← محرابِ جاں
صورتِ دریا رواں نعمت رسُولِ اللہ کی
عام ہے آفاق پر رحمت رسُولِ اللہ کی
ہے غلامانِ نبیؐ کی شان عالَم میں بھلا⚠️
ہے جہاں میں فتحِ اُمّتِ رسُولِ اللہ کی
ہیں سلامی کو کھڑے وہاں اور انبیا
اللہ اللہ شان اور شوکت رسُولِ اللہ کی
بٹ رہا ہے اُن کا فیضانِ کرم شام و سحر
ختم ہوتی ہی نہیں دولت رسُولِ اللہ کی
انبیا پر ہے شرف اُن کا نمایاں منکشف
انبیا کرتے ہیں سب عِزّت رسُولِ اللہ کی
درگزر کرنا چھپانا دوسروں کے عیب کو
ہے خطا کو بخشنا عادت رسُولِ اللہ کی
رات دِن ساجدؔ کے ہونٹوں پر ہے یہ حرفِ دُعا
اے خُدا! کر دے عطا اُلفت رسُولِ اللہ کی