محرابِ جاں

رحمتِ عالَم

مقطع ↓

رحمتِ عالَم صاحبِ کِبریا

دافعِ رنج و الَم غم و کرب و بلا

سرودِ دیں⚠️ رَہبَر راہِ ہدیٰ

ابتدا عالَم کی ہے اور انتہا

بن کیا جنّت وہ صَحرا و دشت کا

بچا کیا جس پہ کبھی کا بھورا⚠️

جس نے کی اُن سے محبت ہو گیا

وہ زمانے کا بلالِ دربا⚠️

اُن کا ذاکر وقت کا عارِف ہوا

ہر غلام اُن کا ہوا حق آشنا

چہرہ اُن کا آئنہ ہے حق نما

چھوڑ کر اُن کو نہیں ملتا خُدا

خَلق سے ساجدؔ جُدا کب حق ہوا

مِرے⚠️ ہیں ہیں سمَجھ دونوں جُدا