← محرابِ جاں
نبیؐ کے در پہ غم سے کوئی جب بھی جاں بلب آیا
عجب جاں بخش اُس کے دِل میں پیغامِ طَرَب آیا
اُنہیں دی دولتِ عِرفان جو بیگانۂ حق تھے
جہاں میں باٹنے⚠️ نعمتِ خُدا کی نُورِ رب آیا
وسیلے کا شہِ عالَم کے جو مضمون سمجھے ہیں
خُدا دو جہاں سے مانگنے کا اُن کو ذہب⚠️ آیا
خُدا نے کر دیا رحمت سے اپنی مالا مال اُس کو
درِ محبوبِ حق پر جو سوالی با ادب آیا
بفیضِ حق وہ دامَن⚠️ آج بھرتا ہے گداؤں کے
نبیؐ کے سامنے جو لے کے گُل عرضِ طلب آیا
بہاروں نے وہاں اپنا جمایا رنگ خوشیوں کا
خِیالِ مصطفیٰ جس بزمِ دِل میں روز و شب آیا
وظیفہ جن کا ہے نامِ نبیؐ شام و سحر ساجدؔ
لبوں پر ایسے لوگوں کے غموں کا ذِکر کب آیا