محرابِ جاں
1

رات دِن خاموش وہ حیرت سراپا ہو گیا

جس کو عِرفانِ حقیقتِ مُصطفٰؐے کا ہو گیا

2

لِپٹا پائے شاہ سے تھا صورتِ ذرّہ بلال

مہر کے جلوؤں کی صورت اس کا چرخ⚠️ پا ہو گیا

3

یا نبیؐ! اپنے نوالوں⚠️ کے تصدّق اِک نظر

جان و دِل میں فرطِ غم سے حشر برپا ہو گیا

4

سبز گُنبد کی بہاریں ہیں نِگاہوں میں بسی

شُکرِ حق ارمان دِل کا آج پورا ہو گیا

5

بنک⚠️ پارس ہو گیا فیض نظر سے آپ کے

دیکھتے ہی دیکھتے قطرہ بھی دریا ہو گیا

6

نُور و نکہت کی قلمرو ہے حسین ملکِ حِجاز

یمن سے اُن کے قدم کے کیا تھا کیا ہو گیا

7

ہے نظر ساؔجِد کی اُٹھتے بیٹھتے اُن پر جمی

حل بدفیضان⚠️ عِنایَت اب معمّا ہو گیا