محرابِ جاں
1

نبیؐ کے در پہ غم سے کوئی جب بھی جاں بلب آیا

عجب جاں بخش اُس کے دِل میں پیغامِ طَرَب آیا

2

اُنہیں دی دولتِ عِرفان جو بیگانۂ حق تھے

جہاں میں باٹنے⚠️ نعمتِ خُدا کی نُورِ رب آیا

3

وسیلے کا شہِ عالَم کے جو مضمون سمجھے ہیں

خُدا دو جہاں سے مانگنے کا اُن کو ذہب⚠️ آیا

4

خُدا نے کر دیا رحمت سے اپنی مالا مال اُس کو

درِ محبوبِ حق پر جو سوالی با ادب آیا

5

بفیضِ حق وہ دامَن⚠️ آج بھرتا ہے گداؤں کے

نبیؐ کے سامنے جو لے کے گُل عرضِ طلب آیا

6

بہاروں نے وہاں اپنا جمایا رنگ خوشیوں کا

خِیالِ مُصطفٰؐے جس بزمِ دِل میں روز و شب آیا

7

وظیفہ جن کا ہے نامِ نبیؐ شام و سحر ساؔجِد

لبوں پر ایسے لوگوں کے غموں کا ذِکر کب آیا