محرابِ جاں

رحمتِ عالَم

مقطع ↓
1

رحمتِ عالَم صاحبِ کِبریا

دافعِ رنج و الَم غم و کرب و بلا

2

سرودِ دیں⚠️ رَہبَر راہِ ہدیٰ

ابتدا عالَم کی ہے اور انتہا

3

بن کیا جنّت وہ صَحرا و دشت کا

بچا کیا جس پہ کبھی کا بھورا⚠️

4

جس نے کی اُن سے محبت ہو گیا

وہ زمانے کا بلالِ دربا⚠️

5

اُن کا ذاکر وقت کا عارِف ہوا

ہر غلام اُن کا ہوا حق آشنا

6

چہرہ اُن کا آئنہ ہے حق نما

چھوڑ کر اُن کو نہیں ملتا خُدا

7

خَلق سے ساؔجِد جُدا کب حق ہوا

مِرے⚠️ ہیں ہیں سمَجھ دونوں جُدا