محرابِ جاں

محرابِ جاں

مقطع ↓

محبت کا کہاں چُھپا نہیں ہے

وہ سر کیا جس میں یہ سودا نہیں ہے

جُدا خَلق و خُدا اِک دوسرے سے

کہاں پر انفصال اُن کا نہیں ہے

کھلی رعنا ہے ظاہر حسنِ تاباں

جُدا حُسن کُھلی رعنا نہیں ہے

بظاہر ہے جُدا خالِق سے مخلوق

جدائی باطناً اصلاً نہیں ہے

وہی عابد وہی معبود برحق

وہ ہم رتبے ہیں یوں حاشا نہیں ہے

اگرچہ حرف و معنی ہیں بیک جا

جُدا کیا حرف سے معنی نہیں ہے

ہے ساجدؔ ذاتِ حق ربِّ محمدؐؐ

یہ محرابِ جاں پھر کیا نہیں ہے