محرابِ جاں

شاہِ رُسل پَیام لے حق کا آ گئے

اُجڑے ہوئے دیارِ دِلوں کے بسا گئے

دِل میں ہے جن کے یادِ نبیؐ کامراں ہیں

وہ خُوش نصیب گوہرِ مقصود پا گئے

نُورِ بدنی⚠️ حبیبِ خُدا ختمِ انبیا

رحمت کے بے حِساب خزانے لُٹا گئے

یمنِ قدم سے اُن کے پھرے دِن بہار کے

دستِ کرم سے شاہ کیا گُلشن کھلا گئے

قُدسی ہیں با ادب کھڑے جن کے حضور میں

خاکِ حِجاز! وہ تِری قِسِمت بنا گئے

اللہ کے حبیب اشاروں کنایوں میں

سربستہ رازِ حق کا جہاں کو بتا گئے

کیا پُرخلوص لوگ تھے ساجدؔ وہ حق شناس

اُن کے لیے جو جان کی بازی لگا گئے