← محرابِ جاں
محرابِ جاں
مقطع ↓1
محبت کا کہاں چُھپا نہیں ہے
وہ سر کیا جس میں یہ سودا نہیں ہے
2
جُدا خَلق و خُدا اِک دوسرے سے
کہاں پر انفصال اُن کا نہیں ہے
3
کھلی رعنا ہے ظاہر حسنِ تاباں
جُدا حُسن کُھلی رعنا نہیں ہے
4
بظاہر ہے جُدا خالِق سے مخلوق
جدائی باطناً اصلاً نہیں ہے
5
وہی عابد وہی معبود برحق
وہ ہم رتبے ہیں یوں حاشا نہیں ہے
6
اگرچہ حرف و معنی ہیں بیک جا
جُدا کیا حرف سے معنی نہیں ہے
7
ہے ساؔجِد ذاتِ حق ربِّ محمدؐؐؐؐ
یہ محرابِ جاں پھر کیا نہیں ہے