← محرابِ جاں
1
ہم پر عطا دمہر⚠️ سب اُس تاجور کی ہے
تاثیرِ جان و دِل میں یہ لُطفِ نظر کی ہے
2
دِل میں خِیالِ مُصطفٰؐے شام و سحر ہے اب
ساری یہ دِل میں سرخوشی عزمِ سفر کی ہے
3
برسوں سے دِل میں شوق ہے دِیدارِ شاہ کا
سر میں مِرے اِک آرزو اُس تنگِ⚠️ در کی ہے
4
ذِکر اُن کا اِک گھڑی کا ماجرا نہیں
آنکھوں بھر کی بات یہ اُس نامور کی ہے
5
سرِ قول اعمل میں ہے نامِ مُصطفٰؐے
ساری دُعا میں بات دعائے اثر کی ہے
6
پرتو ہے اُن کی صورتِ جلوہ طراز کا
رنگت جو آتی لپٹیں⚠️ رُوئے سحر کی ہے
7
ساؔجِد یہ لُطفِ خاص ہے ربِّ جہاں کا
رحمت جو شَرق و غَرب میں پیغمبر کی ہے