محرابِ جاں
1

سنگریزے ہیں بنے لعل و بدخشاں کیا کیا

آپ کی راہ کے ہیں ذرّے فُرُوزَاں کیا کیا

2

شاہِ مُرسَل کی ادا کی ہے کہاں کوئی نَظِیر

بے شُمار آئے یہاں سرو خراماں کیا کیا

3

اُن کی رحمت کا نہیں ایک بھی چھینٹے کا جواب

خاک پر برسا ہے گو ابرِ بہاراں کیا کیا

4

باغ افسردہ کھلائے ہیں نبیؐ نے دِل کے

بھر دیے دِل کی تمنّاؤں کے داماں کیا کیا

5

مجلۂ⚠️ جاں میں خِیال اُن کا ہے جلوت⚠️ آرا

مل گیا لُطف و عِنایات کا ساماں کیا کیا

6

اُتر آیا ہے سُکوں دِل کے نِہاں خانے میں

مل گئے شُکرِ خُدا چاکِ گریباں کیا کیا

7

نامِ جب شاہ کا آیا مِرے لب پر ساؔجِد

دیکھتے دیکھتے سب تھم گئے طوفاں کیا کیا