محرابِ جاں

رات دِن خاموش وہ حیرت سراپا ہو گیا

جس کو عِرفانِ حقیقتِ مصطفیٰ کا ہو گیا

لِپٹا پائے شاہ سے تھا صورتِ ذرّہ بلال

مہر کے جلوؤں کی صورت اس کا چرخ⚠️ پا ہو گیا

یا نبیؐ! اپنے نوالوں⚠️ کے تصدّق اِک نظر

جان و دِل میں فرطِ غم سے حشر برپا ہو گیا

سبز گُنبد کی بہاریں ہیں نِگاہوں میں بسی

شُکرِ حق ارمان دِل کا آج پورا ہو گیا

بنک⚠️ پارس ہو گیا فیض نظر سے آپ کے

دیکھتے ہی دیکھتے قطرہ بھی دریا ہو گیا

نُور و نکہت کی قلمرو ہے حسین ملکِ حِجاز

یمن سے اُن کے قدم کے کیا تھا کیا ہو گیا

ہے نظر ساجدؔ کی اُٹھتے بیٹھتے اُن پر جمی

حل بدفیضان⚠️ عِنایَت اب معمّا ہو گیا