← محرابِ جاں
اُمید
مقطع ↓ہے مجھے یارب اتنے لُطف و عِنایَت کی اُمید
تیرے غلوِّ⚠️ بے کراں سے تیری رحمت کی اُمید
تُو اگر چاہے تو پتھر بھی بنے لعل و گُہر
تُجھ سے ہے فضل و کرم کی اور رافت کی اُمید
ہے تِرے ہی ذِکر سے حاصل سرُور و سرخوشی
لازم ہے جاں و دِل کو تُجھ سے راحَت کی اُمید
تیری رحمت سے حسین و دِلنشیں بزمِ وجود
تُجھ سے ہے اجزائے عالَم کو محبت کی اُمید
ہے رگ و ریشے میں عالَم کے تِرا نُورِ جمال
خَلق کو ہے ہر گھڑی تُجھ سے حمایت کی اُمید
اِذن سے تیرے کریں گے مصطفیٰ ہم پر کرم
ہے ہمیں روزِ حِساب اُن سے شفاعت کی اُمید
تیرے ہی خوانِ کرم سے چُن رہے ہیں سب مزے
ذائقے کی آس ساجدؔ کو ہے لذّت کی اُمید