محرابِ جاں
1

جو محرمِ حقیقت خیرالوریٰ ہوئے⚠️

لاریب خُوش نصیب وہ حق آشنا ہوا

2

محبوبِ کردگار حقیقت نما ہوا

کوئی کہاں مِثالِ شہِ⚠️ دوسرا ہوا

3

سب کچھ خُدا سے شاہِ رُسل کو عطا ہوا

ہے اپنے پاس سب یہ نبیؐ کا دیا ہوا

4

اُن کے عَدُوّ کا حال بہت ہی بُرا ہوا

اُٹھتا نہیں ہے اُن کی نظر سے گرا ہوا

5

اُن سا جہاں میں اور کہاں دوسرا ہوا

مظہر یہ اعظم اللہ کا ہوا⚠️

6

پردہ تھا لامَکاں میں ہر اِک اُٹھا ہوا

دِیدار کا یہ حوصلہ اُن کا عطا ہوا

7

ساؔجِد ہے مجھ پر خاص کرم یہ حضور کا

روشن ہوا ہے پھر ہے دیا یہ بجھا ہوا