محرابِ جاں
1

شُکرِ حق دِل مُصطفٰؐے کی یاد سے آباد ہے

سرخوش و سَرشار ہے سرمست و محظوظ⚠️ شاد ہے

2

گر درود اُن پر نہ بھیجے جو ہے اُن کا اُمّتی

اس کا اپنی جان پر یہ ظلم ہے بیداد ہے

3

جان و دِل کو کچھ نہیں کٹکا بفیضِ اِلتِفات

دام ہرگِز زین⚠️ گو گلمات⚠️ میں صیّاد ہے

4

جب سے میرا وِرد ہے شاہِ رُسل کا اسمِ پاک

جاں مِری شُکرِ غم و آلام سے آزاد ہے

5

دامَنِ دِل اپنا پھیلا کر رکھیں اہلِ طلب

اب بہیں گی نعمتیں یہ محفِلِ میلاد ہے

6

جاؤں گا بہر زیارت اور بھروں گا جھولیاں

لکھ دیا رحمت نے معروضے پہ میرے صاد ہے

7

اے خُدا! ساؔجِد کو دے توفیقِ کارِ خیر کی

عزم میرا شاہ کی پابندیِ اِرشاد ہے