محرابِ جاں

دامَن رہا برس کے تر اُن کے سحاب کا

در وا سدا ہے آپ کی رحمت کے باب کا

بھیجیں اُنہیں درود کے تحفے بصد خلوص

چارہ یہی ہے دِل کے غم و اِضطِراب کا

خُوشبو تمام اُن کے پسینے کا فیض ہے

نُورِ نبیؐ سے جلوہ ہے سب آفتاب کا

باغِ بِہِشت رنگِ شفق منظَرِ بہار

پرتو ہیں یہ جمالِ رُخِ لاجواب کا

جب سے سنا کہ آئیں گے دُنیا میں آنجناب

تب سے کھلا خُوشی سے ہے چہرہ گلاب کا

اُسوۂ رسُولؐ کا ہے رضا ذُوالجلال کی

اُن کا عمل بیان خُدا کی کتاب کا

ساجدؔ مِرا شفیع خُدا کا حبیب ہے

دِل کو نہیں ہے غم کوئی روزِ حِساب کا