محرابِ جاں
1

عالَم میں سب ہے روشنی عالی جناب کی

تابقا⚠️ ہے اُن کی کرن آفتاب کی

2

پوری تمام دِل کی مِرے ہوں گی حسرتیں

کافی ہے اِک نِگاہ رِسالت مآب کی

3

چاہیں وہ جس گھڑی بھریں دامَن فقیر کا

بخشی⚠️ نبیؐ کے پاس ہے رحمت کے باب کی

4

تکوں⚠️ کی اُن کے اے خوشا بھولی ہوئی شفق⚠️

ماخوذ ہے اسی سے یہ رنگت گلاب کی

5

ہاں! چپکے⚠️ اُن کی رحمت و رافت کی داستاں

زاہد! سنا مجھے نہ یہ باتیں عذاب کی

6

پَیکرِ مُصطفٰؐے کے ہے ظاہر خُدا کی ذات

سب کچھ یہاں ہے بات یہاں کیا حِجاب کی

7

ساؔجِد خُدا نے بھر دیا تاروں میں کیا سرُور

آواز جاں نَواز ہے چنگ و رباب کی