محرابِ جاں

شُکر

مقطع ↓
1

ہو شُکر کیسے ادا لُطفِ کبریائی کا

خُدا نے شوق دیا ذمّہ⚠️ سرائی⚠️ کا

2

میں مُنتَظر ہوں سدا رحمتِ خدائی کا

ملے گا حکم غلاموں سے مجھے رہائی کا

3

مِرے خُدا! ہے تِرا نُور ذرّے ذرّے میں

رواں ہے سکّہ دِلوں پر تِری خدائی کا

4

مَرا گُزر نہ کبھی اُن کی بے نگری سے ہو

جگہیں⚠️ ہے ذخم بہت زُہد و پارسائی کا

5

جو حرف کِن سے یہ پردے وجود میں آئے

سب تماشا خُدا کی ہے خود نمائی کا

6

تِرا صحیفہ⚠️ مکرّم تِرا ہمی⚠️ نسخہ پارسا!

مرّخ⚠️ شوق ہے بے مِثل نکتہ⚠️ دلربائی کا

7

معاملہ ہے یہ مخلوق کا عجب ساؔجِد

اِس اپنے خالِقِ برحق سے آشنائی کا