محرابِ جاں

پائے شدؐ⚠️ کے بَین⚠️ سے صَحرا گُلستاں ہو گیا

ذرّہ اُن کی رنگبر⚠️ کا نجمِ تاباں ہو گیا

رخنۂ⚠️ دِل اُن کی کرمفرمائی سے ہے مندمل⚠️

لُطف سے اُن کے رفو چاکِ گریباں ہو گیا

دیدۂ مہر و عِنایَت جب ادھر مائل ہوا

بے سر و ساماں کے بھی جینے کا ساماں ہو گیا

مور بے مایہ کی صورت حیثیت جس کی تھی گُل⚠️

آج اُن کی مہربانی سے سلیمان ہو گیا

شُکرِ حق افسونِ غم ٹوٹا بلیطان⚠️ درود

خاطِرِ مُضطَر⚠️ کی پیاری کا دَرماں ہو گیا

جو بِیاباں تھا وہ اُن کے فیض سے گُلشن بنا

دردِ ہجراں سے جو دِل گریاں تھا خنداں ہو گیا

ہے یہ ساجدؔ مصطفیٰؐ کا خاص فیضانِ کرم

اس مِرے تاریک گھر میں بھی چراغاں ہو گیا