محرابِ جاں
1

شاہِ رُسل پَیام لے حق کا آ گئے

اُجڑے ہوئے دیارِ دِلوں کے بسا گئے

2

دِل میں ہے جن کے یادِ نبیؐ کامراں ہیں

وہ خُوش نصیب گوہرِ مقصود پا گئے

3

نُورِ بدنی⚠️ حبیبِ خُدا ختمِ انبیا

رحمت کے بے حِساب خزانے لُٹا گئے

4

یمنِ قدم سے اُن کے پھرے دِن بہار کے

دستِ کرم سے شاہ کیا گُلشن کھلا گئے

5

قُدسی ہیں با ادب کھڑے جن کے حضور میں

خاکِ حِجاز! وہ تِری قِسِمت بنا گئے

6

اللہ کے حبیب اشاروں کنایوں میں

سربستہ رازِ حق کا جہاں کو بتا گئے

7

کیا پُرخلوص لوگ تھے ساؔجِد وہ حق شناس

اُن کے لیے جو جان کی بازی لگا گئے