محرابِ جاں

یادِ خُدا

مقطع ↓
1

ساز و آہنگ ہے یا قافیہ پیمائی ہے

یادِ یزداں میں یہ سب زمزمہ آرائی ہے

2

یادِ اللہ کی پیوست ہو دِل میں دائم

اس نَوازِش کی مِری جاں تمنّائی ہے

3

یادِ باری کے ہے فیضان سے روشنی ساری

اس کی برکت سے مُنوّر مِری تنہائی ہے

4

جو نظر آتا ہے وہ نُورِ خُدا ہے لاریب

سب اسی ذات کی یک رنگی دکھائی ہے

5

جلوہ گر عرش سے تا فرش وہی ہے ورنہ

کس کے اَنوار سے یہ حسن یہ زیبائی ہے

6

پَیکرِ شاہ سراسر ہے تخلیقِ خُدا

شاہ کے حُسن سے عالَم کی یہ رَعنائی ہے

7

بزمِ مِدحت میں شرف یاب ہوا ہے ساؔجِد

رحمتِ ربِّ جہاں وجہ پذیرائی ہے