← محرابِ جاں
ربِّ عالَم!
مقطع ↓روز و شب رہتا ہے دِل کو مِرے لگا تیرا
ربِّ عالَم! نہیں کھلتا ہے معمّا تیرا
ہے تیرے ذِکر سے خوشیوں کا مِرے دِل میں بہوم⚠️
ہے بپا میری نِگاہوں میں تماشا تیرا
ہے مَشیّت کا تِری سکّہ رواں عالَم میں
لائقِ⚠️ ہوتا ہے وہ جیسا ہو ایسا تیرا
ایک اِک شے میں نِہاں نُور تِری ہستی کا
ذرّے ذرّے سے عَیاں حسن ہویدا تیرا
ذات کے جلوۂ رعنا کی ہیں ساری شکلیں
کچھ نہیں ما و شما اور نہ میرا تیرا
جِسم مردہ کو کرے زِندہ تِری شانِ کرم
خشک کو سبز کرے لُطف کا چھپکا⚠️ تیرا
اے خُدا! ساجدؔ حَسرت ہے تِرے در کا فقیر
اس کو دُنیا میں اگر ہے تو سہارا تیرا