محرابِ جاں

ربِّ عالَم!

مقطع ↓
1

روز و شب رہتا ہے دِل کو مِرے لگا تیرا

ربِّ عالَم! نہیں کھلتا ہے معمّا تیرا

2

ہے تیرے ذِکر سے خوشیوں کا مِرے دِل میں بہوم⚠️

ہے بپا میری نِگاہوں میں تماشا تیرا

3

ہے مَشیّت کا تِری سکّہ رواں عالَم میں

لائقِ⚠️ ہوتا ہے وہ جیسا ہو ایسا تیرا

4

ایک اِک شے میں نِہاں نُور تِری ہستی کا

ذرّے ذرّے سے عَیاں حسن ہویدا تیرا

5

ذات کے جلوۂ رعنا کی ہیں ساری شکلیں

کچھ نہیں ما و شما اور نہ میرا تیرا

6

جِسم مردہ کو کرے زِندہ تِری شانِ کرم

خشک کو سبز کرے لُطف کا چھپکا⚠️ تیرا

7

اے خُدا! ساؔجِد حَسرت ہے تِرے در کا فقیر

اس کو دُنیا میں اگر ہے تو سہارا تیرا