محرابِ جاں
1

پائے شدؐ⚠️ کے بَین⚠️ سے صَحرا گُلستاں ہو گیا

ذرّہ اُن کی رنگبر⚠️ کا نجمِ تاباں ہو گیا

2

رخنۂ⚠️ دِل اُن کی کرمفرمائی سے ہے مندمل⚠️

لُطف سے اُن کے رفو چاکِ گریباں ہو گیا

3

دیدۂ مہر و عِنایَت جب ادھر مائل ہوا

بے سر و ساماں کے بھی جینے کا ساماں ہو گیا

4

مور بے مایہ کی صورت حیثیت جس کی تھی گُل⚠️

آج اُن کی مہربانی سے سلیمان ہو گیا

5

شُکرِ حق افسونِ غم ٹوٹا بلیطان⚠️ درود

خاطِرِ مُضطَر⚠️ کی پیاری کا دَرماں ہو گیا

6

جو بِیاباں تھا وہ اُن کے فیض سے گُلشن بنا

دردِ ہجراں سے جو دِل گریاں تھا خنداں ہو گیا

7

ہے یہ ساؔجِد مصطفٰےؐ کا خاص فیضانِ کرم

اس مِرے تاریک گھر میں بھی چراغاں ہو گیا