← محرابِ جاں
شُکرِ حق دِل مصطفیٰ کی یاد سے آباد ہے
سرخوش و سَرشار ہے سرمست و محظوظ⚠️ شاد ہے
گر درود اُن پر نہ بھیجے جو ہے اُن کا اُمّتی
اس کا اپنی جان پر یہ ظلم ہے بیداد ہے
جان و دِل کو کچھ نہیں کٹکا بفیضِ اِلتِفات
دام ہرگِز زین⚠️ گو گلمات⚠️ میں صیّاد ہے
جب سے میرا وِرد ہے شاہِ رُسل کا اسمِ پاک
جاں مِری شُکرِ غم و آلام سے آزاد ہے
دامَنِ دِل اپنا پھیلا کر رکھیں اہلِ طلب
اب بہیں گی نعمتیں یہ محفِلِ میلاد ہے
جاؤں گا بہر زیارت اور بھروں گا جھولیاں
لکھ دیا رحمت نے معروضے پہ میرے صاد ہے
اے خُدا! ساجدؔ کو دے توفیقِ کارِ خیر کی
عزم میرا شاہ کی پابندیِ اِرشاد ہے