محرابِ جاں
1

بے تَصوُّر شدِّ⚠️ مومنین کا مقدّم ایسا

بے خبر جاں ہوئی دِل ہوا ہم تم⚠️ ایسا

2

حق کے محبوب کے ہونٹوں کی وہ دِلکش جنبش

عالَم نے نہیں دیکھا تبسّم ایسا

3

اُن کی رافت سا خنک سایہ کوئی اور نہیں

زمزمِ لُطف ساں اُن کے ہے کہاں شبنم⚠️ ایسا

4

شش جہت میں میں فقَط ایک ہی جلوہ دیکھوں

بھول جائے مجھے اے کاش یہ "ہم تم" ایسا

5

دیکھیں حیرت سے مجھے روشن و تاباں چہرے

میری تقدیر کا روشن ہو یہ انجم ایسا

6

نہ رہے پیشِ نظر کوئی تعیّن کا حِجاب

موجزن دِل میں ہو مَستی کا تلاطم⚠️ ایسا

7

ہے خُودی میں یہ مِری زِندگی گزرے ہے⚠️ ساؔجِد

بھر دے دامانِ طلب چشمِ ترحّم ایسا⚠️