجاتے جائیں گے

2

مرحبا جائیں گے جس جانِب غلامانِ نبیؐ

رحمتِ باری کے وہ دریا بہاتے جائیں گے

3

کیف آ گئیں شہر کی شامیں بسیں⚠️ کی روح میں

اور سویرے جاں فِزا دِل میں سماتے جائیں گے

4

اے خوشا جھونکے ہوائے رہگزارِ شاہ کے

بند غنچے آرزوؤں کے کھلاتے جائیں گے

5

آئیں گے جس راستے سے اُن کی یادیں اور خِیال

جان اور دِل کے گلی کوچے بساتے جائیں گے

6

تَذکِرے اُن کے جمال و حسن کے ہے ساختہ⚠️

نقشِ دِل پر اُن کی اُلفت کا جماتے جائیں گے

7

آج ہم ساؔجِد کریں گے نعت خوانی رات بھر

جام پر جامِ مِدحت کا لٹاتے جائیں گے