محرابِ جاں

ذاتِ حق

مقطع ↓

سمَجھ آیا اُسے رازِ محبت کہرُبائی کا

تماشائیں نُوا⚠️ ہے جو خُدا کی خود نمائی کا

خدیو و میر و سُلطاں ہیں مظاہرِ حکمِ داوَر کے

میاں شاہوں سے ہے جلوہ خُدا کی کبریائی کا

خُدا کے اپنے پرتو ہیں ذاتِ خلّاقِ کُل کے

وسیلے ہیں وہی کمالِ⚠️ خُدا سے آشنائی کا

نہیں ہے بُعد بَین خالِق و مخلوق کوئی بھی

نہیں فرقت کا غم کوئی نہ اندیشہ جدائی کا

ہے ذاتِ حق نِہاں عالَم میں عالَم ذات کا جلوہ

ہے یکتا⚠️ ہے ذوقی⚠️ یہ مسئلہ عُقدہ کشائی کا

بھلانا حسنِ موہوم کا ہے وَصل کی خاطِر

بہت دُشوار ہے حق تک خِیال اپنا رسائی کا

نِشاں ملتا نہیں⚠️ ہے خُدا کی ذات کا ساجدؔ

یہ اِک اعلیٰ کرشمہ ہے جمالِ مصطفائی کا