محرابِ جاں
1

جہانِ دِل مِرا رحمت کے اب حِصار میں ہے

نبیؐ کے لُطف و عِنایات سے جاں قرار میں ہے

2

کہاں ہے دِل کے لیے اس سرُور کا عالَم

کہاں ہے کیف مدینے کی جو بہار میں ہے

3

نبیؐ کے در پہ پہنچنا نہیں مِرے بس میں

فقَط ارادہ مِرا میرے اختیار میں ہے

4

غریب خانے پہ تشریف کب وہ لائیں گے

نِگاہِ شوق مِری کب سے انتظار میں ہے

5

اثر وہ آگ میں ہے اور نہ برق و طوفاں میں

غُلامِ شاہ کی جو آتشِ شعلہ بار میں ہے

6

نظر سے شاہِ دو عالَم کی ہو گا یہ کافور

غم و الَم جو مِرے خاطِرِ فگار میں ہے

7

کھڑے ہیں زُہدی⚠️ و عطّار بھی وہاں خاموش

غریب ساؔجِد لب بند کس قطار میں ہے