محرابِ جاں

آرام مِری جاں کو اور دِل کو سُکوں ہے

ہے شُکرِ خُدا لُطفِ نبیؐ مجھ پہ فزوں ہے

پُرپیچ ہے گو راہ بہت منزِلِ حق کی

کیا خوف گرم اُن کا اگر راہ نموں⚠️ ہے

اِک اُن کی نظر سے میری بن جائے گی بگڑی

رحمت سے سنور اُٹھے گا جو بخت گموں⚠️ ہے

آباد ہے دِل صلِّی علیٰ یادِ نبیؐ سے

اس نام سے روشن ہی مِری بزمِ دروں ہے

بھیج اُن پہ درود اے غم و آلام کے مارے!

کر یاد اُنہیں حال اگر دِل کا زَبُوں ہے

اللہ کے محبوبِ مکرّم کی عِنایَت

ایوانِ شب و روز کا مضبوط ستوں ہے

ساجدؔ ہو زُباں اور قلم نعت میں مصروف

دِن رات یہی شغل رہے دِل کو جنوں ہے