محرابِ جاں

مشکل ہے سنگلاخ بہت راہ لے خبر

تنہا ہوں بے نَوا ہوں میں اے شاہ! لے خبر

ذاتِ خُدا کے آپ ہی مظہر ہیں یا نبیؐ!

منزِل مِری ہے آپ کی درگاہ لے خبر

نعمت عطا کریں مجھے بھی شرحِ صدر کی

آسرار سے ہو دِل مِرا آگاہ لے خبر

کب دور ہوں گے حَسرت و حِرماں و رنج و غم

شام و سحر ہے لب پہ مِرے آہ لے خبر

پَیکرِ تمام حسن کا محبوبِ کائنات

مظہرِ جمالِ ذات کا اے ماہ! لے خبر

ہے جاں مِری صدمۂ ہجراں سے بے قرار

پیوست دِل میں ہے غمِ جانگاہ لے خبر

ساجدؔ کا اور مُونِس و غمخوار کون ہے

میرے انیس جان و دِل اللہ لے خبر