← محرابِ جاں
1
دامَن رہا برس کے تر اُن کے سحاب کا
در وا سدا ہے آپ کی رحمت کے باب کا
2
بھیجیں اُنہیں درود کے تحفے بصد خلوص
چارہ یہی ہے دِل کے غم و اِضطِراب کا
3
خُوشبو تمام اُن کے پسینے کا فیض ہے
نُورِ نبیؐ سے جلوہ ہے سب آفتاب کا
4
باغِ بِہِشت رنگِ شفق منظَرِ بہار
پرتو ہیں یہ جمالِ رُخِ لاجواب کا
5
جب سے سنا کہ آئیں گے دُنیا میں آنجناب
تب سے کھلا خُوشی سے ہے چہرہ گلاب کا
6
اُسوۂ رسُولؐ کا ہے رضا ذُوالجلال کی
اُن کا عمل بیان خُدا کی کتاب کا
7
ساؔجِد مِرا شفیع خُدا کا حبیب ہے
دِل کو نہیں ہے غم کوئی روزِ حِساب کا