محرابِ جاں

سربسر نُورِ خُدا جاں سجا⚠️ آیا

شکلِ انسان میں قُرآن سرایا⚠️ آیا

دِل کی دُنیا میں مِرے غلد⚠️ کا جھونکا آیا

جب نِگاہوں میں مِری عقیدہ⚠️ خضری آیا

شاد و آباد کیا اس کو بدفیضان نظر

آپ کے سامنے جب کوئی بھی روتا آیا

بے دیار آج وہی زوکش⚠️ جنّت لاریب

شجر⚠️ عالَم کو نظر گُل جو تھا صَحرا آیا

آبِ زمزم کو جو دیکھا تو ہوا یہ معلوم

رحمتِ حق کا مِرے سامنے دریا آیا

جلوۂ حق سے دِل و جاں کو مُنوّر کرنے

بزمِ آفاق میں محبوبِ خُدا کا آیا

مرحبا! پَیکرِ رحمت کی وہ آمد ساجدؔ

ہرکہ اسمِ خُدا بسم⚠️ نہ تنہا آیا